Tooty huy lamhy by Zari Ejaz Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
“ٹوٹے ہوئے لمحے” زری اعجاز کی ایک نہایت حساس، درد سے لبریز اور حقیقت کے قریب کہانی ہے جو خاندانی رشتوں کی نازک ڈور، والدین کی ذمہ داریوں، اور خاموشیوں میں پلنے والے دکھ کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ ناول اُن گھروں کی کہانی ہے جو بظاہر خوشحال ہوتے ہیں، مگر اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔
ناول اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے، بلکہ آہستہ آہستہ بکھرتے ہیں — وہاں، جہاں بات کرنی چاہیے مگر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ والدین کی بے توجہی، گفتگو کی کمی، اور مادیت پرستی وہ عناصر ہیں جو محبت کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔
یہ کہانی نشے، نفسیاتی دباؤ اور والدین کی غلطیوں کے نتائج کو نہایت سنجیدگی سے پیش کرتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ امید بھی جگاتی ہے کہ اگر وقت پر سچائی اور محبت کا ہاتھ تھام لیا جائے تو ٹوٹے ہوئے رشتے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔
کہانی کا مرکز، ایک نوجوان جو والدین کی خاموش لڑائیوں اور جذباتی عدم توجہی کے بیچ تنہا ہو جاتا ہے۔ وہ غلط صحبت اور نشے کی دنیا میں پناہ ڈھونڈتا ہے، اور بالآخر اسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑتا ہوا اپنے والدین کے لیے پچھتاوے کی علامت بن جاتا ہے۔
مصطفیٰ کی ماں، ایک اصول پسند، سچائی اور اخلاق پر قائم عورت۔ وہ گھر کو جوڑ کر رکھنے کی کوشش کرتی ہے مگر مسلسل نظر انداز ہونا اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔
مصطفیٰ کا باپ، جو محبت کو وقت دینے کے بجائے آسائشوں اور چیزوں سے ناپتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت والدین کی موجودگی کی ہوتی ہے۔
ناول کا آغاز اسپتال کے ایک افسردہ اور لرزا دینے والے منظر سے ہوتا ہے، جہاں نوجوان مصطفیٰ زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا ہوتا ہے۔ یہ لمحہ اس کے والدین، ہما اور کامران کے لیے ایک آئینہ بن جاتا ہے جس میں وہ اپنی غفلت، خاموشیوں اور غلطیوں کو صاف دیکھ لیتے ہیں۔
کہانی ماضی کی طرف پلٹتی ہے جہاں ایک بظاہر خوشحال گھر دکھایا جاتا ہے، مگر جس کی بنیادیں مادیت پرستی اور گفتگو کی کمی کے باعث کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہیں۔ ہما گھر کو اصولوں اور محبت سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ کامران اپنی ذمہ داریوں کو صرف مالی فراہمی تک محدود سمجھتا ہے۔
مصطفیٰ ان دونوں کے بیچ جذباتی طور پر تنہا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے درد کو لفظ نہیں دے پاتا اور آہستہ آہستہ غلط راستے کا انتخاب کر لیتا ہے۔ نشہ اس کے لیے وقتی سہارا بن جاتا ہے، مگر انجام انتہائی خوفناک ثابت ہوتا ہے۔
یہ ناول دکھاتا ہے کہ والدین کی لاپرواہی اور جذباتی دوری کس طرح ایک پورے گھر کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔
“ٹوٹے ہوئے لمحے” ہمیں خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے:
کیا ہم واقعی اپنے پیاروں کو سن رہے ہیں؟
یہ ناول ہر اس باپ کے لیے تنبیہ ہے جو محبت کو صرف پیسے سے تولتا ہے، اور ہر اس ماں کے لیے امید ہے جو اپنے بکھرتے ہوئے گھر کو بچانے کی تڑپ رکھتی ہے۔ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت، توجہ اور گفتگو وہ مرہم ہیں جو سب سے گہرے زخم بھی بھر سکتے ہیں۔
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
کام مکمل ہو یا نہ ہو، پیسے پورے ملیں گے۔
ٹینڈر کی فائل ہے، کوئی بڑا مسئلہ نہیں…”
ہما کے ہاتھ سے گلاس چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
کال ختم ہوئی تو ہما نے خود کو سنبھال کر پوچھا،
“کس سے بات ہو رہی تھی؟
اور یہ سائن کس چیز کے ہیں؟”
کامران نے بے پرواہی سے کہا،
“کچھ نہیں… آفس کا کام تھا۔
ٹینڈر کی بات ہو رہی تھی، بس رسمی سا سائن ہے۔”
ہما کی آواز میں لرزش آ گئی۔
“کامران… بغیر کام کے سائن؟
سڑکیں ٹوٹتی ہیں، لوگ گالیاں دیتے ہیں،
اور بدنامی ہمارے نام سے جڑ جاتی ہے!”
کامران نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔
“ہما، تم بات کو بڑھا رہی ہو۔
سب یہی کرتے ہیں، یہ سسٹم ہی ایسا ہے۔”
ہما نے مضبوط لہجے میں کہا،
“نہیں!
میں اس گھر میں وہ پیسہ نہیں آنے دوں گی
جو کسی کی جان، کسی کی محنت، کسی کے حق سے کمایا گیا ہو۔
اگر تم نے یہ کام کیا تو…
کامران چونک گیا۔
“یہ کیا باتیں کر رہی ہو؟
اتنا غصہ کیوں؟
میں کچھ غلط نہیں کروں گا، ٹھیک ہے؟
پکا وعدہ۔”
ہما نے گہری سانس لی۔
“پلیز… وعدہ مت توڑنا۔”
اس رات ہما نے سکون کا سانس لیا۔
اسے لگا شاید اس نے بروقت روک لیا ہے۔
لیکن ایک ہفتے بعد…
یہ وہی پیسہ تھا…
جس کا وعدہ نہ کرنے کا کیا گیا تھا۔
ہما شام تک دروازے کی طرف دیکھتی رہی۔
کامران آیا تو اس نے سیدھا سوال کیا،
“یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں؟”
کامران نے نظریں چرائیں۔
“بس… پرانی سیونگ ہے۔”
ہما کی آواز کانپنے لگی۔
اب جھوٹ مت بولو۔”
کامران کا ضبط ٹوٹ گیا۔
“ہاں!
میں نے سائن کیے ہیں!
کیونکہ اس گھر کو چلانے کے لیے
صرف سچ کافی نہیں ہوتا!”
ہما کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“تو پھر میرا یہاں رہنا بھی کافی نہیں۔
میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا…
میں اس گناہ میں شریک نہیں بنوں گی۔”
وہ خاموشی سے کمرے میں گئی،
چند کپڑے لیے،
اور دروازے پر رُک کر بس اتنا کہا،
“یہ گھر اب پیسوں سے بھرا ہے…
مگر سکون سے خالی۔”
دروازہ بند ہوا،
“بیٹا… مجھے معاف کر دو… میں تمہیں بچا نہیں سکی… نہ تمہارے خواب… نہ تمہاری معصومیت…”
کامران کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
مصطفیٰ… مجھے بھی معاف کر دو… میں نے محبت کی جگہ چیزیں دیں… وقت نہیں…”
اس لمحے دونوں نے پہلی بار محسوس کیا —
رشتے کبھی یکدم نہیں ٹوٹتے…
وہ آہستہ آہستہ ٹوٹتے ہیں… وہاں… جہاں بات کہنی چاہیے مگر چپ رہ جایا جاتا ہے۔
باہر رات مزید گہری ہو گئی —
اور اندر زندگی… سانسوں سے بندھی رہی۔
صبح کی ہلکی روشنی شیشے سے پھسل کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ اسپتال کے کمرے میں خاموشی بسی ہوئی تھی — مشینوں کی آواز بھی جیسے مدھم پڑ گئی تھی۔ مصطفیٰ کی سانسیں دھیمی… تھکی ہوئی… مگر زندگی اب بھی اس کے جسم سے جڑی ہوئی تھی۔
ڈاکٹر اندر آیا، رپورٹس دیکھیں، پھر نرم لہجے میں بولا:
“شکر کریں… وہ اب خطرے سے باہر ہے۔ مگر اسے وقت… توجہ… اور ساتھ چاہیے۔ یہ صرف جسمانی زخم نہیں… یہ اندر کا زخم ہے۔”
کامران کرسی سے اٹھا، مصطفیٰ کے سر پر ہاتھ رکھا — بہت آہستہ… بہت احتیاط سے… جیسے وہ پہلی بار باپ بن رہا ہو۔
“بیٹا… اب سب بدل جائے گا۔ میں بدلوں گا… ہم بدلیں گے۔”
مصطفیٰ نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ نگاہوں میں بوجھ بھی تھا… گلہ بھی… لیکن کہیں اندر ایک ٹوٹی ہوئی امید ابھی زندہ تھی۔
ہلکی سی آواز اس کے لبوں سے نکلی:
“بابا… بس… مجھے چھوڑ کر مت جانا…”
کامران کی روح کانپ گئی۔
“نہیں بیٹا… اب کبھی نہیں… اب میں تمہارے ساتھ ہوں… ہر لمحہ… ہر قدم پر…”
ہما نے دونوں کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے —
اور پہلی بار… تینوں ایک ساتھ تھے۔
باہر دن پوری طرح جاگ چکا تھا — مگر ان کے اندر ابھی سفر باقی تھا۔
یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی…
اب رشتے کو دوبارہ جوڑنے کا وقت تھا —
****************
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Noor e zeest by Rubah Ali Download pdf | Noor e zeest by Rubah Ali…
Dosti Aur Mohabbat Ki Kahani | Urdu Story About True Friendship & Pure Love Mehfil…
Aks By Samra Parvez Khan | Urdu Story on Loneliness, Relationships & Modern Society Aks…
Teesara kamra- zameer ki awaz afsana by Saniya Saeed and Amna Sehr Download pdf |…
Shaam e Aabroo By Uqba Ahmed | Urdu Story on Ego, Self-Realization & Spiritual Growth…
Qaid Khanay By Alina Kazmi | Urdu Story on Women Empowerment & Social Boundaries QaidKhany…