Laiba Ather

Kabhi na hon juda by Laiba Ather Download pdf

Kabhi na hon juda by Laiba Ather Download pdf

Kabhi na hon juda by Laiba Ather Download pdf ] is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.

Summary About

Download link Online Reading

ناول: کبھی نہ ہوں جدا — دوستی، بچپن اور رشتوں کی خوبصورت داستان

تعارف

“کبھی نہ ہوں جدا” معروف رائٹر لائبہ اطہر کا ایک دل کو چھو لینے والا خاندانی ناول ہے جو بچپن کی یادوں، کزنز کی لازوال دوستی اور خونی رشتوں کی مضبوطی کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔

یہ کہانی ہمیں اُن سنہری دنوں میں واپس لے جاتی ہے جب نانی کا گھر صرف ایک جگہ نہیں بلکہ خوشیوں، قہقہوں اور بےفکری کا دوسرا نام ہوا کرتا تھا۔ ناول میں بچپن کی شرارتیں، خواب، معصوم لڑائیاں اور ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکنے والی محبت کو حقیقت کے رنگوں میں پیش کیا گیا ہے۔


کہانی کا خلاصہ

کہانی چار کزن بہنوں کے گرد گھومتی ہے جن کی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ نانی کے گھر گزارے گئے دن ہیں۔ اسکول کی چھٹیاں، مشترکہ کھیل، خوابوں سے بھری باتیں اور مستقبل کے سنہرے ارادے — سب کچھ اس گھر سے جڑا ہوا ہے۔

وقت کے ساتھ زندگی بدلتی ہے، راستے جدا ہوتے ہیں اور ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، مگر دلوں میں بسے رشتے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ناول یہ پیغام دیتا ہے کہ فاصلے چاہے کتنے ہی کیوں نہ آ جائیں، سچی محبت اور خاندانی بندھن ہمیشہ انسان کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔


ناول کا مرکزی پیغام

✨ بچپن کی یادیں زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں
✨ خون کے رشتے وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوتے
✨ سچی دوستی فاصلے برداشت کر لیتی ہے
✨ خاندان انسان کی اصل طاقت ہوتا ہے


کرداروں کا تعارف

شمیم بیگم (نانو):
خاندان کی بزرگ ہستی جن کا گھر سب بچوں کے لیے خوشیوں کا مرکز ہے، مگر دل میں اپنوں کی جدائی کا درد بھی چھپائے رکھتی ہیں۔

لائبہ:
چاروں کزنز میں سب سے بڑی، سمجھدار اور قیادت کرنے والی لڑکی جو مستقبل میں وکیل بننے کا خواب دیکھتی ہے۔

ربیعہ:
جوشیلی اور قدرے غصیلی طبیعت کی مالک، جس کی خواہش پائلٹ بننے کی ہے۔

اجالا:
باتونی اور پُرجوش لڑکی جو نیوز اینکر بن کر دنیا کے سامنے اپنی آواز پہنچانا چاہتی ہے۔

ایمان:
سب سے چھوٹی اور معصوم کزن، جس کی شرارتیں گھر کی رونق بنی رہتی ہیں۔

Short Sneak Peak Of Story


دیکھیں مجھے پتہ ہے مجھے میری بیٹی  کا رشتہ کن لوگوں میں کرنا ہے۔۔۔ میں اس کا باپ ہوں اس کا اچھا برا بہت اچھے سے سمجھتا ہوں ۔۔۔ اور میں ایسے ہی کسی کے گھر منہ اٹھا کر نہیں جاتا اس لیے میں نے گھر آنے سے معزرت کی ۔۔۔

وہ لوگ اس وقت ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے کیونکہ لڑکی کے باپ نے گھر آنے سے انکار کردیا تھا تو اجالا ان دونوں کو لیکر یہاں آگئی تھی ۔۔

انکل آپ جن لوگوں میں اپنی بیٹی کا رشتہ کر رہے ہیں۔۔۔ ان کا پورا گھر حرام پر چلتا ہے اور وہ لڑکا بلکہ آدمی وہ تو انسان کے روپ میں جانور ہے جو آپ کی بیٹی کو رخصت نہیں کر رہا بلکہ خرید رہا ہے ۔۔۔ اور آپ اپنی بیٹی کو بیچ رہے ہیں ۔۔۔۔ اجالا سپاٹ لہجے میں کہہ رہی تھی ۔۔

زبان سنبھال کر بات کرو لڑکی ۔۔ تم جانتی نہیں ہو ابھی مجھے ۔۔۔ وہ تیز لہجے میں بولا ۔۔ ربیعہ نے اسے ناگواری سے دیکھا ۔۔۔

تھوڑا آرام سے نہیں بولا جارہا آپ سے انکل ۔۔ دیکھ نہیں رہے آپ۔۔۔  ہم کھانا کھا رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ دونوں کھانے میں ایسے مصروف تھیں جیسے وہاں موجود ہی نہ ہوں ۔۔

میرے خیال سے میں اپنی بات کہہ چکا ۔۔۔ وہ اٹھنے لگے ۔۔

ارے ۔۔۔ ابھی کہاں انکل جی ۔۔۔ ابھی تو آپ نے کچھ کھایا بھی نہیں ۔۔ ہم اپنے مہمانوں کو ایسے تھوڑی جانے دیتے ہیں ۔۔۔ایمان فوراً بولی تھی ۔۔۔

نہیں ۔۔ بہت شکریہ اور آئیندہ سے میری بیٹی کے معاملے سے دور رہنا تم لوگ ۔۔۔

بیٹھیں یار ۔۔۔۔ ایک بار کی بات سمجھ کیوں نہیں آرہی آپ کو ۔۔۔ ربیعہ نے ایک دم غصے سے ٹیبل پر چمچ مارا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگے پھر بیٹھ گئے ۔۔۔ ربیعہ طنزیہ مسکرائی ۔۔۔

دیکھو تم لوگ مجھے زبردستی نہیں روک سکتیں اور میرا فیصلہ بھی نہیں بدل سکتیں ۔۔۔۔ وہ اس بار تھوڑا نرم لہجے میں کہہ رہے تھے ۔۔۔

کیپ اتاریں ۔۔۔۔ ایمان کے اچانک کہنے پر ربیعہ اور اجالا نے اسے حیرت سے دیکھا ۔۔۔

کیا ۔۔۔ ؟۔۔۔۔ فیروز انکل نے حیرت سے پوچھا جیسے وہ بات سمجھ کر بھی نا سمجھ پارہے ہوں ۔۔

ایک تو ۔۔ بزرگ لوگوں کی ایک بات مجھے بہت بری لگتی ہے ۔۔ سنتے کم ہیں یہ بزرگ لوگ ۔۔ ارے بابا جی میں نے کہا کیپ اتاریں اپنا ۔۔۔ ایمان نے بیزاریت سے کہا تو اجالا اور ربیعہ نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔ وہ چیخے ۔۔

ہاہاہاہا ۔۔۔ ڈر کیوں رہے ہیں ۔۔؟۔۔۔ صرف کیپ اُتارنے کا تو کہہ رہی ہے وہ ۔۔۔ ربیعہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔

وہ سوچنے لگے ۔۔۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد انہوں نے اپنا کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھا ۔۔۔ اور وہ دونوں گلا پھاڑ کر ہنسنے لگیں ۔۔۔ اجالا نے اپنا سر پیٹ لیا ۔۔۔ وہ یہاں کیا بات کرنے آئی تھی اور ان دونوں نے اپنا ہی شغل میلا لگا لیا تھا ۔۔۔

یہ کس قسم کا مزاق ہے ۔۔۔؟۔۔۔ وہ غصے سے لال پیلے ہونے لگے تھے ۔۔۔

ارے انکل ۔۔۔ آپ تو ۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔ آپ تو بیچ میں سے ۔۔۔ ٹکلے ہیں ۔۔۔۔ ربیعہ نے ہنستے ہوئے بہت مشکل سے کہا جبکہ ایمان کا ہنس ہنس کر برا حشر ہوگیا تھا ۔۔ اجالا سے بھی اپنی ہنسی روکنا مشکل ہوگیا وہ بھی ہنسنے لگی ۔۔۔

اچھا ۔۔۔ تو تم لوگوں نے مجھے یہاں ذلیل کرنے کے لئے بلایا تھا ۔۔ مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا ۔۔۔ میں اپنی بیٹی کی شادی وہیں کروں گا جہاں میری مرضی ہوگی ۔۔ اور کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ مجھے روکے ۔۔۔ وہ کہہ کر اٹھنے لگے ۔۔۔

ایک منٹ ۔۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔ بیٹھیں زرہ ۔۔۔ ایک تو ہر بات پر آپ اٹھ کر بھاگنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ مانا کہ پچھلے جنم میں آپ گھوڑا ہوا کرتے تھے مگر اب تو انسان ہیں نہ تھوڑی انسانوں والی حرکتیں کریں ۔۔۔ ربیعہ نے ان کا کیپ اٹھا لیا تھا ۔۔۔

سوری انکل ۔۔۔ یہ دونوں تھوڑی شرارتی ہیں ۔۔۔ میں واقعی میں آپ کی بیٹی کا بھلا چاہتی ہوں ۔۔ ایک بار آپ لڑکے سے مل تو لیں ۔۔ یقیناً وہ آپ کو بہت پسند آئے گا ۔۔۔ اُجالا نے ان سے معزرت کرتے ہوئے کہا ۔۔

سوچ لیں ۔۔۔ اور سوچ کر ہی جواب دیئے گا ۔۔ مہنگا نہ پڑھ جائے انکار آپ کو آپ کا ۔۔۔ ایمان ان کا کیپ انگلیوں پر گھماتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔

اسے میں دھمکی سمجھوں ۔۔۔؟۔۔۔۔۔ ان کے چہرے پر سخت ناگواری چھائی ہوئی تھی ۔۔۔

عقل ہے تو سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔ ورنہ چھوڑیں ۔۔ یہ بزرگ لوگوں کو سمجھ آنے والی بات نہیں ہے ۔۔۔ ربیعہ نے اطمینان سے کہا ۔۔۔

میرا کیپ ۔۔۔۔ ؟۔۔۔ انہوں نے کیپ کی طرف دیکھ کر کہا جس سے ایمان کھیلنے میں لگی تھی ۔۔۔

او ہاں ۔۔۔ یہ لیں ۔۔۔ اور ہاں ۔۔ اگلی بار دوسرا کیپ پہن کر آنا ۔۔۔ لڑکے پر اچھا خاصا رعب بیٹھنا چاہیے لڑکی کے باپ کا ۔۔ یہ گندا بدبو والا مت پہن لینا ۔۔۔ ایمان ان کو ایسے سمجھا رہی تھی جیسے وہ کوئی چھوٹے بچے ہوں ۔۔

وہ جانے لگے تو ربیعہ نے پھر انہیں آواز دی ۔۔۔

انکل ۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔ ادھر آئیں ۔۔۔ اس کے بلانے پر وہ آکر کھڑے ہوگئے ۔۔۔

ویٹر ۔۔۔۔ ایمان نے ہاتھ بڑھا کر ویٹر کو بلایا ۔۔۔ اجالا ان دونوں کو گھورنے لگی جس کا ان پر کہاں اثر ہونے والا تھا ۔۔

بل ہمارے چاچو دیں گے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے چاچو ۔۔ آپ بل دے کر آجائیں ہم باہر گاڑی میں ویٹ کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ویٹر کے آنے پر ربیعہ اسے کہنے لگی۔۔۔ وہ سر ہلا کر اب فیروز انکل کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

****************

At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:

Discover the Voice of Stories – Likhari YouTube Channel

Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.

🎙️ What Is Likhari?

Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.

Channel Link ; Likhari Online Magazine Channel

All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List

“Enjoyed This Novel? Discover More Stories Like It”

  1. Professor Khan ( Season 2 Professor Shah) by Zanoor Writes Complete PDF
  2. Tere ishq mein kya maine paya by Syeda Sehar Syedzadi Complete novel download pdf
  3. Dar e ishq per by Syeda Sehar Syed Zaadi Complete novel pdf
  4. “If This Novel Captivated You, Try These Reads”
  5. “Looking for More Like This? Explore Similar Stories”

📝 Are You an Urdu Writer?

اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔

ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔

📌 Connect with us:

Instagram: ezreaderschoice_likharichannel

TikTok ID ; likhari.magazine

Email address: readerschoicemag@gmail.com


How to Download Novels from Ez Reader’s Choice Novels

“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:

  1. Choose Your Novel
    • Visit the novel page and click on the link for the novel you wish to download.
  2. Select Download Option
    • You’ll see two options: Download and Read Online. To download, simply click on the Download button.
  3. Scroll to Find the Novel Name
    • After clicking the download option, a link will appear on your screen. Scroll down, and you’ll see the novel name highlighted in an Orange Box.
  4. Skip the Pop-up
    • A pop-up window will appear. Click the Skip button located at the right side of the pop-up to proceed.
  5. Wait for the Novel Link
    • After skipping the pop-up, wait for about 10 seconds. The name of the novel will appear in a Black Box on your screen.
  6. Download Your Novel
    • “Click on the novel name to be redirected to a new page, where you’ll find the MediaFire link to download the novel.”.

That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.

Mubarra

Recent Posts

Noor e zeest by Rubah Ali Download pdf

Noor e zeest by Rubah Ali Download pdf | Noor e zeest by Rubah Ali…

11 hours ago

Mehfil woh yaaron ki by Yusra Meerab Download pdf

Dosti Aur Mohabbat Ki Kahani | Urdu Story About True Friendship & Pure Love Mehfil…

11 hours ago

Aks by Samra Parvez Khan Download pdf

Aks By Samra Parvez Khan | Urdu Story on Loneliness, Relationships & Modern Society Aks…

11 hours ago

Teesara kamra- zameer ki awaz afsana by Saniya Saeed and Amna Sehr Download pdf

Teesara kamra- zameer ki awaz afsana by Saniya Saeed and Amna Sehr Download pdf |…

2 days ago

Sham e abroo afsana by Uqba Ahmed Download pdf

Shaam e Aabroo By Uqba Ahmed | Urdu Story on Ego, Self-Realization & Spiritual Growth…

2 days ago

QaidKhany afsana by Aleena Kazmi Download pdf

Qaid Khanay By Alina Kazmi | Urdu Story on Women Empowerment & Social Boundaries QaidKhany…

3 days ago