Shehr e ishq novel by Mari Khan
مہر تم نے شاہ زین بھائی سے کیوں کہا تم ان سے دوستی کرکے پچھتا رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے انھیں کتنا ہارٹ ہوا ۔
زویا میں نے بس اس سے مزاق کیا تھا ۔وہ سیرس ہوگیا ہے ۔
مہر ایسا مزاق کون کرتا ہے تم ہمیشہ ایسا کرتی ہوں انکے ساتھ ؟ نہیں پسند تھے تو دوستی کیوں کی؟ دوست بھی ہے پسند بھی ہے اور پچھتا بھی رہی ہوں سوچ سمجھ کر بولا کرو سمجھی؟
زویا ۔مہر کی آ نکھیں نم ہونے لگی ،
مہر اگر کوئی تمہیں بولے گا تمہیں کیسا لگے گا
زویا میں لڑکوں کو پھنسا نے والی ہوں ؟ از نے روتے ہوئے کہا؟
میں عمر سے محبت کرتی ہوں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں میں ابھی تک ان سے بدتمیزی نہیں کرتی اور تم انھیں اتنا سناتی ہو۔
نہیں کرتی میں اسکے بے عزتی میں اسکی عزت کرتی ہوں پیار سے بات کرتی ہوں ۔زویا میں نے ایک نامحرم سے دوستی کی ہے لکین مجھے اس سے انسیت ہوگی ہے م کیوں اسے مانگ رہی ہوں بار بار ۔میں نے بس مزاق کیا اسے کیا مجھے چھوڑ کر نہیں جانا زویا میں اس سے محبت کرتی ہوں عارض کے بعد میں سے صرف اسے رب سے مانگا ہے میری نیت نکاح کی ہے تم کیوں مجھے اتنا سنا رہی ہوں وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔
