Skip to content

Nigah e muntazir by Faiqa Azam Complete novel

  • by

یاد ہے کبھی میں اس پوزیشن میں یہاں تنہا لون میں بیٹھا تھا ۔تب میں پریشان تھا ۔تم نے مجھ سے میری پریشانی پوچھی تو میں بتاے بغیر نارہ سکا ۔

آج تمہاری حالت بھی بالکل ویسی ہے جو اس عظیت سے گذارا ہو وہ سمجھ سکتا ہے ۔لیکن تم میں اور مجھ میں فرق بس اتنا ہے کہ میں نے اپنی پریشانی تمہیں بتا دی تھی ۔اور تم کبھی بھی نہیں بتاو گئے ۔مگر تم کچھ کہو یا نا کہو میرا دل تمہاری آنکھیں پڑنے میں اب ماہر ہوچکا ہے ۔

بینچ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے ابرام کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔وہ یونہی چاند کی طرف دیکھتا رہا ۔اچھا تو پھر بتا دیں کہ اپکا یہ بیٹا ۔کس مرض میں مبتلا ہے ۔وہ چاند کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو ۔جہانذیب اسکے دائیں جانب اکر بیٹھ گئے ۔اواذ دی ابرام ۔۔ادھر دیکھو ۔ابرام نے بامشکل چہرہ جہانزیب کی طرف موڑا ۔

جہانزیب نے اسکی تھوڑی کے نیچے اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں رکھیں ۔اور اسے یونہی دیکھتے رہے ۔ابرام نے ان کی ہتھیلی کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنی دونوں آنکھوں پر باری باری لگایا ۔

جب سب کچھ چھپا کر رکھے ہوئے تھا ۔تب بھی پل پل مر رہا تھا ۔اب سب کچھ بتا چکا ہوں تو ۔ڈر لگ رہا ہے کہ کچھ کھو نا دوں ۔جب سب چھپا رکھا تھا ۔تو وہ کم از کم میرے پاس تو تھی۔اب بتا چکا ہوں تو کہیں اسے کھو نا دوں ۔وہ بھیگی آنکھوں سے اعتراف کرتا ۔جہانذیب کے چودہ طبق روشن کروا گیا ۔کیا واقعے ہی اسے گوری سے محبت ہوگئی تھی ۔جہانذیب بے یقین دیکھائی دیے ۔مگر وہ کھلے الفاظوں میں پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے ۔اگر پوچھ بھی لیتے تو شاید وہ نابتاتا ۔