Daastan e RAZIYA by Mariyam Batool Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
ناول “داستانِ رضیہ سلطان” مصنفہ مریم بتول کی ایک تاریخی اور افسانوی داستان ہے، جو دہلی کی پہلی مسلم خاتون حکمران رضیہ سلطان کی زندگی، جدوجہد اور اقتدار کے سفر کے گرد گھومتی ہے۔
یہ ناول محض ایک بادشاہت کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کی داستان ہے جو مردوں کے زیرِ اثر معاشرے میں اپنی صلاحیت، تدبر اور سیاسی بصیرت کے ذریعے تختِ دہلی تک پہنچنے کی جدوجہد کرتی ہے۔
کہانی میں شاہی محل کی سیاست، درباری سازشیں، اقتدار کی کشمکش اور رشتوں کے درمیان چھپی ہوئی سیاسی چالیں قارئین کو تاریخی دور کے ایک دلچسپ ماحول میں لے جاتی ہیں۔
“داستانِ رضیہ سلطان” کا آغاز سلطان شمس الدین التتمش کی علالت سے ہوتا ہے۔ سلطان کی بیماری کے ساتھ ہی شاہی محل اور دربار میں تخت کے اگلے وارث کے حوالے سے چہ مگوئیاں اور سیاسی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔
تخت ایک ایسی منزل بن جاتا ہے جس کے حصول کے لیے درباری طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے مطابق چالیں چلنے لگتی ہیں۔ سلطان کے بیٹوں کی موجودگی میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آخر دہلی کی سلطنت کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی؟
اسی کشمکش کے دوران رضیہ کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔
سلطان شمس الدین التتمش اپنی بیٹی رضیہ کی صلاحیتوں کو دوسروں سے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ وہ اس کے اندر موجود تدبر، معاملہ فہمی، ذمہ داری اور ریاستی امور کو سمجھنے کی صلاحیت کو محسوس کر لیتے ہیں۔
جہاں عام طور پر شہزادیوں سے شاہی خاندان کی روایتی ذمہ داریوں کی توقع کی جاتی تھی، وہیں رضیہ کو ریاست کے معاملات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔
یہی تربیت آگے چل کر رضیہ کے لیے اس سفر کی بنیاد بنتی ہے جو اسے تختِ دہلی کی طرف لے جاتا ہے۔
سلطنت کا تخت کبھی آسانی سے نہیں ملتا، اور رضیہ کے لیے تو یہ راستہ مزید دشوار ہے۔
دربار میں موجود طاقتور عناصر، تخت کے خواہش مند افراد اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ رضیہ کو نہ صرف اقتدار کی اس کشمکش کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اسے ایک ایسے معاشرے کے سامنے بھی اپنی صلاحیت ثابت کرنا ہوتی ہے جہاں عورت کا حکمران بننا آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا۔
یہی وجہ ہے کہ رضیہ کا سفر صرف تخت تک پہنچنے کا سفر نہیں رہتا بلکہ اپنی قابلیت اور حق کو منوانے کی جدوجہد بھی بن جاتا ہے۔
ناول کا سب سے اہم پہلو رضیہ کا ایک مردانہ معاشرے میں حکمرانی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔
اس کے سامنے صرف سیاسی مخالفین نہیں بلکہ معاشرتی سوچ، درباری تعصبات اور اقتدار سے وابستہ مفادات بھی موجود ہیں۔
رضیہ کو ہر قدم پر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ حکمرانی صرف جنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ صلاحیت، بصیرت، تدبر اور ذمہ داری کی بنیاد پر بھی کی جا سکتی ہے۔
اسی جدوجہد میں اس کا کردار ایک عام شہزادی سے ایک مضبوط اور باوقار حکمران کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
“داستانِ رضیہ سلطان” میں محل اور دربار کا ماحول کہانی کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔
شاہی زندگی بظاہر جتنی پُرتعیش دکھائی دیتی ہے، اس کے پیچھے اتنی ہی پیچیدہ سیاست چھپی ہوئی ہے۔ ہر شخص کے اپنے مفادات ہیں اور تخت کے قریب پہنچنے والا ہر قدم نئی سازشوں کو جنم دیتا ہے۔
رضیہ کو انہی حالات میں اپنی سیاسی بصیرت استعمال کرتے ہوئے راستہ بنانا ہے۔
رضیہ کا کردار ناول میں صبر، خودداری اور حوصلے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اقتدار کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں اسے توڑنے کے بجائے مزید مضبوط کرتی ہیں۔ وہ حالات کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
یہ داستان اس بات کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ اقتدار حاصل کرنا جتنا مشکل ہے، اسے سازشوں کے درمیان برقرار رکھنا شاید اس سے بھی بڑا امتحان ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بعد تم اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھنا۔”
رضیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“میرے بعد؟”
التتمش نے نظریں اس کے چہرے پر جمائے رکھیں۔
“ہاں۔”
رضیہ نے دھیمی آواز میں کہا،
“آپ کیا چاہتے ہیں؟”
سلطان نے آنکھیں بند کرلیں۔
چند لمحوں بعد بولا،
“اور اگر وہ شخص…”
رضیہ رک گئی۔
التتمش نے اس کی بات مکمل کی۔
“اگر وہ شخص تم ہو؟”
رضیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس کے دل میں جیسے کئی آوازیں ایک ساتھ اٹھیں۔
تخت۔
دربار۔
امیر۔
وہ لوگ جو اسے عورت ہونے کی وجہ سے مسترد کر سکتے تھے۔
اور سب سے بڑھ کر اس کے والد۔
اس نے بہت آہستہ سے کہا،
“ابا حضور، میں آپ کے سامنے اپنے لیے تخت نہیں مانگ سکتی۔”
التتمش کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“میں نے تمہیں تخت مانگنے کو کہا بھی نہیں۔”
“پھر؟”
رضیہ نے اپنے والد کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھام لیا۔
“اگر لوگ مجھے قبول نہ کریں؟”
التتمش نے کہا،
“لوگوں کا دل تلوار سے نہیں جیتا جاتا۔ انصاف سے جیتا جاتا ہے۔”
پھر کچھ دیر بعد اس نے مزید کہا،
“اور یاد رکھنا، رضیہ، تخت پر بیٹھنے والے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہمیشہ دشمن نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی اپنے ہی لوگ زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔”
****************
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Kesa yeh ishq hai (Season 2 of Tery sadqy sab main warya) by Aiman Razaq…
Muqaddarr Diyan khaidan by Nahdia Sabeen Download pdf Muqaddarr Diyan khaidan by Nahdia Sabeen Download…
Safar e hidayat by Kaynat Shah Download pdf Safar e hidayat by Kaynat Shah Download…
The glitch by Shayara Sehar Download pdf The glitch by Shayara Sehar Download pdf is…
Tujhy khabr Kya be khabar by Nimal Download pdf Tujhy khabr Kya be khabar by…
Wasl by Sabahat Riffat Download pdf Wasl by Sabahat Riffat Download pdf is a beautifully…