Umeed-e-Sahar by by Sana Ejaz Download pdf
“امیدِ سحر” معروف لکھاری ثناء اعجاز کا ایک نہایت جذباتی، معاشرتی اور اصلاحی اردو ناول ہے، جو ازدواجی زندگی، بے اولادی کے کرب، خاندانی دباؤ، توہم پرستی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے جیسے اہم موضوعات کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ صرف ایک میاں بیوی کی کہانی نہیں بلکہ ان بے شمار جوڑوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اولاد کی نعمت سے محرومی کے باوجود معاشرتی رویوں اور تلخ الفاظ کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔
مصنفہ نے نہایت حساس انداز میں یہ دکھایا ہے کہ محبت صرف خوشیوں میں ساتھ دینے کا نام نہیں، بلکہ آزمائش کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بننا ہی حقیقی رشتے کی پہچان ہے۔ “امیدِ سحر” امید، صبر اور اعتماد کا ایسا سفر ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
کہانی کا آغاز ایک خوشگوار خاندانی تقریب سے ہوتا ہے، جہاں زریان شاہ اور اس کی اہلیہ روحاب اپنی محبت، باہمی احترام اور خوشگوار ازدواجی تعلق کی وجہ سے سب کی توجہ
کا مرکز ہوتے ہیں۔ بظاہر ان کی زندگی مکمل محسوس ہوتی ہے،
مگر اس خوشی کے پیچھے ایک ایسا دکھ چھپا ہوتا ہے جو آٹھ برس سے ان کے دلوں پر بوجھ بنا ہوا ہے۔
شادی کے کئی سال گزرنے کے باوجود اولاد نہ ہونے کی وجہ سے روحاب کو مسلسل طعنے، طنز اور معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر محفل، ہر تقریب اور ہر ملاقات اسے اس محرومی کا احساس
دلاتی ہے، جس کے باعث وہ آہستہ آہستہ نفسیاتی طور پر ٹوٹنے لگتی ہے۔
روحاب کی بے بسی اسے ایسے راستوں کی طرف لے جاتی ہے جہاں وہ
جلد مسئلہ حل کرنے کی امید میں توہم پرستی اور غیر شرعی طریقوں پر یقین کرنے لگتی ہے۔ ادھر اس کی والدہ گلناز بی بی بھی بیٹی کی خوشی کے لیے ایسے ذرائع اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو مزید مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔
اسی دوران زریان کی کزن آئرہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔
وہ روحاب کی بے اولادی کو بنیاد بنا کر زریان کے قریب ہونے کا خواب دیکھتی ہے، جس سے کہانی میں مزید جذباتی کشمکش اور خاندانی تنازعات جنم لیتے ہیں۔
ناول کا مرکزی مردانہ کردار، ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور وفادار شوہر۔ وہ ہر مشکل وقت میں روحاب کا ساتھ دیتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ حقیقی محبت حالات کے بدلنے سے ختم نہیں ہوتی۔
ایک نرم دل، محبت کرنے والی اور حساس بیوی، جو بے اولادی کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور معاشرتی طعنوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کا کردار ان بے شمار خواتین کی نمائندگی کرتا ہے جو معاشرے کے غیر منصفانہ رویوں کا سامنا کرتی ہیں۔
زریان کی والدہ، جن کی سب سے بڑی خواہش اپنے پوتے یا پوتی کو دیکھنا ہے۔ اسی خواہش میں وہ روحاب کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتی ہیں اور زریان کو دوسری شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔
روحاب کی والدہ، جو اپنی بیٹی کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتیں۔ وہ اس کی خوشی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، مگر بعض اوقات جذبات میں آ کر غلط راستوں کا انتخاب کر لیتی ہیں۔
زریان کی خالہ زاد بہن، جو موقع پرست اور خود غرض مزاج رکھتی ہے۔ وہ روحاب کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر زریان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔
روحاب کی بھابھی، جو گھر کے ماحول، رشتوں کے اتار چڑھاؤ اور بدلتے حالات کو خاموشی سے دیکھتی اور سمجھتی رہتی ہے۔
رُوحاب بہت معصوم اور سادہ سی ہے لوگ اُس کا بہت جلد فائدہ اُٹھا لیتے ہیں , زَریاب اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
اسی لیے میں اُسے چالاک اور سازشی لوگوں سے بچا کر اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں ,
مگر زَریاب اب حالات ایسے نہیں رہے , علی بھی اُس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
میں حالات سے لڑ لوں گا اور اپنی بیوی کی ہر غلطی کو سب سے چھپا کر اُسے معاف کر کے تاحیات اپنے ساتھ رکھوں گا, زَریاب جذباتی ہو گیا۔
اچھا جب تم نے خود رُوحاب کو بابا جی کے پاس جاتے دیکھ لیا تھا , علی نے اُس کی طرف دیکھا پھر
اُس وقت یہ اقرار کر لیتے کہ وہ یہ سب میری مرضی سے کر رہی ہے ۔
علی میں ایسا ہی بولنے والا تھا مگر وہ آئرہ جو مجھ سے پہلے ہی سارا سچ جانتی تھی بول پڑی ۔ زَریاب نے غصے سے میز کو ہلکی سی ٹھوکر ماری۔
تو مجھے خاموش رہنا ہی مناسب لگا۔
ہاں وہی مصیبت اُس نے دانت پیس لیے ۔
وہ تو مجھے بہت تیز لگتی ہے , علی نے سامنے دیوار پر لگی بڑی سی گھڑی کی طرف دیکھا۔
ہاں بہت , زَریاب کی پریشانی اُس کے چہرے پر واضح تھی ۔
زَریاب یار فکر نہ کر کوئی حل ڈھونڈتے ہیں , علی نے اُسے کندھوں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور سامنے میز پر رکھا جوس کا گلاس اُس کی طرف بڑھا دیا۔
کچھ دیر پھر خاموشی چھائی رہی۔
دیکھو یار میں تمھیں وہی مشورہ دوں گا جو اس ساری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں آ رہا ہے, علی نے اپنے ساتھ بیٹھے زَریاب کی طرف دیکھا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد علی پھر گویا ہوا
علی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا , لیکن اب اپنی ماں کی خوشی اور اپنی نسل آگے بڑھانے کا بھی کچھ سوچو ۔
زَریاب نے اُس کی طرف دیکھا مگر کچھ نہ کہا۔
تمھارا کوئی اور بہن بھائی ہوتا اُن کی اولاد ہوتی تو پھر تمھاری دوسری شادی اور آنٹی کی دادی بننے کی خواہش ادھوری نہ رہتی , علی نے ہمدردی سے زَریاب کا ہاتھ پکڑا۔
مگر اب تمھارے پاس دوسری شادی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں اس لیے اپنے بیچ کی لڑائی ختم کر کے صلاح مشورے سے یہ کڑوا گھونٹ بھر لو۔
****************
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Lail by Wania Maqsood Download pdf Lail by Wania Maqsood Download pdf is a beautifully…
Ajnabi sa deewana by Umme Hani Download PDF Ajnabi sa deewana by Umme Hani Download…
Saraye khwab o khyal by Farah Bukhari Download PDF Saraye khwab o khyal by Farah…
Raat Rail Aur Ruqqay By Mehboob Alam Pdf Raat Rail Aur Ruqqay By Mehboob Alam…
Khauf Novel By MA Rahat Pdf Free Download Khauf Novel By MA Rahat Pdf Free…
Sandal Ka Taboot By MA Rahat Complete Pdf Sandal Ka Taboot By MA Rahat Complete…