Tere sadqy sab main wariya by Aiman Razzaq Download pdf ] is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
اردو ادب میں کچھ ناول ایسے ہوتے ہیں جو قاری کو صرف ایک کہانی نہیں سناتے بلکہ اسے جذبات، رشتوں اور تقدیر کے ایسے سفر پر لے جاتے ہیں جہاں ہر موڑ دل کو چھو لیتا ہے۔
“تیرے صدقے سب میں واریا” معروف مصنفہ Aiman Razzaq کا ایک ایسا ہی شاندار ناول ہے جس میں محبت، نفرت، طبقاتی فرق، خاندانی انا اور قربانی کے جذبات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
یہ کہانی دو مختلف دنیاؤں کے گرد گھومتی ہے۔
ایک طرف معصوم اور مظلوم حوریہ ہے، جو اپنی سوتیلی ماں کے ظلم اور گھریلو بے حسی کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف “خان حویلی” کی پرشکوہ دنیا ہے جہاں طاقت، رعب اور خاندانی اصول سب پر حاوی ہیں۔
ناول کا اصل حسن اس کی جذباتی گہرائی اور کرداروں کی نفسیاتی کشمکش میں چھپا ہوا ہے۔
یہ صرف ایک محبت کی کہانی نہیں بلکہ:
کی ایک مکمل داستان ہے۔
کہانی میں “خان حویلی” صرف ایک گھر نہیں بلکہ ایک پوری روایت، طاقت اور خاندانی غرور کی علامت ہے۔
یہاں ہر کردار اپنے اصولوں اور جذبات کے درمیان جنگ لڑتا دکھائی دیتا ہے۔
کہانی اس وقت دلچسپ رخ اختیار کرتی ہے جب شہریار خانزادہ برسوں سے بچھڑے خاندانی رشتوں کو تلاش کرنے نکلتا ہے اور اس کی ملاقات لندن میں پلنے والی زرنش ابراہیم سے ہوتی ہے۔
زرنش کے دل میں خان خاندان کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کے والد کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔
یہ نفرت، غرور اور جذبات کی ٹکر کہانی کو مزید طاقتور بنا دیتی ہے۔
کہانی کی معصوم اور صابر ہیروئن۔
وہ اپنی سوتیلی ماں اور بہنوں کے ظلم سہتی ہے مگر اللہ پر یقین اور صبر کا دامن نہیں چھوڑتی۔
خان حویلی کا باوقار اور اصول پسند نوجوان۔
اس کی شخصیت میں سختی بھی ہے اور خلوص بھی، جو اسے ایک مضبوط کردار بناتی ہے۔
خوددار، سخت مزاج اور جذباتی لڑکی۔
اس کے کردار میں دکھ، غصہ اور محبت تینوں شدت کے ساتھ موجود ہیں۔
ایک بہادر اور انصاف پسند کردار، جس نے جاہلانہ رسم کے خلاف کھڑے ہو کر “حیا” کی زندگی بچائی۔
کہانی کا منفی کردار، جو حسد، نفرت اور خود غرضی کی علامت ہے۔
مصنفہ نے نہ صرف رومانوی جذبات کو خوبصورتی سے لکھا ہے بلکہ معاشرتی مسائل اور جاہلانہ رسومات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
یہی چیز اس ناول کو عام محبت کی کہانیوں سے مختلف بناتی ہے۔
ایمن رزاق کا اندازِ تحریر نہایت دلکش اور جذباتی ہے۔
ڈائیلاگز میں حقیقت کا رنگ ہے جبکہ کرداروں کے احساسات اس انداز سے بیان کیے گئے ہیں کہ قاری ہر منظر کو محسوس کرنے لگتا ہے۔
“آپ نے ماما کو کیوں جانے دیا زرنش جان؟” وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
“کیونکہ انہیں اپنی اصل منزل کی طرف لوٹ کر جانا تھا اور یہ دنیا کا نظام کے ایک دن ہم سب کو بھی جانا ہے ،ہمارے روکنے سے انہوں نے رک نہیں جانا تھا حورین بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔”
“ماما بھی چلی گئیں بابا بھی چلے گئے ہمارا کیا ہوگا زرنش جان ؟ ہمیں تو ماما کے ہوتے ہوئے بھی کوئی سکون کا سانس نہیں لینے دیتا اب تو ماما بھی چلی گئیں” وہ گھٹنوں میں سر دیے سسک اٹھی ۔
“آپ لوگوں کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بھابھی! میں آپ لوگوں کی زمہ داری اٹھانے کو تیار ہوں اور یہ میری بیوی ہے میرے ہوتے ہوئے کوئی اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا ،اور میں اس کے سارے خواب پورے کروں گا”
آہل کمرے میں داخل ہوتے بولا
“ہمیں کسی کا احسان لینے کی ضرورت نہیں ہم کل کی فلائٹ سے واپس چلیں جائیں گے٫
“زرنش کوئی کہیں نہیں جائے گا اور اگر کسی نے چار کی تو میں سنبھال لوں گا جتنا حق باقی سب کا ہے اتنا تم لوگوں کا بھی ہے اور اب تو یہ حویلی تمہارے نام پر اس سے بڑھ کر کیا ثبوت چاہیے ؟” شہریار نرمی سے بولا۔
۔کیا مطلب ؟” شہریار نے چونک کر اسے دیکھا
“مطلب یہ میری ماما کی موت کی وجہ تمہاری ماں ہے شہریار خان” زرنش تلخی سے بولی۔
“زرنش یہ کیا بکواس ہے ؟” شہریار نے مٹھیاں بھینچ ہاں وہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی لیکن کسی پر اتنا بڑا الزام عائد کرتے اس کی زبان نہیں لڑکھڑائی۔
,زرنش آپی کم از کم موقع تو دیکھ لیں ہماری ماما ہمیں چھوڑ کر جا چکی ہیں “حالے نور ان سب میں پہلی دفعہ بولی تھی
“بھابھی میں مورے سے بات کروں گا وہ آج کے بعد آپ سے کچھ نہیں کہیں گی لیکن میں آپ کو یہاں سے کہیں نہیں جانے دوں گا “
“آہل مج۔۔مجھے ماما پاس جانا ہے ” حورین نے اس کی آستین کھینچ کر اسے پکارا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔
“آپ واقعی لے کے جائیں گے؟” حورین نے یقین دہانی کرنی چاہی۔
“ہاں میں واقعی لے کے جائوں گا ،تم رونا بند کرو”
“حالے نور بیٹا اب ہم چلتے ہیں بہت دیر ہو گئی ہے “انعم بیگم جو آس کی ساس تھیں وہاں آئیں ۔
“آنٹی آپ کون میں نے آپ کو نہیں پہچانا ؟” زرنش نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
“آپی یہ ضرغام کی ماما ہیں میری ساس” حالے نور آہستگی سے بولی ۔
“یہ کب ہوا اور مجھے بتایا بھی نہیں کسی نے “
“آپی کل دوپہر کو میرا رشتہ پکا ہوا تھا اور یہ ماما کی فرمائش تھی”
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ان کو دیکھ رہی تھی
“نہیں بیٹا ضرغام انتظار کر رہا ہے بھابھی بہت اچھی تھیں اللہ ان کی آگے کی منزلیں آسان کرے اور اپنا خیال رکھنا” وہ اس کے ماتھے پر پیار دیتی بولی۔
“چلیں آنٹی میں آپ کو نیچے تک چھوڑ دیتی ہوں”حالے نور نے آنکھیں پونچھی اور ان کے ساتھ چل دی۔
“بیٹا کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو بلا جھجھک بتانا میں ضرغام کے ہاتھوں بھجوا دوں گی اب تم ہماری بیٹی ہو” وہ شفقت سے بولیں
“جی آنٹی ،آپ کا شکریہ “
“ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا ” وہ اس کے بالوں سہلاتی ضرغام کی طرف پلٹیں” چلیں ضرغام بیٹا؟”
“ماما آپ گاڑی میں بیٹھیں میں آتا ہوں”
وہ سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے چلی گئیں
“اللّٰہ کے حکم کے آگے ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟” حالے نے سر جھکا لیا۔
“آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی یا کوئی بھی پرابلم کوئی تو یہ میرا نمبر ہے مجھ سے رابطہ کر لیجیے گا “اس نے جیب سے اپنا کارڈ نکال کر حالے کی طرف بڑھایا۔
“شکریہ” حالے یک لفظی کہتی کارڈ تھام گئی۔
“چلتا ہوں مسز توبہ اپنا خیال رکھیے گا ” وہ سنجیدگی سے کہتا وہیں سے پلٹ گیا۔
حالے نور نے اپنے آنسو صاف کے اور پلٹی کہ کسی سے ٹکرائی ۔
“چچی کو گزرے وقت کی کتنا ہوا ہے تمہاری عیاشیاں شروع ہو گئیں ؟” زاویار طنزیہ بولا۔
“راستہ چھوڑیں میرا ،آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا میرے بارے میں ایسی بکواس کرنے کا؟” اس نے ایک ایک لفظ زور دیا۔
“اگر یہاں وہاں تک اپنی حرکتیں سدھار لو،مس حالے ہمارے ہاں یہ سب نہیں چلتا “زاویار سرد انداز میں کہتا واک آؤٹ کر گیا۔
حالے نور نے نم آنکھوں سے اس کی پشت کو دیکھا ماں کا غم بھلائے نہیں جا رہا تھا ور اوپر سے وہ اپنے زہریلے الفاظ اس کے دل کو جال چکے تھے وہ سر جھٹک کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔
****************
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Sarab-e-Mohabbat by Fatimah Rana Download pdf Sarab-e-Mohabbat by Fatimah Rana Download pdf is a beautifully…
Dur-e-Najaf by Mazhar Yousafzai Download pdf Dur-e-Najaf by Mazhar Yousafzai Download pdf is a beautifully…
Red rose by Muhammad Muzamil Download pdf Red rose by Muhammad Muzamil Download pdf is…
Asudgi afsana by Samiya Rani Download pdf Asudgi afsana by Samiya Rani Download pdf is…
Akhri Faisla by Afza Kanwal Download pdf Akhri Faisla by Afza Kanwal Download pdf is…
Main, qalam aur PGC by Malaika Noor Download pdf Main, qalam aur PGC by Malaika…