Zard gulab ka mousam by Awan Zadi Download pdf
زرِ موسم کا گلاب امِ ہانی اور عارس جسوال کی ایک جذباتی، رومانوی اور نفسیاتی کہانی ہے، جس میں محبت، صدمہ، خاندانی مسائل، جائیداد کی لالچ اور ایک انسان کو اس کے خوف سے نکال کر دوبارہ زندگی کی طرف لانے کا سفر دکھایا گیا ہے۔
ناول کی مرکزی کردار ہانی بچپن میں پیش آنے والے ایک ہولناک حادثے کے بعد اپنی ماں کو کھو دیتی ہے۔ اس حادثے کا گہرا صدمہ اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ وہیل چیئر تک محدود ہونے کے ساتھ ساتھ ہانی اپنی آواز بھی کھو دیتی ہے
اور دنیا سے تقریباً کٹ کر اپنے ہی گھر کے ایک اندھیرے کمرے میں زندگی گزارنے لگتی ہے۔
دوسری طرف عارس جسوال ایک کامیاب اور سخت گیر بزنس مین ہے، جو نیویارک میں اپنی زندگی گزارنے کے بعد پاکستان واپس آتا ہے۔ ابتدا میں عارس کی ہانی سے خاصی ناچاقی ہوتی ہے، لیکن حالات اسے ہانی کی زندگی کا محافظ بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
ہانی کی زندگی بچپن کے ایک ایسے حادثے سے بدل جاتی ہے جس میں اس کی ماں دنیا سے چلی جاتی ہے۔ اس حادثے کا صدمہ ہانی کے دل و دماغ پر اتنا گہرا اثر ڈالتا ہے کہ وہ نہ صرف وہیل چیئر استعمال کرنے لگتی ہے بلکہ اس کی آواز بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ہانی کا باپ جہانزیب بھی اس کے لیے سہارا بننے کے بجائے اس کی جائیداد پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ وہ ہانی کا حق ہتھیانے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
ہانی اپنے ہی گھر کے ایک تاریک کمرے میں محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی خاموش زندگی میں تبدیلی اس وقت آتی ہے جب عارس جسوال نیویارک سے پاکستان واپس آتا ہے۔
عارس ایک کامیاب بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ سخت مزاج شخصیت کا مالک ہے۔ شروع میں وہ ہانی کو پسند نہیں کرتا اور اس سے شدید چڑتا ہے، لیکن جب جہانزیب ہانی کا حق چھیننے کی کوشش کرتا ہے تو حالات دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔
کہانی کا ایک نہایت اہم لمحہ وہ ہے جب ہانی بے بسی کی حالت میں عارس کا ہاتھ تھام کر اس سے مدد مانگتی ہے۔
یہ چھوٹا سا عمل عارس کے رویے میں بڑی تبدیلی کا آغاز بن جاتا ہے۔ جو شخص ابتدا میں ہانی سے دور رہنا چاہتا تھا، وہ آہستہ آہستہ اس کا محافظ بن جاتا ہے۔
عارس ہانی کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے صرف ایک محافظ نہیں بلکہ ایک ایسا شخص بن جاتا ہے جو اسے دوبارہ زندگی کی طرف لانا چاہتا ہے۔
کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب میڈیکل رپورٹس کے ذریعے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہانی کی وہیل چیئر تک محدود رہنے کی وجہ کوئی واضح جسمانی معذوری نہیں بلکہ اس کے بچپن کے حادثے سے جڑا ہوا نفسیاتی خوف اور صدمہ ہے۔
یہ انکشاف کہانی کو ایک مختلف سمت دیتا ہے۔ اب عارس کے سامنے صرف ہانی کو جہانزیب سے بچانے کا مسئلہ نہیں بلکہ اسے اس خوف سے آزاد کرنے کا چیلنج بھی ہے جس نے برسوں سے اس کی زندگی کو محدود کر رکھا ہے۔
عارس عزم کرتا ہے کہ وہ ہانی کے دل میں موجود اس خوف کو ختم کرنے میں اس کا ساتھ دے گا اور اس کی زندگی میں دوبارہ روشنی لانے کی کوشش کرے گا۔
“ارے بھابھی! آپ کو کیا معلوم رات کے کس پہر کچن میں کیا تماشے ہو رہے تھے۔ میں تو پانی پینے نیچے آئی اور دیکھا کہ عارس میاں اور ہانی رات کے ڈیڑھ بجے اندھیرے کچن میں اکیلے—”
چاچی کی بات ابھی ادھوری تھی کہ عارس نے فوراً بات کاٹتے ہوئے سپاٹ اور پراعتماد لہجے میں کہا، “ماما! رات کو آپ بہت تھکی ہوئی تھیں، اور مجھے شدید بھوک لگ گئی تھی، اس لیے میں نے ہانی کو بول دیا تھا کہ
“ارے کھانا گرم کرنے کا کہاں یا؟” چاچی نے فوراً تیکھے لہجے میں لقمہ دیا، ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ “یا تو ہاتھوں سے کھلانے کو—” چاچی نے جیسے ہی عارس اور ہانی کے
ایک دوسرے کو نوالے کھلانے کی بات اچھالی، لاؤنج میں ایک پل کے لیے سناٹا چھا گیا۔
لیکن یہ بات سن کر سکندر اور ثانیہ بیگم کے چہرے پر غصے کے بجائے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ (smile) ابھر آئی۔ وہ دونوں تو پہلے ہی ان کا نکاح پڑھوا چکے تھے اور ان کے اس پیار پر اندر ہی اندر خوش تھے۔
تایا ابو نے چہرے کو دوبارہ سنجیدہ کیا اور مسکراتے ہوئے عارس سے پوچھا، “بیٹا! یہ تمہاری چاچی کیا کہہ رہی ہیں؟”
“پتا نہیں پاپا! چاچی لگتا ہے ابھی تک نیند میں ہوں گی، انہیں رات کے اندھیرے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،” عارس نے چائے کا مگ اٹھاتے ہوئے اتنے پرسکون انداز میں جھوٹ بولا کہ چاچی کا اپنا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا۔
گاؤں سے آئی دادی نے جب دیکھا کہ ان کی چلاک بہو بلاوجہ بات کا بتنگڑ بنا رہی ہے، تو انہوں نے بغیر کسی تصدیق کے اپنی بہو کو سب کے سامنے زور سے ڈانٹ دیا۔ “تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے بہو؟ رات کے اندھیرے میں تمہیں الٹی سیدھی چیزیں نظر آتی ہیں۔ ، بھائی بہن جیسے بچوں پر ایسا شک کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی؟ چپ چاپ ناشتہ کرو اور اپنا منہ بند رکھو!” دادی کی اس ڈانٹ پر چاچی جھینپ کر رہ گئیں اور ایمان نے جلن کے مارے اپنا چمچ پلیٹ پر پٹخ دیا۔
****************
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Kintsugi by Saman Mirza Download pdf Kintsugi by Saman Mirza Download pdf is a beautifully…
Pashmina by Alif Aien Umar Download pdf Pashmina by Alif Aien Umar Download pdf پشمینہ…
Khamosh Cheekhain by Soha Ramzan Download pdf Khamosh Cheekhain by Soha Ramzan Download pdf is…
Ishq junooniyat by Zimy Zohar Download pdf Ishq junooniyat by Zimy Zohar Download pdf عشقِ…
Banjh by Iqra Sabir Download pdf Banjh by Iqra Sabir Download pdf is a beautifully…
Jinhein hoti nahi daulat se ulfat, wo log bhi kitne ameer hote hain by Abdullah…