Tere ho kar rahain gy by Maryam Khan Yousufzai Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
اردو ادب میں کچھ کہانیاں صرف محبت کی نہیں ہوتیں بلکہ انسان کے اندرونی کرب، سماجی جبر اور روحانی تلاش کو بھی بیان کرتی ہیں۔ “تیرے ہو کر رہیں گے” مریم خان یوسفزئی کا ایسا ہی ایک دل چھو لینے والا ناول ہے جو محبت کے ساتھ ساتھ خاندانی دباؤ، انا، جائیداد کے لالچ اور جدائی کے درد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
یہ کہانی شروع سے ہی قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور بتاتی ہے کہ سچی محبت وقت، فاصلے اور آزمائشوں کے باوجود زندہ رہتی ہے۔
ناول کا آغاز سرد راتوں کے سناٹے اور ارحم کی بے چینی سے ہوتا ہے، جو ایک ایسی محبت کی جدائی میں مبتلا ہے جس نے اس کی نیندیں چھین لی ہیں۔ اسے سکون صرف سجدوں میں ملتا ہے، جہاں وہ اپنے رب سے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔
دوسری طرف ریحام ایک باہمت اور خودمختار سوچ رکھنے والی لڑکی ہے جو وکیل بننے کا خواب رکھتی ہے، مگر خاندان کی روایات، جائیداد کے مسائل اور زبردستی کے فیصلے اس کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
کہانی آگے بڑھتی ہے تو محبت، بدلہ، خاندانی انا اور سماجی دباؤ ایک دوسرے میں الجھ جاتے ہیں۔ بعض فیصلے نسلوں تک اثر چھوڑ دیتے ہیں اور یہی ناول کا سب سے گہرا پہلو ہے۔
✔ سچی محبت اور جدائی کا کرب
✔ خاندانی روایات اور جائیداد کے تنازعات
✔ انا اور خود غرضی کے نتائج
✔ روحانیت اور اللہ سے تعلق کی اہمیت
✔ زبردستی کے رشتوں کے سماجی اثرات
یہ ناول صرف رومانس نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاشرتی آئینہ بھی ہے۔
ارحم
ایک جذباتی اور حساس نوجوان جو محبت کی جدائی میں روحانی سکون تلاش کرتا ہے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ وہ گلوکاری کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔
ریحام
باہمت لڑکی، وکیل بننے کا خواب رکھتی ہے۔ وہ خاندانی دباؤ کے باوجود اپنی شناخت اور فیصلوں کے لیے کھڑی رہتی ہے۔
علیان
ارحم کا بڑا بھائی، ایک کامیاب بزنس مین اور اس کے لیے باپ جیسی شخصیت۔ سخت مزاج مگر محبت کرنے والا۔
عالیہ بیگم اور عمیر صاحب
ریحام کے والدین جو روایت اور معاشرتی دباؤ کو ترجیح دیتے ہوئے بیٹی کی مرضی نظرانداز کرتے ہیں۔
“تیرے ہو کر رہیں گے” ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:
یہ ناول جذبات اور حقیقت کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم کرتا ہے۔
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
| Download link | Online Reading |
“ارحم… کبھی کبھی انسان اپنی بات کسی مخلوق سے نہیں کہہ پاتا۔ مگر یہ بھی نہیں ہو پاتا کہ وہ دل میں اکیلے جھیل لے۔ اگر چاہو تو مجھے کچھ بتاؤ۔”
ارحم نے ایک لمحہ سانس روک کر رکھا، جیسے لفظوں کا بوجھ زبان تک آنے میں ہچکچا رہا ہو۔
“مولانا صاحب…”
وہ رکا۔
“میں ٹھیک ہوں۔ بس… زندگی میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ کچھ فیصلے… کچھ حادثے… اور کچھ لوگ… جن کے جانے نے مجھے اندر سے کمزور کر دیا ہے۔”
امام صاحب نے اس کی بات غور سے سنی، پھر بڑے سکون سے کہا،
“بیٹا… جب آدمی دنیا کے بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے، تو دل کی ہڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ مگر جب وہی بوجھ اللہ کے حضور رکھ دے… تو انسان ہلکا ہو جاتا ہے۔ تم آج بہت دیر اس سجدے میں رہے ہو… شاید اللہ نے تمہارا دکھ دیکھ لیا ہوگا।”
یہ سن کر ارحم کی آنکھیں مزید بھیگ گئیں۔
مولانا صاحب نے شفقت بھرے انداز میں اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا،
“دل ٹوٹتے ہی اس لیے ہیں، بیٹا… کہ رب انہیں خود جوڑ سکے۔ تم فکر نہ کرو۔ رات کا اندھیرا جتنا گہرا ہو، صبح اس سے زیادہ روشن ہوتی ہے۔”
مسجد کی محراب کے باہر آسمان ہلکا ہلکا نیلا ہونے لگا تھا۔ فجر کی اذان کے بعد خاموشی ٹوٹ کر روشنی میں بدل رہی تھی۔ پرندے کہیں دور درختوں پر اپنی پہلی آوازیں بکھیر رہے تھے۔
امام صاحب اٹھے اور نرم لہجے میں کہا،
“چلو بیٹا… گھر چلو۔ تھوڑی دیر آرام کرو۔ کبھی کبھار انسان کو خود پر بھی رحم کرنا چاہیے۔”
ارحم نے آہستہ سے سر ہلایا اور جائے نماز کو دیکھ کر کچھ سوچتا رہ گیا۔
پھر اٹھ کر امام صاحب کے ساتھ مسجد کے دروازے تک آیا۔ باہر سرد ہوا چل رہی تھی، مگر اس ہوا میں اب وہ بے رحم کاٹ نہیں تھی۔ جیسے فضا میں کوئی خاموش دعا اپنا اثر دکھا رہی ہو۔
دروازے پر پہنچ کر امام صاحب رکے،
“ارحم، اگر دل کبھی پھر بوجھل ہو… تو مسجد کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ رب کے گھر سے کوئی خالی نہیں لوٹتا۔”
****************
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Zaad e rah by Warda Aslam Complete novel download pdf – It's about the historyAnd…
Noor-ul-iman afsana by Kainat Shahid– A Gripping Social Romantic Urdu Novel Noor-ul-iman afsana by Kainat…
Noor-e-hidayat by Mah Noor Usmani Download pdf– A Gripping Social Romantic Urdu Novel Noor-e-hidayat by…
Difference between me or him by Syeda Noor Ul ain Complete pdf – A Gripping Social…
Sham e hijar by Sabiha Khalid Download pdf– A Gripping Social Romantic Urdu Novel Sham…
Qasr Alif Laila by Shabnam Naseem Download pdf – A Gripping Social Romantic Urdu Novel…