“باپ بیٹےکامقدمہ “*
(ایک عربی پوسٹ کاترجمہ )
تحریر۔ ڈاکٹر بابر جاوید ۔
ایک بوڑھاآدمی عدالت میں داخل ہواتاکہ اپنی شکایت(مقدمہ)قاضی کےسامنےپیش کرے-
قاضی نےپوچھاآپ کامقدمہ کس کےخلاف ہے؟ اس نےکہااپنےبیٹےکےخلاف۔قاضی حیران ہوااورپوچھاکیاشکایت ہے،بوڑھے نےکہا،میں اپنےبیٹے سے اس کی استطاعت کےمطابق ماہانہ خرچہ مانگ رہاہوں،قاضی نےکہا یہ توآپ کااپنےبیٹےپرایساحق ہےکہ جس کےدلائل سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے
بوڑھےنےکہا قاضی صاحب ! اس کےباوجود کہ میں مالدارہوں اورپیسوں کامحتاج نہیں ہوں،لیکن میں چاہتاہوں کہ اپنےبیٹے سےماہانہ خرچہ وصول کرتارہوں-
قاضی حیرت میں پڑگیااوراس سےاس کےبیٹےکانام اورپتہ لیکراسے عدالت میں پیش ہونے کاحکم جاری کیا۔بیٹاعدالت میں حاضرہواتوقاضی نےاس سےپوچھاکیایہ آپ کےوالدہیں؟بیٹےنےکہاجی ہاں یہ میرےوالدہیں- قاضی نےکہاانہوں نےآپ کےخلاف مقدمہ دائرکیاہےکہ آپ ان کوماہانہ خرچہ اداکرتےرہیں چاہےکتناہی معمولی کیوں نہ ہو-
بیٹےنےحیرت سے کہا،وہ مجھ سےخرچہ کیوں مانگ رہےہیں جبکہ وہ خودبہت مالدارہیں اورانہیں میری مددکی ضرورت ہی نہیں ہے-
قاضی نےکہایہ آپ کےوالد کاتقاضاہے اوروہ اپنےتقاضے میں آزاد اورحق بجانب ہیں۔ بوڑھے نےکہا قاضی صاحب!اگرآپ اس کوصرف ایک دینارماہانہ اداکرنےکاحکم دیں تومیں خوش ہوجاوں گابشرطیکہ وہ یہ دینارمجھے اپنےہاتھ سےہرمہینےبلاتاخیراوربلا واسطہ دیاکریے۔قاضی نےکہابالکل ایساہی ہوگایہ آپ کاحق ہے-
پھرقاضی نےحکم جاری کیا کہ “فلان ابن فلان اپنےوالدکوتاحیات ہرماہ ایک دیناربلاتاخیراپنےہاتھ سےبلاواسطہ دیاکرےگا”
کمرہ عدالت چھوڑنےسےپہلےقاضی نےبوڑھےباپ سےپوچھاکہ اگرآپ برانہ مانیں تومجھے بتائیں کہ آپ نےدراصل یہ مقدمہ دائرکیوں کیاتھا،جبکہ آپ مالدارہیں اورآپ نےبہت ہی معمولی رقم کامطالبہ کیا؟
بوڑھے نےروتےہوئے کہا، قاضی محترم !میں اپنےاس بیٹےکودیکھنےکےلئے ترس رہاہوں،اور اس کواس کےکاموں نے اتنامصروف کیاہےکہ میں ایک طویل زمانےسےاس کاچہرہ نہیں دیکھ سکاہوں جبکہ میں اپنےبیٹے کےساتھ شدید محبت رکھتاہوں
اورہروقت میرےدل میں اس کاخیال رہتاہےیہ مجھ سے بات تک نہیں کرتاحتیٰ کہ ٹیلیفون پربھی-
اس مقصدکےلئے کہ میں اسے دیکھ سکوں چاہے مہینہ میں ایک دفعہ ہی سہی،میں نے یہ مقدمہ درج کیاہے۔
یہ سن کرقاضی بےساختہ رونےلگااورساتھ دوسرےبھی،اوربوڑھے باپ سےکہا،اللہ کی قسم اگرآپ پہلےمجھےاس حقیقت سےاگاہ کرتےتومیں اس کوجیل بھیجتااورکوڑےلگواتا۔بوڑھے باپ نے ہنستے ہوئے کہا۔
“سیدی قاضی!آپ کایہ حکم میرےدل کوبہت تکلیف دیتا “
کاش بیٹے جانتےکہ ان کےوالدین کی دلوں میں ان کی کتنی محبت ہے،اس سےپہلے کہ وقت گزرجائے۔
.
*************
Woh Jo Har Jagah Thi by Shayara Sehar Download pdf وہ جو ہر جگہ تھی…
Rishton Ka Qarz by Kaynaat Download pdf رشتوں کا قرض از کائنات — ناول کا…
Hamari shadi kab hogi by Sonia Malik Download pdf ہماری شادی کب ہوگی؟ از سونیا…
Junoon by Husn-e-Tehreer Download pdf ناول جنون از حسنِ تحریر — اردو خلاصہ ناول جنون…
Hajr-e-aswad by Jannat Asif Download pdf حجرِ اسود — ایک ایسی کہانی جو دل کو…
اسکارلٹ ایڈریسن کی یہ انجانی دنیا اور گریس ایلن کا پراسرار سفر آپ کو سحر…