Thori si mohabbat to hai tum se by Huda Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
کچھ کہانیاں دل سے لکھی جاتی ہیں… اور سیدھا دل تک پہنچتی ہیں۔
“تھوڑی سی محبت تو ہے تم سے” بھی ایک ایسی ہی جذباتی اور حقیقت کے قریب تحریر ہے جو قاری کو ہنستی مسکراتی زندگی سے اٹھا کر آزمائشوں کی دنیا میں لے جاتی ہے۔
یہ کہانی صرف محبت کی نہیں بلکہ خاندان، ذمہ داری اور قربانی کی بھی ہے۔
کہانی کا آغاز ایک سادہ مگر خوشحال متوسط طبقے کے گھرانے سے ہوتا ہے، جہاں زینب (زینی) اپنی شوخیوں، بے فکری اور بھانجوں کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔
مگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی…
اچانک اس کی بڑی بہن آمنہ کی وفات سب کچھ بدل دیتی ہے۔
یہ سانحہ نہ صرف زینب بلکہ پورے خاندان کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
یہیں سے کہانی ایک نئے رخ پر آتی ہے—
غم، ذمہ داری اور وقت کے ساتھ بدلتے رشتوں کی ایک گہری داستان شروع ہوتی ہے۔
ایک شوخ، منہ پھٹ مگر دل کی بے حد صاف لڑکی۔ بہن کی وفات کے بعد اس کی زندگی ایک مشکل امتحان بن جاتی ہے، جہاں اسے اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کے لیے جینا پڑتا ہے۔
ایک مثالی بہن، بیوی اور ماں، جس کی اچانک جدائی پوری کہانی کا سب سے بڑا موڑ ہے۔
آمنہ کا شوہر، جو بیرون ملک مقیم ہے۔ ایک سنجیدہ اور ذمہ دار انسان جو اپنے خاندان سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔
حازب کا بھائی، جو مشکل وقت میں سہارا بنتا ہے اور خاندان کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گھر کے بزرگ، جو اپنی دانائی اور شفقت سے بکھرتے رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ ناول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
زندگی میں آزمائشیں آتی ہیں، مگر اصل طاقت رشتوں کو نبھانے میں ہوتی ہے۔
یہ کہانی دکھاتی ہے کہ محبت ہمیشہ بڑے دعووں میں نہیں ہوتی—
کبھی کبھی وہ صرف “تھوڑی سی” ہوتی ہے… مگر بہت گہری۔
ہائے اللہ ! یہ تو بہت تھوڑے پیسے ہیں ۔کیا کروں ؟۔۔۔اس نے کافی اونچی آواز میں خود کلامی کی اور ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو دیکھا۔پیسے دوبارہ اپنے چھوٹے سے بیگ میں رکھتے ہوئے اسے زور سے ڈریسنگ پر پٹخ کر وہ وہاں سے اٹھی اور کمرے سے باہر آئی۔
باہر آکر اس نے ایک طائرانہ نظر پورے برآمدے پر ڈالی ۔سامنے ہی اس کی بہن کے دونوں بچے فرش پر بیٹھے کھیل رہے تھے۔اسے دیکھ کر وہ دونوں بھاگ کر اس کے پاس آئے۔
آج نہیں پتر جی ۔کل جائیں گے آئس کریم کھانے ۔۔۔اس نے اپنے بھانجے
کو ٹالنا چاہا آج اس کا موڈ بہت خراب تھا ۔اس کی بات پر اس کیوٹ سے بچے کا منہ ہی اتر گیا۔دوسرا بچہ دکھنے میں کافی سمجھدار تھا وہ خاموشی سے
واپس اپنے کھلونوں کے پاس چلا گیا۔اگلے ہی پل وہ ایک ایک کر کے اپنے کھلونے زور زور سے سامنے والی دیوار پر مار رہا تھا۔میں نے کہا دکھنے میں سمجھدار تھا ۔اصل میں تو۔۔۔
ارحم!۔۔۔میرے کھلونے کیوں توڑ رہے ہو؟اپنے توڑو نا!۔۔۔وہ دوسرا بچہ
غصیلی نظروں سے ارحم کو دیکھتا فوراََ اس لڑکی کا ہاتھ چھوڑ کر اس کی طرف بڑھا۔ارحم کو اس کا ٹوکنا شاید پسند نہیں آیا تھا اس نے ایک چھوٹی سی نیلی کار احمد کی طرف اچھالی جو سیدھی جا کر اس کے سر میں لگی تھی ۔
وہ وہیں بیٹھ کر رونا شروع ہوچکا تھا اور ارحم باقی کے کھلونے بھی دیوار پر
مار مار کر انہیں توڑنے میں مصرو ف ہوچکا تھا۔وہ لڑکی تیز ی سے احمد کے پاس آئی اور
اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس کے سر پر جہاں گاڑی لگی تھی وہاں آہستہ سے پھونک ماری۔احمد اس کے ساتھ لگا سسکیوں کے ساتھ رورہا تھا اور وہ اسے چپ کروا رہی تھی ۔
اس کی بات سن کر ارحم کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکے۔لیکن اگلے ہی پل اس نے ہاتھ میں پکڑی اپنی فیورٹ کار سامنے دیوار پر دے ماری ۔
بولو آج آئسکریم کھلانے جائیں گی یا کل ۔۔۔وہ پوری طرح اس کی طرف گھوما۔اس لڑکی نے بے ساختہ اپنے سر پر ہاتھ مارا۔
اچھا! اچھا!۔۔۔آج ہی لے جاتی ہوں ۔تم پہلے اپنے کھلونے توڑنا بند کرو۔۔۔وہ عاجز آکر بولی۔احمد کا چہرہ تواس کی بات سنتے ہی کھل اٹھا تھا۔وہ رونا بھو ل کر فوراََ اس کے پاس سے اٹھا۔
ارحم برو ! چلو ہم اپنے کھلونے اٹھاتے ہیں ۔خالہ آپ جلدی سے چادر لے آئیں اپنی۔۔
۔احمد نے پہلے ارحم سے کہا اور پھر اپنی خالہ سے۔جس کے منہ کے زاویے چادر کے نام پر بے ساختہ بگڑے تھے۔
احمد پتر جی ایسے ہی ٹھیک ہے ۔چلومیں بھی آپ کے کھلونے اٹھانے میں مدد کرتی ہوں۔
۔۔لا پرواہی سے کہتی وہ ان کے ساتھ مل کر کھلونے ان کے بیگ میں ڈالنے لگی ۔
چلو بھئی اب خالہ اور خالہ کے دونوں پتر آئسکریم کھانے جائیں گے۔۔۔وہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے بولی
اور شانوں پر پھیلایا ہوا دوپٹہ اتار کر گردن میں ڈالتے ہوئے آگے کی جانب کر لیا۔کھلے
بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھ کر اس نے ایک نظر دونوں بچوں کو دیکھا جو حیرت سے منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
خالہ ۔آپ نے سنا نہیں احمد برو نے کہا ہے کہ چادر لے کر آئیں ۔۔۔ارحم نے ایک نظر
اس کے حلیے پر ڈال کر تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا۔احمد نے اسے اشارہ بھی کیا تھا چپ رہنے کا لیکن ارحم کو تو رعب جھاڑنے کی عادت تھی۔
****************
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Haqeeqat by Huda Download pdf A Bold Critique of ‘Bold Novels’ in Urdu Digital Literature…
My Dear Shaitan by Huda Download pdf My Dear Shaitan by Huda Download pdf is…
Gumshuda by Maha Meer Download pdf – A Heart-Touching Urdu Novel of Identity, Fate &…
Main apka phone by Huda Download pdf – A Thought-Provoking Urdu Story Review on Modern…
Tujh sang yara by Anadil Khan Complete novel pdf Tujh sang yara by Anadil Khan…
Zarmaakh ki qaid by Basma Nazeer Download pdf Zarmaakh ki qaid by Basma Nazeer Download…