Al Rehman by Hurain Sikander download pdf ] is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
ناول “الرحمٰن” محض ایک کہانی نہیں بلکہ سورۃ الرحمٰن کی مشہور آیت
“فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰن”
کی عملی تفسیر محسوس ہوتا ہے۔ یہ ناول قاری کو بار بار یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ہم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلا رہے ہیں؟
یہ کہانی دو بالکل مختلف دنیاؤں کا آئینہ ہے—ایک طرف قرآن، حیا اور رب سے جڑے دل کی دنیا، اور دوسری طرف مغربی تہذیب کی چکاچوند، نشہ، غفلت اور خود فراموشی۔
“الرحمٰن” کا بنیادی پیغام ہدایت، صبر، دعوتِ دین اور سچی توبہ ہے۔ یہ ناول ہمیں سکھاتا ہے کہ
گناہ گار سے نفرت نہیں، بلکہ اسے رب کی طرف بلانا ہی اصل ایمان ہے۔
یہ کہانی غفلت میں ڈوبے دلوں کی بیداری اور اللہ کی رحمت کی وسعت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔
کہانی کا آغاز دو متضاد مناظر سے ہوتا ہے۔
ایک طرف حورعین شجاع ہے، جو فجر کے وقت پرسوز آواز میں سورۃ الرحمٰن کی تلاوت کر رہی ہے۔ اس کی تلاوت صرف آواز نہیں بلکہ دل کی پکار بن کر ابھرتی ہے۔
دوسری طرف انگلینڈ کا ایک فلیٹ ہے جہاں عیسیٰ سکندر اور اس کے دوست نشے اور غفلت میں “آزاد زندگی” کو کامیابی سمجھ رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے رب اور اپنی اصل پہچان سے بہت دور ہیں۔
حورعین اپنے دادا کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کرتی ہے اور کعبہ کے سامنے یہ دعا مانگتی ہے کہ
یا اللہ! مجھے بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دے۔
ادھر عیسیٰ سکندر، جو زندگی کو صرف “چِل” کرنے کا نام دیتا ہے، ایک رشتے کی بات پر پاکستان آتا ہے۔ یہاں اس کی پہلی ملاقات حورعین سے ہوتی ہے—ایک ایسی لڑکی جس کے لیے حیا، نقاب اور دین ہی اصل وقار ہیں۔
یہیں سے کہانی اس موڑ پر پہنچتی ہے جہاں ایک پاکیزہ روح اور ایک غافل دل آمنے سامنے آتے ہیں۔
حورعین شجاع
ایک باحیا، نقاب پوش اور قرآن سے عشق رکھنے والی لڑکی۔ اس کی گفتگو میں وقار، تلاوت میں تاثیر اور سوچ میں گہرائی ہے۔ وہ عورت کے مقام، معاشرتی ناانصافی اور دین کی اصل روح پر مدلل بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
عیسیٰ سکندر
ایک امیر زادہ نوجوان جو مغربی ماحول میں پلا بڑھا ہے۔ وہ اسلامی شعائر سے دور، مگر دل کے کسی کونے میں سچ کی تلاش رکھتا ہے۔ اس کا کردار اس بات کی علامت ہے کہ ہدایت کسی بھی لمحے دل کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔
مریم
حورعین کی سہیلی، جو عام لڑکی سے باحیا عورت بننے کے سفر میں حورعین کے کردار سے متاثر ہوتی ہے۔ اس کا کردار تبدیلی اور اثر پذیری کی خوبصورت مثال ہے۔
شجاع احمد صاحب
حورعین کے دادا، جو حکمت، دانائی اور روحانیت کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی مجلسیں ایمان کو تازگی بخشتی ہیں اور قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
“الرحمٰن” ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ:
حورعین سکندر اردو ادب میں ایک نوآموز مگر بامقصد لکھاری کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کا پہلا ناول “الرحمٰن” اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کو جدید دور کے مسائل سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ، مؤثر اور دل سے نکلنے والا ہے، جو سیدھا قاری کے دل تک پہنچتا ہے۔
اگر آپ:
تو ناول “الرحمٰن” یقیناً آپ کے دل کو چھو لے گا۔
“الرحمٰن” ایک ایسی تحریر ہے جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ محسوس کرنے، سوچنے اور خود کو بدلنے کے لیے ہے۔ یہ ناول قاری کو یہ یاد دلاتا ہے کہ
اللہ کی کون سی نعمت ہے جسے ہم جھٹلا سکتے ہیں؟
“تم میرے اعمال سے ناواقف تو نہیں ہو!” یہ الفاظ اس نے کس طرح ادا کیے تھے وہی جانتا تھا۔ گرم سیال اس کی آنکھوں سے دغا کرتا اس کے رخصاروں کا حصہ بنا تھا۔
“آپ ابھی تک اپنے ماضی میں ہیں؟” اب وہ سنجیدہ ہوئی تھی۔ عیسیٰ خاموش رہا۔
“Esa look at me.” عیسیٰ نے آنکھیں اٹھا کر حورعین کی طرف دیکھا۔ گہری بھوری آنکھیں ہلکی بھوری آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔ گہری بھوری آنکھیں اذیت ، تڑپ، کرب اور ندامت کا شکار تھیں جبکہ ہلکی بھوری آنکھوں میں سنجیدگی واضح تھی۔
“آپ کو اپنے ماضی سے نکل آنا چاہیے۔” اس نے نرمی سے کہا۔
“مگر میرے گناہ۔۔۔۔۔۔”
“شششش۔۔۔پہلے میری بات سنیں۔” وہ اس کی بات کاٹ گئی۔
“رحمٰن کی صفات جانتے ہیں؟”
“کک۔۔۔کیا؟” رونے کی وجہ سے عیسیٰ کی آواز مزید بھاری ہوگئی تھی۔
“وہ الرحم الراحمین ہے، عفو درگزر اسکی صفت ہے، وہ پاک ذات معاف کر دینے والی ذات ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ اگر اس کے بندے کہ گناہ سمندر کی جھاگ کی مانند بھی ہوں گے تو ندامت کا ایک آنسو اس جھاگ کو مٹا دینے کو کافی ہے۔ اس سمندروں کے مالک کو اپنے بندے کی ندامت کے آنسو کے ایک قطرے سے محبت ہے۔”
وہ سانس لینے کو رکی اور پھر سے جملے جوڑنے شروع کیے۔”اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نیک ہوں اور آپ بد تو یہ صرف آپ کو لگتا ہے۔ میں اور میرا رب ایسا ہر گز نہیں سوچتے اور نہ ہی ایسا ہے۔ ہاں پہلے آپ گناہگار تھے اب نہیں ہیں۔
جب آپ نے سچے دل سے معافی مانگ لی تو آپ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے آپ کا جنم ابھی ہوا ہے اور آپ گناہوں سے پاک ہیں۔” عیسیٰ کی آنکھیں بہنے لگی تھیں، دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہو رہا تھا۔ اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے بہت دور حورعین سے دور ۔وہ خود کو حورعین کے قابل نہیں سمجھ رہا تھا۔
“اگر اب بھی آپ مطمئن نہیں ہوئے تو یاد رہے رب تعالیٰ کبھی کبھی برائی کو مٹانے کے لیے اسے اچھائی سے ملاتا ہے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا ہی ملے۔ بلکہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا بھی مل سکتا ہے۔ اب یہ اچھے پہ منحصر ہے کہ وہ خود برائی اپنائے گا یا برے کو اچھائی اپنانے کے قابل بنا دے گا۔” اس نے عیسیٰ کو دیکھا وہ پرسکون نظر آنے لگا تھا مگر آنکھوں سے بہتا سیال ہنوز رواں تھا۔
**
“چلیں!!”
“آہہہ!”
وہ پیچھے سے بنا کسی آہٹ کے آتی اس کے قریب ہوتے اس قدر اونچی آواز سے چیخی تھی کہ عیسیٰ کی چیخ بے ساختہ تھی۔موبائل بمشکل اس کے ہاتھوں سے گرتے گرتے بچا تھا۔
“یار کیوں اتنے الٹے کام کرتی ہو؟” وہ دانت ہچکچاتے اسے گھوریوں سے نواز رہا تھا۔
“بس مزہ آتا ہے۔” مقابل نے کندھے اچکائے۔
“تمہارے مزے کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔تمہیں سیدھا کرنا پڑے گا۔” عیسیٰ نے نچلے لب کا بایاں کنارہ دانتوں تلے دبایا۔
“آپ ہی کی ٹیڑھی پسلی ہوں کر سکتے ہیں سیدھا تو کر لیں۔”
وہ ایک ادا سے بولتی عیسیٰ کو حیران کر گئی۔ عیسیٰ نے اس کی حاضر جوابی آنکھوں سے داد دی تھی اور آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔
“ٹیڑھی چیزوں کو ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی قبول کرنا چاہیے۔ سیدھا کرنے کی کوشش انہیں توڑ دیتی ہے۔ اور عیسیٰ سکندر کو حورعین عیسیٰ سکندر اپنے ٹیڑھے پن کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے، دل و جان سے قبول ہے۔” وہ مسکرا کر کہتا مقابل کو معتبر کر گیا تھا۔
****************
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Zaad e rah by Warda Aslam Complete novel download pdf – It's about the historyAnd…
Noor-ul-iman afsana by Kainat Shahid– A Gripping Social Romantic Urdu Novel Noor-ul-iman afsana by Kainat…
Noor-e-hidayat by Mah Noor Usmani Download pdf– A Gripping Social Romantic Urdu Novel Noor-e-hidayat by…
Difference between me or him by Syeda Noor Ul ain Complete pdf – A Gripping Social…
Sham e hijar by Sabiha Khalid Download pdf– A Gripping Social Romantic Urdu Novel Sham…
Qasr Alif Laila by Shabnam Naseem Download pdf – A Gripping Social Romantic Urdu Novel…