Shikayat nama by Abbsa Ali Shah Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
“شکایت نامہ” عباس علی شاہ کے قلم سے نکلی ایک تلخ، حقیقت پسند اور سماج کو بے نقاب کرتی ہوئی داستان ہے۔ یہ ناول معاشرے کے پِسے ہوئے طبقے، طاقتور اور کمزور کے درمیان انصاف کے دوہرے معیار، اور اس خاموش ظلم کی کہانی ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا۔
یہ کہانی محض ایک فرد کی نہیں، بلکہ اُن ہزاروں شکایتوں کی آواز ہے جو سنی نہ جائیں تو انتقام، بغاوت اور درندگی میں ڈھل جاتی ہیں۔
ناول اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ:
جب انصاف کے دروازے بند کر دیے جائیں، تو انسان کے اندر کا انسان مر جاتا ہے،
اور وہاں ایک باغی، ایک حیوان جنم لیتا ہے۔
یہ کہانی ایک معصوم بچے کے سفر کی ہے جو غربت، تشدد اور سماجی بے حسی کے باعث آہستہ آہستہ سخت گیر وجود میں بدل جاتا ہے۔
ایک حساس، خاموش اور ذہین لڑکا، جس کی زندگی محرومیوں سے شروع ہوتی ہے۔ وہ ایسا “ہیرو” ہے جسے حالات نے “ولن” بننے پر مجبور کر دیا۔ اس کی ڈائری میں لکھی گئی شکایتیں دراصل اس کے ٹوٹے ہوئے بچپن اور زخمی روح کی گواہی ہیں۔
ایک پراسرار، بااثر اور طاقتور شخصیت، جو عدیم کے اندر موجود غصے اور چنگاری کو پہچان لیتا ہے۔ وہ عدیم کے مقدر کا وہ موڑ ہے جہاں مظلومیت طاقت میں بدلنے لگتی ہے۔
طاقت، غرور اور انا کی علامت۔ ایک ایسا کردار جو قانون کو اپنے قدموں تلے روندتا ہے اور کمزوروں کو کچلنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔
کہانی کی واحد نرم، مثبت اور انسانیت کی نمائندہ شخصیت۔ وہ عدیم کے اندھیرے دل میں محبت اور انسانیت کی آخری رمق کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
ناول کا آغاز بارش کے بعد کی ایک کچی گلی سے ہوتا ہے، جہاں دس سالہ عدیم ننگے پاؤں بھاگ رہا ہے۔ یہ منظر اس کی پوری زندگی کی علامت بن جاتا ہے — بھاگتا ہوا، ڈرتا ہوا، مگر خاموش۔
عدیم کا بچپن نشئی باپ کے تشدد اور سماجی بے حسی کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسکول میں استاد اس کی کاپی پھاڑ کر اسے “جوتے پالش کرنے والا” کہتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں عدیم کے دل میں پہلی “شکایت” جنم لیتی ہے۔
وقت کے ساتھ عدیم کی شکایتوں کی کاپی بھرتی جاتی ہے۔ ہم جماعتوں کے مذاق سے تنگ آ کر وہ قلم سے حملہ کر دیتا ہے اور اسکول سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں عدیم کو احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں حق مانگنے سے نہیں، طاقت سے ملتا ہے۔
اسی ہنگامے میں ایک پراسرار آنکھ اسے دیکھ رہی ہوتی ہے — عفان منیر۔ وہ عدیم کے اندر موجود غصے اور صلاحیت کو پہچان لیتا ہے۔
پولیس عدیم کو گرفتار کر کے تھانے لے جاتی ہے، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حوالدار کے الفاظ:
“یہاں حق مانگنا سب سے بڑا جرم ہے”
اسی لمحے عفان منیر اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پر تھانے میں داخل ہوتا ہے اور عدیم کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ:
“قسمت نے تمہیں میرے راستے پر ڈال دیا ہے”
یہاں سے عدیم ہاشمی کا سفر ایک مظلوم مزدور سے ایک طاقتور گروہ کے رکن تک شروع ہوتا ہے — جہاں ہر شکایت کا جواب بدلہ بن جاتا ہے۔
شکایت نامہ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ:
یہ ناول قاری کو جھنجھوڑتا ہے، سوال اٹھاتا ہے اور سماج کے آئینے میں ہماری اصل شکل دکھاتا ہے۔
اب لڑکا سڑک پر کھڑا تھا، زحمی چہرہ، پھٹے کپڑے اور دل میں غصے اور دکھ کا طوفان۔ لوگ گزر رہے تھے، گاڑیاں چل رہی تھیں، شور تھا، لیکن وہ سب کچھ سن نہیں رہا تھا۔ صرف ایک بات اس کے ذہن میں تھی:
” اب میں اکیلا ہوں اور یہ دنیا مجھے کمزور نہیں بنا سکتی۔ ایک دن میں سب کو دکھاؤں گا کہ میں کون ہوں!” سڑک پر کھڑا وہ بچہ اب اپنے سفر کے آغاز پر تھا اکیلا، زخمی، لیکن دل میں ایک جلتی ہوئی آگ کے ساتھ۔
رات گہری ہو چکی تھی۔
سے دھڑام کے ساتھ بند ہوئے۔ اندر سے باپ کی وہ آخری
گھر کے بڑے دروازے زور سے دھڑ دھاڑ اب بھی کانوں میں گونج رہی تھی: “میری نظر سے دور ہو جا! میرا بیٹا کہلانے کے لائق نہیں تو !” نوجوان لرزتے قدموں کے ساتھ دروازے سے باہر آیا۔ بارش کی ٹھنڈی بوندیں اس کے چہرے پر گر رہی تھیں،
لیکن آنکھوں سے بہنے والے آنسو ان بوندوں کو چھپا رہے تھے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، دل میں ایک خلا سا بھر گیا تھا۔ وہ سڑک کے کنارے جا کھڑا ہوا۔ سامنے اندھیری گلیاں تھیں،
پیچھے وہ مکان جس میں اس نے زندگی کے سارے خواب بنے تھے۔ اب نہ سر پر چھت تھی نہ دل میں سکون۔
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Janan novel by Dania Batool Complete Download pdf Janan novel by Dania Batool Complete Download…
Muzda-e-Huda by Aneeqa Khan Novel Download pdf Muzda-e-Huda by Aneeqa Khan Novel Download pdf is…
Misafir by MF Writes Urdu Novel Download pdf Misafir by M.F. Writes ایک خوبصورت، جذباتی…
Zulm ke Saye Mein Roshni by Aiman Khan Download pdf Zulm ke Saye Mein Roshni…
Qismat Ki Sitam Zareefi by Mujahid Hussain Laghari (Short Story ) Download pdf ناول کا…
A Heartfelt Return by Ayesha Asif (Short English Story) Complete Download pdf A Heartfelt Return…