Hum dekhain gay by Rayeha Maryam Complete novel download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
Whether you enjoy heartfelt love stories or tales that dive into social and family issues, this novel has something special to offer every reader. It reflects the deep traditions of Urdu literature, enriched with strong characters, emotional twists, and unforgettable moments.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Dive into this captivating narrative and experience the emotional rollercoaster that makes Hum dekhain gay by Rayeha Maryam Complete novel download pdf a must-read for every Urdu novel lover.
Explore a rich treasure trove of social and romantic Urdu novels at Ez Reader’s Choice Novels — your go-to platform for heart-touching love stories, emotional dramas, and socially inspired narratives. Whether you’re into fictional tales, true stories, or episodic novels, we’ve curated a collection that speaks directly to your soul.
💖 Download complete Urdu novels in PDF format, including long romantic sagas, family-based dramas, and unforgettable character journeys — all in one place!
Are you a passionate reader of Urdu literature? Love diving into characters that feel real and stories that linger in your heart?
Ez Reader’s Choice proudly features the timeless works of Rayeha Maryam, an acclaimed writer known for captivating storytelling, emotional intensity, and unforgettable plots that stay with you long after the last page.
Maan by Rayeha Maryam Complete novel download pdf
Ice cream short novel by Rayeha Maryam Complete novel download pdf
Hum dekhain gay by Rayeha Maryam Complete novel download pdf
Iffat ki pasban by Rayeha Maryam Complete novel download pdf
Join thousands of readers who visit Ez Reader’s Choice every day for their literary fix!
Don’t miss out on the magic of [Rayeha Maryam. Dive into a world where emotions meet eloquence and every story becomes a part of your heart.
👉 Visit now: https://ezreaderschoice.com/
اگر آپ ایک لکھاری ہیں اور ان کرداروں کو بخوبی لکھ سکتے ہیں تو اٹھائے قلم اور لکھ دیجئے ایک ایسی کہانی جو دلوں کو چھو لے اور ان کرداروں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے اپنی صلاحیت کو بھی اجاگر کریں
آج ہی ہمیں اپنی تحریر ارسال کریں جس کو ہم ایک ہفتے کے اندر اپنی ویب سائیٹ اور دیگر سوشل میڈیا گروپ میں
شامل کر یں گے ۔
مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔
واٹس ایپ نمبر کے لیے ابھی میل کیجئے
Email address: mobimalik83@gmail.com
” ارے سنیے !!! “ آواز لگائی لیکن اس شخص تک نہیں پہنچی ۔ قدموں کی رفتار مزید بڑھا دی ۔
” سفید قمیص والے بھائی صاحب ! “ اب کی بار اس شخص نے مڑکر دیکھا تو وہ چھوٹی بچی بھی گھوم کر اسے دیکھنے لگی جو کہ اب اپنی سانس ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی ۔
” جی محترمہ فرمائیں ۔“ اس شخص نے سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔
” کیا یہ ۔۔۔۔ یہ آپ کی بیٹی ہیں کیا ؟“ عشال نے یہ سوال ہر گز یوں نہیں پوچھنا تھا ، لیکن زبان پھسل گئی ۔
” نہیں ۔۔۔۔ مجھے سڑک پر یہ چاکلیٹ ملی ، مجھے لگا یہ اس بچی کی ہے ۔“ عشال نے اپنی بند مٹھی کھول کر اس بچی کی طرف کر دی ۔
پہلے ہی وہ شخص برہم تھا اب مزید غصہ میں آگیا ۔
” دیکھو بی بی یہ کیا مزاق ہے ؟ “
عشال نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا پھر اپنی مٹھی کو جو کہ خالی تھی ۔ شاید جب جھٹکا لگا تب چاکلیٹ اس کے ہاتھ سے گر گئی تھی ۔
” اوہ ۔۔۔ بی بی اور کوئی بات کرنی ہے یا میں اب جا سکتا ہوں ۔“ عشال کا ذہن ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کہے اتنے میں منظر میں ایک ہاتھ نمودار ہوا جس میں وہی چاکلیٹ تھی جو عشال نے اپنے بیگ سے نکالی تھی ۔
۔“ عشال نے ایک بھی لمحہ گنوائے بغیر وہ چاکلیٹ اس رکھوالے کے ہاتھ سے لی اور اس بچی کے سامنے کر دی ۔
” بچے! یہ آپ کی چاکلیٹ ہے کیا ؟ کیا آپ کو ان بابا نے لے کر دی ہے ؟ “ عشال آنکھوں میں محبت سموئے اس بچی سے پوچھ رہی تھی ۔
” بولو نوال یہ تمہاری چاکلیٹ ہے کیا ؟“ اس شخص نے بھی بچی سے پوچھا ۔
” نہیں بابا یہ میری چاکلیٹ نہیں ہے۔“ اس نے معصوميت سے منع کر دیا ۔
” جی شکریہ ، لیکن یہ چاکلیٹ دے دیں بچی کو ـ“ عشال نے مسکرا کر وہ چاکلیٹ نوال کی طرف بڑھا دی تو اس شخص کے کھنچے ہوئے تاثرات بھی کچھ نرم ہوئے اور بولا ، ” لے لو نوال بیٹا ۔“
” شکریہ آنٹی ۔“ اس بچی نے عشال کا شکریہ ادا کیا اور چلی گئی ۔
عشال نے سکھ کا سانس لیا ۔ گھوم کر دیکھا تو پاس کھڑے شخص پر نظر پڑی ۔
وہ تو کوئی پولیس والا تھا اور عشال کو عجیب جانچتی نظروں سے گھور رہا تھا ۔
عشال کو سمجھ نا آئے کہ کیا کہے ۔
کچھ کہے بھی یا نہیں ۔
” شکریہ سر ۔“ نظریں ملائے بغیر کہا ۔
” ہم۔۔۔م۔۔ حادثے سے بچانے کیلیے یا آپ کے جھوٹ کو سچ بنانے کیلیے ؟
” آ۔۔۔آ۔۔۔وہ حادثے سے بچانے کیلیے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔“ عشال کے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے ۔
پھر اور
”اور یہ کہ میں جھوٹ نہیں بول رہی تھی ۔“ ایک اور جھوٹ ۔
” تو آپ یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ وہ چاکلیٹ واقعی اس بچی کی تھی اور وہ روڈ پر گرا کر آئی تھی ؟“ وہ اب الفاظ سےکھیل رہا تھا ۔ لیکن عشال اب سمبھل چکی تھی ۔
” نہیں مجھے بس ایسا لگا تھا کہ وہ اس بچی کی ہے ۔“ اعتماد سے کہا لیکن آنکھوں میں نہ دیکھ پائی ۔
” کہاں ملی آپ کو یہ چاکلیٹ ؟“
” سڑک پر ۔“
” چاکلیٹ ایک تھی یا زیادہ ؟“ اب اس نے ابرو اچکا کر بولا ۔
عشال سوچ میں پڑ گئی کیونکہ جب اس نے بیگ میں ہاتھ ڈالا تھا تب مٹھی میں دو یا تین چاکلیٹس آئی تھیں ، اور بعد میں مٹھی خالی تھی ، اور اب اس شخص نے صرف ایک چاکلیٹ واپس کی تھی ، جب کوئی معقول جواب نا بن پایا تو بولی ۔
” محترمہ بہتر ہو گا جو پوچھا گیا ہے اس کا جواب دیں ۔“اس پولیس والے کے انداز میں ذرا نرمی نا آئی ۔
” لیکن کیوں ؟ کیا میں نے کوئی جرم کیا ہے ؟“ عشال نے غصے اور حیرت سے پوچھا ۔
وہ دونوں اس وقت تنگ سی سنسان گلی میں کھڑے تھے ۔
” جرم کیا ہے یا نہیں یہ فیصلہ میں کروں گا ۔ آپ وہ بتائیں جو پوچھا ہے ، چاکلیٹ ایک تھی یا زیادہ ؟“
” ایک تھی ـ“ عشال نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا ۔
” آپ کو میرے ساتھ پولیس سٹیشن چلنا ہو گا ـ“ ساتھ اس نے عشال کے آگے اپنی بند مٹھی کھول دی جس میں اسی کمپنی کی ایک اور چاکلیٹ تھی ۔ عشال کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔
” چلاؤ مت ! ( وہ دھاڑا ) بتاؤں تم نے کیا کیا ہے ، تم نے بیچ سڑک میں اپنی چلتی گاڑی چھوڑی اور پاگلوں کی طرح ایک آدمی اور اس کی بیٹی کا پیچھا کیا ، اس بات کی فکر بھی نہیں کی کہ چلتی گاڑی سے ٹکڑانے لگی ہو ، اور بچنے کے بعد اللہ کا شکر کرنے کی بجائے پھر سے اس شخص کے پیچھے بھاگی ہو اور سنسان گلی میں اس کے سامنے جا کر جھوٹ بولتی ہو اس کی بیٹی سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی ہو اور کہتی ہو تم نے کیا کیا ہے واللہ اعلم کہ تم کس ارادے کے تحت یہاں آئی ہو ؟“ وہ غصے میں عشال پر الزامات لگاتا رہا ۔
”میں نے صرف اس بچی کی بھلائی کیلیے ایسا کیا ۔“ عشال نے روتے ہوئے کہا ۔
” اس کا باپ اس کے ساتھ تھا ، پھر کس بھلائی کی بات کر رہی ہو بی بی ، کسے بیوقوف۔۔۔۔“ عشال نے اس کی بات کاٹی اور بولی ،
” اگر وہ اس کا باپ نا ہوتا۔۔۔“ اس انسپکٹر کو اپنی بات کاٹے جانے پر اتنا غصہ آیا کہ اس نے عشال کی بات کاٹی اور ہاتھ بلند کر کے چلا کر بولا ،
” وہ اس کا باپ تھا !!! ۔“
اب کی بار عشال اس سے بھی اونچی آواز میں دھاڑی ، ” اگر وہ اس کا باپ نا ہوتا تو ؟ ۔۔۔۔۔ اگر وہ کوئی انجان ہوتا تو ؟ ۔۔۔۔ اگر وہ اسے اغواء کر کے لے جا رہا ہوتا تو ؟ ۔۔۔ “ عشال کا سانس پھول گیا تو دوسری جانب وہ انسپکٹر حیرت سے اسے دیکھنے لگا ـ
” میں نے بس یہ بات کنفرم کرنا چاہی تھی کہ وہ اس کا باپ ہی ہے یا ۔۔۔ ؟“ عشال نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Bezubaan Qurbani by MK Khan Download pdf – A Tragic Tale of Love, Honor &…
The Lighthouse by Maria Anmol Rai Download pdf – A Thrilling Mystery of Secrets, Courage…
Artist afsana by Maria Anmol Rai Download pdf – A Painful Tale of Dreams, Pressure…
Jalta Diya by Salwa Muhammad Rafiq Download pdf – A Heart-Touching Story of Faith, Patience…
Teri jogan by Mahi Shah Complete pdf – A Gripping Social Romantic Urdu Novel Teri…
Masoom Churail Novel By MA Rahat Complete Pdf Masoom Churail Novel By MA Rahat Complete…