Intiqam e mohabbat by Seren Writes Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
یہ کہانی محبت اور نفرت کے اس خطرناک تصادم کو بیان کرتی ہے جہاں ماضی کے زخم حال کی خوشیوں کو نگلنے لگتے ہیں۔ خاندانی دشمنیاں، انا، طاقت اور انتقام کی آگ ایسے حالات پیدا کرتی ہیں جن میں جذبات اور فیصلے دونوں آزمائش بن جاتے ہیں۔
ناول کا آغاز ایک سنسنی خیز فرار سے ہوتا ہے جو قاری کو فوراً تجسس اور سسپنس کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ ایک طرف خوف زدہ معصومیت ہے، جبکہ دوسری طرف طاقتور شخصیات کے اندر سلگتی بدلے کی آگ۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، راز کھلتے جاتے ہیں اور یہ واضح ہوتا ہے کہ کچھ رشتے قسمت بن جاتے ہیں جبکہ کچھ دشمنیاں نسلوں تک پیچھا نہیں چھوڑتیں۔
ہانیہ جہانگیر ملک ایک امیر مگر سادہ مزاج لڑکی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہے۔ وہ سوشل زندگی سے دور رہنا پسند کرتی ہے، مگر اس کے ماضی سے جڑے خوفناک خواب اس کے سکون کو مسلسل متاثر کرتے رہتے ہیں۔
دوسری جانب برہان ایک پراسرار اور بااثر شخصیت ہے جو اپنے والد کے قاتلوں سے بدلہ لینے کے جنون میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کی سخت مزاجی اور غصہ اس کے اندر چھپے درد کی عکاسی کرتے ہیں۔
جب ہانیہ اور برہان کے راستے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو محبت اور انتقام کے درمیان ایک ایسی جنگ شروع ہوتی ہے جس میں سچ، اعتماد اور رشتے سب داؤ پر لگ جاتے ہیں۔
خاندانی سیاست، جاگیردارانہ سوچ اور پرانے راز کہانی کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں، جہاں ہر کردار اپنے ماضی کا بوجھ اٹھائے نظر آتا ہے۔
ہانیہ جہانگیر ملک:
معصوم، حساس اور باوقار لڑکی جو ماضی کے خوف اور حال کی حقیقتوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
برہان:
غصیلا، طاقتور اور پراسرار نوجوان جس کی زندگی کا مقصد صرف انتقام ہے، مگر ہانیہ کی موجودگی اس کے جذبات کو بدلنے لگتی ہے۔
سارا جہانگیر ملک:
ہانیہ کی خوش مزاج اور سوشل بہن جو بزنس معاملات میں اپنے والد کا ساتھ دیتی ہے اور برہان کی شخصیت سے متاثر ہے۔
جہانگیر ملک:
ایک کامیاب بزنس مین اور محبت کرنے والا باپ جو اپنی بیٹیوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
ولید:
خود پسند اور جاگیردارانہ سوچ رکھنے والا نوجوان جو طاقت اور زمین کے اختیار کو سب کچھ سمجھتا ہے۔
ناہید بیگم اور فرح بیگم:
گھر کی بزرگ خواتین جو خاندانی فیصلوں اور رشتوں کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
شامیر:
شرارتی اور بے فکر نوجوان جو سنجیدہ ماحول میں ہلکا پن پیدا کرتا ہے۔
تمھیں کیا لگا میری قید سے نکلنا اتنا آسان ہے۔
وہ اس کا منہ ہاتھوں میں دبوچ گیا تھا۔
وہ پھڑپھڑا کر راہ گئ۔
اس کی آنکھوں میں اس سے کئی گنا زیادہ نفرت جھلکنے لگی۔
وہ کچھ لمحے اسے گھورنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا ساتھ اسے بھی کھنچ کر کھڑا کیا۔
جانے دو مجھے چھوڑو۔ وہ اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش میں ہلکان ہو گئی اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ پورا زور لگانے کے باوجود بھی خود کو اس کی قید سے آزاد نہیں کروا سکی۔
وہ کھنچتا ہوا اسے اپنی کار تک لایا اسے اندر دھکا دے کر دروازہ بند کرتا لاک لگا گیا وہ چیخنے چلانے لگی۔
وہ مٹھی بھنچ کر دوسری طرف سے آتا ڈرائیونگ سیٹ سمبھال گیا۔
جبکہ وہ مزید حوصلہ ناں پاتے نڈھال سی دروازے سے ٹیک لگا گئی اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھانے لگا تھا۔
جبکہ وہ غصے سے بھرا ڈرائیونگ کرنے لگا۔
اب اگر تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو ٹانگیں توڑ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا سمجھی تم۔ وہ اسے واپس سٹور روم میں پٹخ کر غصے سے پھنکارا تو اس نے ایک نفرت بھری نظر اس پر ڈالی۔
جانے دو مجھے کیا ملے گا تمھیں مجھے قید کر کے۔
سکون۔۔۔وہ اس کے بال پکڑ کر اس کے سامنے جھکتے بولا تو اس نے درد ضبط کرتے آنکھیں میچیں۔
تمھارے باپ کو ازیت دے کر سکون ملے گا۔ اس نے کہا تو وہ زخمی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
میرے باپ کو مار تو دیا تم لوگوں نے اور کونسی ازیت دینا باقی راہ گیا ہے۔ وہ غصے کی زیادتی سے چیخی تو اس نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
کاش مار سکتا میں اسے اپنے ہاتھوں سے ۔ اس نے جیسے افسوس کیا تھا اور وہ اس سفاک انسان کو دیکھ کر راہ گئی تھی۔
اب دماغ میں بیٹھا لو یہیں تمھاری پنا گاہ ہے اس سے باہر ایک قدم بھی نکالا تو وہ حشر کروں گا پوری زندگی نہیں بھولو گی۔
وہ غصے سے کہتا وہاں سے جانے لگا تھا جب اس کے جملے نے اس کے قدم جکڑے۔
تم نہایت گھٹیا شخص ہو ۔۔
ابھی تم نے میرا گھٹیا پن دیکھا کہاں ہے وہ مڑ کر تمسخر سے بولا۔
نفر کرتی ہوں میں تم سے تمھاری شکل سے۔ وہ غصے اور بےبسی سے ایک بار پھر چلائی تھی۔
میں بھی کوئی تمھارے عشق میں مرا نہیں جا رہا۔ وہ اس سے زیادہ تیز آواز میں چلایا تھا کہ وہ سہم سی گئی تھی۔
وہ غصے سے چیئر کو ٹھوکر مارتا وہاں سے نکل گیا تھا اور وہ سر ہاتھوں میں چھپائے اپنی بے بسی پر روئے چلی گئی تھی۔
اس کے رونے کی آواز پر وہ ایک لمحے کے لیے دروازے میں رکا تھا پھر لاک لگاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
****************
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Kath Ka Ullu By MA Rahat Pdf Download Kath Ka Ullu By MA Rahat Pdf…
Reech Ka Israr Novel By Anwar Aligi Pdf Download Reech Ka Israr Novel By Anwar…
Haya Ki Sooli Par Novel By Mohiuddin Nawab Pdf Haya Ki Sooli Par Novel By…
Ilaj Novel By Mohiuddin Nawab Pdf Download Ilaj Novel By Mohiuddin Nawab Pdf Download is…
Bezubaan Qurbani by MK Khan Download pdf – A Tragic Tale of Love, Honor &…
The Lighthouse by Maria Anmol Rai Download pdf – A Thrilling Mystery of Secrets, Courage…