“زوال” از عباس علی شاہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی تخیلاتی دنیا ہے جہاں بہادری، وفاداری، اقتدار، جنگ، قربانی اور انسانی عزم ایک منفرد داستان کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ناول کا پس منظر 1258ء میں سقوطِ بغداد کے تاریخی دور سے متاثر ہے، تاہم اس میں شامل تمام کردار، قبائل، ریاستیں، جنگیں اور واقعات مصنف کے تخیل کی تخلیق ہیں۔ یہ کسی حقیقی تاریخی واقعے کی مکمل عکاسی نہیں بلکہ تاریخی ماحول سے متاثر ایک تخیلاتی داستان ہے۔
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
کہانی کا آغاز 13 فروری 1258ء سے ہوتا ہے، جب بنو زیدان کے پڑاؤ پر شدید بارش برس رہی ہوتی ہے۔ اسی دوران کمانڈر یاسین اپنے سردار ایوب بن زیدان کے پاس ایک انتہائی افسوسناک خبر لے کر پہنچتا ہے۔
بغداد سقوط کر چکا ہے اور خلیفہ المستعصم باللہ گرفتار ہو چکے ہیں۔
بغداد کے زوال کی خبر بنو زیدان کے لیے صرف ایک سیاسی شکست نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی صدمہ بھی ہے۔ اسلامی دنیا کے ایک اہم مرکز کے سقوط پر سردار ایوب غمگین ہوتا ہے، لیکن وہ مایوسی کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتا۔ اس کے دل میں یہ عزم پیدا ہوتا ہے کہ ایک سلطنت کے زوال کے بعد بھی قیادت، انصاف اور بہادری کا چراغ بجھنا نہیں چاہیے۔
اسی سوچ کے تحت ایوب ایک ایسے جانشین کی پرورش کا فیصلہ کرتا ہے جو مستقبل میں اپنے لوگوں کی رہنمائی کر سکے اور عدل و شجاعت کی روایت کو آگے بڑھائے۔
کچھ عرصے بعد ایوب کی اہلیہ زہرہ بنت خالد ایک بیٹے کو جنم دیتی ہیں، جس کا نام شہزادہ عمار بن یاسین بن ایوب رکھا جاتا ہے۔ ایوب عمار کی تربیت صرف ایک جنگجو کے طور پر نہیں کرتا بلکہ اسے ایک ایسا حکمران بنانے کی کوشش کرتا ہے جو طاقت کے ساتھ رحم، انصاف اور انسانیت کی قدر بھی جانتا ہو۔
عمار ایک مضبوط، بااثر اور جنگی مہارت رکھنے والے نوجوان رہنما کے طور پر ابھرتا ہے۔ اس کی شخصیت میں رعب، شجاعت اور قیادت کی نمایاں خصوصیات نظر آتی ہیں۔ اس کے ہاتھوں میں موجود چاندی کے دستوں والی تلواروں پر “لا غالب إلا اللہ” کندہ ہے، جو اس کے عزم اور ایمان کی علامت بن جاتی ہے۔
لیکن بنو زیدان کے لیے امن زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔
ایک خطرناک خبر موصول ہوتی ہے کہ رومانیکو ریاست نے ایک بہت بڑی فوج ان کی سرحدوں کی جانب روانہ کر دی ہے۔ دشمن کی تعداد تقریباً ستر سے اسی ہزار سپاہیوں تک بتائی جاتی ہے۔ خطرے کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے سردار ایوب اپنے چھ اتحادی قبائل کو متحد کرتا ہے اور تقریباً بیالیس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک مشترکہ فوج تیار کرتا ہے۔
جنگ کے لیے ایک تاریخی مقام کا انتخاب کیا جاتا ہے جسے میدانِ شمشیر کہا جاتا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں کبھی ایوب کے والد نے خانہ بدوش حملہ آوروں کو شکست دی تھی۔ اب ایک بار پھر یہی میدان آنے والی جنگ کا مرکز بننے والا ہے۔
مگر خطرہ صرف بیرونی دشمن سے نہیں۔ طاقت، اقتدار اور سیاسی مفادات کے درمیان اندرونی غداری اور سازشوں کے امکانات بھی بڑھنے لگتے ہیں، جس سے بنو زیدان کی جنگ مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
یوں “زوال” ایک ایسی تخیلاتی دنیا میں داخل ہوتا ہے جہاں میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں بھی کشمکش جاری ہے۔ وفاداری کا امتحان لیا جاتا ہے، دشمنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کرداروں کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں کون اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔
زوال میں تاریخی دور کی جھلکیاں، جنگی ماحول اور سلطنتوں کے عروج و زوال کو تخیل کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ناول کا مقصد کسی حقیقی تاریخی شخصیت یا واقعے کو حرف بہ حرف بیان کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسی نئی دنیا تخلیق کرنا ہے جہاں قاری بہادری، وفاداری، قربانی، اقتدار اور انسانی عزم کے سفر کا حصہ بن سکے۔
یہ داستان اس تصور کو سامنے لاتی ہے کہ سلطنتیں زوال پذیر ہو سکتی ہیں، مگر عزم، کردار اور امید کا سفر جاری رہتا ہے۔
امید ہے کہ قارئین “زوال” کو ایک تاریخی حوالوں سے متاثر تخیلاتی داستان کے طور پر پڑھیں گے اور اس کی تخلیق کردہ دنیا، کرداروں اور واقعات کے اس سفر سے لطف اندوز ہوں گے۔
| Episode 1 | |
| Episode 1 |
ایوب نے آہستہ سے اپنی نظریں یاسین کی طرف اٹھائیں۔ اس کی آنکھوں میں وہی گہرائی تھی، مگر اب اس گہرائی کی تہہ میں کچھ تلاطم تھا، کچھ ٹوٹ رہا تھا اور کچھ بن رہا تھا۔
“…یاسین”
اس کی آواز پر سکون کہ سننے والا مگر اس سکون کے اندر ایک طوفان دبے پاؤں چل رہا تھا، وہ طوفان جو صرف سرداروں کے سینوں میں اٹھتا ہے، خاموش، گہرا، اور تباہ کن۔
کیا بغداد کے لوگ اکیلے رہ گئے ؟ کیا وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو اس تباہی کے سامنے کھڑا ہو سکتا ؟”
یاسین نے افسر جھکا لیا۔ اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ یاسین نے سے سر مزید
سردار، دشمن بہت طاقتور تھا۔ شہر کے دروازے ٹوٹ گئے، محل اجڑ گئے، کتب خانے جل گئے … اور وہ علم جس پر دنیا فخر کرتی تھی، وہ دریائے دجلہ میں بہا دیا گیا۔ کہتے ہیں پانی کتابوں کی سیاہی سے کالا ہو گیا تھا۔ “
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
The letters we never sent by Eman Zainab Complete English novel Download pdf Introduction The…
Ana ki aag mein by Aqsa Mazhar Download pdf انا کی آگ میں از اقصیٰ…
Aakhri Lamhaat by Syeda Hoor Fatima Download pdf آخری لمحات از سیدہ حور فاطمہ —…
Moajzey afsana by Haya Noor Download pdf معجزے از حیا نور — کہانی کا خلاصہ…
Woh Zehni Sochain by Anisa Falak Download pdf وہ ذہنی سوچیں از انیسہ فلک —…
Tinka by Harmain Zahra Complete Download pdf تنکا از حرمین زہرا — ناول کا خلاصہ…