Maard o aurat by Alishma Nisa Download PDF is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values.
Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
مرد و عورت” دراصل اس جنگ کا نام ہے جو باہر نہیں، انسان کے اپنے اندر جاری ہے۔
جب تک مرد اپنی ‘حاکمیت’ کو ‘رفاقت’ میں اور عورت اپنی ‘مظلومیت’ کو ‘خود آگاہی’ میں تبدیل نہیں کرے گی، یہ کہانی ادھوری رہے گی
۔ نجات کسی کی جیت میں نہیں، بلکہ دونوں کے ‘اعترافِ حقیقت’ میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ باریک دھاگا ہے
جس پر میرے ناول کی پوری عمارت کھڑی ہے۔
تخلیقِ کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ یہاں کچھ بھی فالتو نہیں، اور کچھ بھی اکیلا مکمل نہیں
۔ دن رات کا حریف نہیں، اور سردی گرمی کی دشمن نہیں؛ یہ سب ایک ہی نظام کے دو مختلف رنگ ہیں جو مل کر زندگی کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔
بالکل اسی طرح، مرد اور عورت کا رشتہ برتری یا کمتری کا ترازو
نہیں ہے، بلکہ یہ ‘تکمیل’ کا ایک مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) اصول ہے۔
نہ مرد برا ہے، نہ عورت ناقص ہے۔ خرابی صنف (Gender) میں نہیں، بلکہ اس ‘انسانی رویے’ میں ہے جو اپنے اصل مآخذ کو بھول جاتا ہے۔
جب ہم کسی ایک کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم کائنات کے اس خوبصورت توازن کو بگاڑ دیتے ہیں جو خدا نے قائم کیا ہے۔
۔تو مرد کو سلطنت کا شعور، تحفظ کی ڈھال اور عزمِ حاکمیت سے نوازا گیا ہے۔
یہ طاقتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کے لیے دی گئی تھیں۔
خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب مرد اپنے تحفظ کو ‘ظلم’ میں بدل دیتا ہے، اور عورت اپنے ایثار کو ‘مظلومیت’ کی زنجیر بنا لیتی ہے۔ خطا دونوں سے ہوتی ہے
کیونکہ دونوں انسان ہیں، اور انسان ہونے کا خاصہ ہی یہ ہے کہ وہ مٹی اور روح کا ایک ایسا مرکب ہے جو کبھی بھٹکتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے۔
مرد کا ‘مرد’ ہونا یا عورت کا ‘عورت’ ہونا
محض ایک حیاتیاتی تقسیم ہے۔ فضیلت صنف میں نہیں، ظرف میں ہے۔
کائنات کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے
لیکن جس دن وہ ایک دوسرے کو روح کی آنکھ سے دیکھیں گے، انہیں معلوم ہوگا کہ وہ الگ الگ وجود نہیں،
بلکہ ایک ہی مٹی کے دو پہلو ہیں جنہیں ایک دوسرے کے بغیر جینے کا کوئی حق نہیں ملا۔
یہ جنگ مرد بمقابلہ عورت کی کبھی تھی ہی نہیں؛ یہ جنگ ہمیشہ انسان بمقابلہ حیوان کی رہی ہے۔
جیت کسی ایک صنف کی فتح میں نہیں، بلکہ دونوں کے اندر موجود ‘انسان’ کے جاگ جانے میں ہے،
کیونکہ کائنات کی پہلی سسکی سے لے کر
اشرفِ مخلوقات کے آخری شعور تک، دونوں کا وجود ایک دوسرے کے بغیر ادھورا اور بے رنگ ہے۔
بلکہ یہ اس ابدی کشمکش کا آئینہ ہیں جہاں محبت اپنے ایثار کی آخری حد چھونا چاہتی ہے اور
اقتدار اپنی طاقت کا لوہا منوانا چاہتا ہے۔ جہاں محبت
حد سے بڑھ جائے، وہاں وہ اندھی ہو کر ‘وفا’ کے نام پر ظلم سہنے لگتی ہے، اور جہاں حاکمیت حد سے تجاوز کر جائے، وہ ‘غیرت’ کا ماسک پہن کر درندگی بن جاتی ہے۔
یہ کسی ایک کا قصور نہیں، یہ اس توازن کے ٹوٹنے کا نوحہ ہے جو دونوں کو جوڑے ہوئے تھا۔
اس کہانی کا مقصد کسی کے ماتھے پر ملامت کا ٹیکہ لگانا یا کسی کو مظلومیت کے مصلے پر بٹھانا نہیں ہے۔
یہ کہانی تو صرف ایک یاد دہانی ہے۔ایک ایسی یاد دہانی جو یہ بتاتی ہے کہ جب تک مرد اور عورت ایک دوسرے کو اپنے حقوق کا
غاصب سمجھتے رہیں گے، یہ معاشرہ ایک جنگل بنا رہے گا۔
نجات اس میں نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا، نجات اس میں ہے کہ کیا ہم اس شکست کے بعد دوبارہ ‘انسان’ بننے کا راستہ تلاش کر پائے یا نہیں؟
صنف کی بحث تو بس جسم کا اک پردہ ہے
معرکہ روح کا ہے، اصل میں انسان ہونا
I am Alishma Nisa Bettani.i am a compelling storyteller. who first picked up the pen at the age of fourteen!
چاندنی کی دھیمی روشنی اور شبنم کے قطرے اس کے سراپے کو ڈھانپے ہوئے تھے، مگر حمید فیاض صاحب کی نظر پڑتے ہی ان کے متوازن چہرے پر ایک گہری، سنجیدہ لکی
ر ابھر آئی،ایک ایسا تاثر، جس کے پیچھے جانے کتنے بن کہے راز اور سوچیں چھپی تھیں۔
تخت پر بیٹھی لڑکی کو ان کی آمد کا ذرا سا بھی احساس نہ ہو سکا تھا۔
اس کے ٹوٹے ہوئے سراپے اور بکھری حالت کو دیکھ کر کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ابھی چند گھنٹے پہلے اسی گھر میں خوشیوں
کے ساز بجے تھے اور قہقہوں کی گونج فضا میں تیر رہی تھی۔
وہ تخت کے ایک الگ تھلگ گوشے میں یوں سمٹی بیٹھی تھی جیسے خود کو دنیا کی ہر نظر سے چھپانا چاہتی ہو۔
تخت کے دوسرے کونے میں اس کے اتارے ہوئے دو کنکن اور زرق برق جھمکے لاوارث سے پڑے تھے،جو یقیناً اس نے
اپنے اندر اٹھتے طوفان کی تاب نہ لا کر اتار پھینکے تھے۔
دونوں گھٹنوں کو سینے سے لگائے، گرد بازوؤں کا مضبوط حصار باندھے وہ اپنے آپ سے سختی سے لپٹی ہوئی تھی۔
اس کا ماتھا بازوؤں اور گھٹنوں کے درمیان ٹکا تھا، جبکہ سیاہ، گھنے بال کسی تاریک آبشار کی طرح اس کے دائیں بائیں
جھول رہے تھے۔ رونے سے سرخ پڑی آنکھوں اور بھیگے رخساروں سے بالوں کی چند لٹیں
چپکی ہوئی تھیں، جو اس کے ضبط کی اخری حدوں کی گواہی دے رہی تھیں۔
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Paraya Mazhab by Kaynat Shah Download pdf Paraya Mazhab by Kaynat Shah Download pdf is…
Al Qassam kay Mujahid by Huda Download pdf Al Qassam kay Mujahid by Huda Download…
Kaaf by Madeeha Hashmi Download pdf Kaaf by Madeeha Hashmi Download pdf کاف — لندن…
Khud ehtisabi by Areej Imran Download pdf Khud ehtisabi by Areej Imran Download pdf is…
Dagh bail by Noor Muzaffar Download pdf Dagh bail by Noor Muzaffar Download pdf —…
Saya e Yazdan by Muzdalfa Butt Download pdf Saya e Yazdan by Muzdalfa Butt Download…