Naik bakht by Falakshah Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
نیک بخت فلک شاہ کی ایک خوبصورت، اصلاحی اور روح کو چھو لینے والی تحریر ہے۔ یہ ناول ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو بظاہر اس ہجومِ دنیا میں اکیلی ہے، مگر حقیقت میں تنہا نہیں، کیونکہ اس کا ساتھ دینے والا رب ہے — وہ رب جو ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرنے والا ہے۔
یہ کہانی امید، صبر، حیا، ایمان اور اللہ پر کامل بھروسے کی علامت ہے۔ ایک ایسی معصوم لڑکی جو اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتی ہے — نور، یعنی کرن۔
یہ ناول حیا، صبر، ایمان اور معافی جیسے اعلیٰ انسانی اوصاف کی خوبصورت تصویر ہے۔
ناول کی کہانی نور (کرن) کے گرد گھومتی ہے، جو ایک نہایت معصوم، پرہیزگار اور باحیا لڑکی ہے۔
وہ ایک ظالم اور سفاک گھرانے میں قید ہے جہاں اسے “نورے” کہہ کر ذلیل کیا جاتا ہے، مگر اس کا دل اور کردار “نور کی کرن” کی طرح روشن ہے۔
کہانی سکھر کے دیہی پس منظر سے شروع ہوتی ہے، جہاں خاندانی سازشیں، لالچ اور ہوس پر مبنی رشتے نور کی زندگی کو قفس بنا دیتے ہیں۔
مگر نور ہر آزمائش میں قرآن اور اللہ کے ذکر سے صبر و سکون پاتی ہے۔
کہانی کی ہیروئن، 17 سالہ معصوم لڑکی، جو ایمان، حیا اور صبر کی اعلیٰ مثال ہے۔ وہ بارش کی ایک رات اپنے اصل خاندان سے بچھڑ جاتی ہے اور برسوں ظلم سہنے کے باوجود رب پر بھروسہ نہیں چھوڑتی۔
ایک باوقار، غیرت مند اور سنجیدہ نوجوان۔ وہ اپنی پھپھو صنم کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب لینا چاہتا ہے اور اپنی گمشدہ کزن کرن کی تلاش میں ہے۔
عرشمان کا بھائی، ایک کامیاب بزنس مین۔ اپنی بیوی زرش کی سردمہری کے باوجود اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔
ریحان کی بیوی، جو ماضی کے زخموں کی وجہ سے محبت قبول کرنے سے گھبراتی ہے، مگر انجام میں اپنے دل کی سچائی مان لیتی ہے۔
عرشمان کا قریبی دوست، پروفیسر اور رئیس خاندان سے تعلق رکھنے والا سنجیدہ انسان، جو مہرماہ کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔
قدیر لشاری اور راشدہ بیگم — جنہوں نے نور پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور انجام کار عبرتناک انجام کو پہنچے۔
کہانی کا آغاز سکھر کے ایک گاؤں سے ہوتا ہے جہاں نور کو نوکرانی سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔ اسے زبردستی قدیر لشاری سے منسوب کر دیا جاتا ہے،
مگر وہ ہر حال میں اپنی عزت اور ایمان کی حفاظت کرتی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں عرشمان اور اس کا خاندان اپنی گمشدہ کزن کرن کی تلاش میں ہے۔
صنم، جو سترہ برس سے بیٹی کی جدائی کا غم سہہ رہی ہے، تقدیر کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔
بالآخر وقت وہ لمحہ لے آتا ہے جب نور کی اصل شناخت سامنے آ جاتی ہے اور حق، باطل پر غالب آ جاتا ہے۔
ناول کے آخری حصے میں زرش اور ریحان کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہوتی ہیں، اور نور و عرشمان ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔
اختتام نہایت روحانی اور دل کو چھو لینے والا ہے، جہاں عرشمان منہ دکھائی میں نور کو قرآن مجید تحفے میں دیتا ہے اور دونوں سورۃ الرحمن کی تلاوت کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔
نیک بخت اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ:
“جس کا کوئی نہیں ہوتا، اس کا اللہ ہوتا ہے”
وہ غصے سے پاگل ہوتی بولی وہ عورت موٹی جسامت کی
مالک تھی بھدے سے نین نقوش کمان کی طرح پتلی بھنویں جو اس عورت کی چالاکی کی عکاسی کرتے تھے ناک کے نتھنے غصے سے پھولے ہوئے تھے یقیناً وہ بہت غصے میں تھی
۔۔۔عام سےنین نقوش والے مردکو بولی جو اس کا بیٹا قدیرلشاری تھا۔۔۔
۔امابھڑک کیوں رہی ہے لگتا ہےآ ج بھی کوئی منحوس خواب دیکھ لیا ہے نورے نے جو تو اتنا غصےمیں ہے وہ خباثت سے ہنس کر بولا
ہاں کم بخت ماری نے دیکھا ہے کہ تیری شادی ہو رہی ہے اور تو اسی دن لڑک گیا ہے وہ اتنے
سکون سے بولی مانو اس کے بیٹے کی نہیں کسی اور کی بات کر رہی ہو
ہائے اماں تونے تو کہا تھا اس سے میری شادی کروائے گی اب مینے شادی ہی نہیں کرنی وہ حلق تر کر کے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے تجھے مجھے پتا ہے ناس پیٹی نے جھوٹ بولا ہے تاکہ اس کی جان چھوٹ جائے تجھ سے بڑی بد بخت ہے
بس بس زیادہ شوخا نا بن تو اس نے منہ بنا لیا ۔۔۔ میں بڑی تنگ ہوں اس سے فرزانا کے لئے جو لوگ آتے ہیں اس کو دیکھ کر لٹو ہو جاتے ہیں
اور اسے پسند کر جاتے ہیں وہ نخوت سے بولی ابھی تو سترا سال کی ہے وہ آگے پتا نہیں کون سی قیامت لائے گی۔
منحوس بس تیری وجہ سے اسے رکھا ہوا ہے چھتیس سال کا ہو گیا ہے تو تجھ جیسے ناکارہ کو کوئی بیٹی نہیں دے گا ۔۔۔
چھوٹے سے ڈربے نما کمرے میں کاٹھ کباڑ کا سامان رکھا تھا وہاں وہ مصلے پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی
باہر سے آنے والی آوازوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس کا چہرہ پر سکون تھا
اس نے ہاتھ منہ پر پھیرے اور باہر نکلی اسے پتا تھا اس کی شامت آنے والی ہے روز کا معمول بن گیا تھا یہ تو اب اسے عادت سی ہو گئی تھی
۔۔۔پتا ہے نا قدیر کو بھوک لگتی ہے بہت اس ٹائم وہ آتا ہے ۔
۔وہ اما مینے کھانا تو بنا لیا تھا میں بس ابھی گرم کر کے دیتی ہوں بھائی کو کھانا۔
کرم جلی مجھے اما نا بولا کر اماں نہیں ہوں تیری تجھے تو آدھی رات کو کوئی برستی بارش میں چھوڑ کر گیا تھا
پتا نہیں جتنی معصوم اور پرہیزگار تو بنتی ہے اتنی شفاف ہے بھی کہ نہیں اور ایک اور بات قدیر تیرا بھائی وائی نہیں ہے تیرا منگ ہے سمجھیں ۔
نورے ارے او نورے فرزانا دندناتی ہوئی اس کے سر پر پہنچی تم نے میرا جوڑا کیو استری نہیں کیا۔۔۔ ہاں مہرانی اب پھوٹو بھی منہ سے ۔
۔وہ آپی میں بس ابھی کر دیتی ہوں آپ لائیں مجھے دیں بس کھانا گرم کر کے پھر کرتی ہوں۔۔
۔ارے آؤ چڑیا کیسی ہو وہ خباثت سے ہنستے ہوئے بولا اور اس کی کلائی پکڑ لی کہاں چلی تھوڑی دیر تو بیٹھ جا میرے پاس ۔۔۔
قدیر بھائی چھ چھوڑیں میرا ہاتھ وہ روتے ہوئے بولی ۔۔
ارے ارے رو تو مت جانے من آنا تو ویسے بھی تجھے میرے پاس ہی ہے ۔۔وہ کہتا اس کی کلائی چھوڑ گیا
تو وہ جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی ۔۔اپنے کمرے میں آکر دروازا بند کیا اور روتی ہوئی بیٹھ گئی ۔
میرے اللہ جی مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں بس میرے سوہنے رب میری عزت کی حفاظت کرنا باقی سب پر میں صبر
کر لوں گی میرے مالک میں اماں کو کیسے سمجھاؤں میں سچ بول رہی ہوں اگرمیری شادی
ان سے ہوئی تو وہ مر جائیں گے پر انہیں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں پر اللہ جی آپ تو سب جانتے ہیں نا ۔۔۔وہ سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
****************
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Noor e zeest by Rubah Ali Download pdf | Noor e zeest by Rubah Ali…
Dosti Aur Mohabbat Ki Kahani | Urdu Story About True Friendship & Pure Love Mehfil…
Aks By Samra Parvez Khan | Urdu Story on Loneliness, Relationships & Modern Society Aks…
Teesara kamra- zameer ki awaz afsana by Saniya Saeed and Amna Sehr Download pdf |…
Shaam e Aabroo By Uqba Ahmed | Urdu Story on Ego, Self-Realization & Spiritual Growth…
Qaid Khanay By Alina Kazmi | Urdu Story on Women Empowerment & Social Boundaries QaidKhany…