Neeli Roshnio mein tum by Quratulain Rajpoot Complete pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
Whether you enjoy heartfelt love stories or tales that dive into social and family issues, this novel has something special to offer every reader. It reflects the deep traditions of Urdu literature, enriched with strong characters, emotional twists, and unforgettable moments.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Dive into this captivating narrative and experience the emotional rollercoaster that makes Neeli Roshnio mein tum by Quratulain Rajpoot Complete pdf a must-read for every Urdu novel lover.
یہ ناول ان لڑکیوں کے نام جو بچپن کے عشق میں گرفتار ہوتی اپنی پہچان بھول جاتی ہیں۔۔۔۔
یہ ناول ان لڑکیوں کے نام جو اپنے خدا کو بھول کر نا محرم کے عشق میں گنہگار بن جاتی ہیں۔۔
یہ ناول آج کل کے خاص مردوں کے نام جو خاص عورتوں کے ساتھ ٹائم پاس کر کے خود بھی عام ہو جاتے ہیں اور ان کو بھی کر دیتے ہیں۔۔
************
****************
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
📧 Email:
Email address: mobimalik83@gmail.com
Novels are available Here as in PDF and Online Read . You can download or read online through the links given below .
“مجھے ابھی اور اسی وقت دلاور کی لوکیشن بھیجو۔ڈیم اٹ !!تمہیں میری بکواس سمجھ نہیں آرہی کیا۔”قیسر گاڑی میں بیٹھتا کسی سے فون پر بحث کر رہا تھا۔۔
“سر ان کی لوکیشن شو نہیں ہو رہی۔میں اپنی پوری کوشیش کر رہی ہوں شاید ان کا موبائل آف ہے۔”دوسری طرف سٹیلا کی پریشان آواز گونجی۔۔
“تم ایک نمبر کی کام چور ہو جیکسن سے کہوں لوکیشن بھیجے اس حرام زادے کی۔اگر اس بار تم نے اپنے کسی کام میں کوتاہی کی تو با خدا سٹیل میں لحاظ نہیں کروں تمہارے عورت ہونے کا۔مجھے اگلے پندرہ منٹو میں لوکیشن چاہیے۔کتنے منٹس کا کہا ہے میں نے؟؟”
“پندرہ منٹ۔”
“ہممم۔ورنہ کیا ہوگا؟؟”
“آپ میرے عورت ہونے کا بھی لحاظ نہیں کریں گے۔۔”
“تو اب تم کیا کرو گی؟؟”
“جیکسن کو کہوں گی لوکیشن کا۔۔”
“ہمممم گڈ۔جلدی کرو۔”
قیسر کی سیاہ آنکھوں میں غصے کی جھلک واضح نظر آرہی تھی۔سیاہ آنکھیں غصے سے سرخ تھی۔ماتھے پر بل پڑے ہوئے تھے۔بازؤں کے کلف کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے۔سیاہ قمیض شلوار پہنے منہ پر سیاہ ماسک لگائے اس وقت وہ نظر لگ جانے یی حد تک حسین لگ رہا تھا۔۔
قیصر نے اپنے فون پر اب جیکسن کا نمبر ڈائل کیا۔کال ملائی اور فون کان سے لگا لیا۔جیکسن نے کال لمحے کے ہزارویں حصے میں اٹھائی تھی۔
“یس باس!!”
“تمہیں سٹیلا نے کچھ بتایا؟؟”
“جی سر۔۔”
“کتنے منٹوں کا ٹائم دیا اس نے تمہیں؟؟”
“پندرہ منٹ باس۔۔”
“تو ابھی کتنے ہوئے ہیں؟؟”
“پانچ منٹ۔۔”
“دس منٹ بعد۔۔”
“کتنے؟؟”
“دس منٹ بعد ۔۔”
“ہممم۔نہ ایک لمحہ اوپر نہ نیچے۔۔”
“یس باس۔۔”
قیصر مبهم سا مسکرا دیا۔اب وہ اپنے سیکرٹ اسٹنٹ زمار خان کو کال ملا رہا تھا۔کال دوسری بیل پر اٹھا لی گئی۔۔
“کوئی کام تھا باس؟؟؟”
“ہممم۔۔”
“حکم کیجیے باس زمار کی جان بھی حاضر۔۔”
“میری باتیں تم غور سے سنوگے سمجھے۔۔”
“کیا ہوا ہے باس کوئی پرابلم ہوئی ہے؟؟”
“میں نے کہا میری بات غور سے سنو کوئی سوال نہیں پوچھو گے تم۔۔”
“جی کہیے۔۔”
“کوہلو کے سردار کو جانتے ہو؟؟”
“جی سر۔۔کوہلو پر ایک عورت سرداری کرتی ہے۔۔”
“جی ہے دو بیٹے ہیں۔۔”
“دلاور خان کو جانتے ہو ؟؟”
“جی سر۔۔”
“میں اس وقت کوہلو میں ہوں۔میرا یہاں آنے کا مقصد بدلہ لینا ہے میرا بدلہ دلاور اور نور جہاں کا قتل ہے۔۔”قیصر اطمینان سےبولا۔دوسری طرف زمار خان شل ہو گیا۔
“لیکن باس ان کی آرمی ڈبل ہے آپ بغیر کسی گارڈ کے تنہا ان کی ہویلی میں نہیں جا سکتے آپ کی گاڑی جیسے ہی ان کے علاقے میں داخل ہو گی تو ان کے گارڈز یا چوکیدار آپ کو گولیوں سےبھون ڈالیں گے۔۔”
“میں نے تم سے پوچھا؟؟”
“سوری سر۔۔”زمار خاموش ہو گیا۔
“ہممم۔تو میں کیا کہہ رہا تھا ہاں اگر میں پکڑا گیا تو تم کوہلو آؤ گے۔خانوں کی ہویلی میں قدم رکھو گے اسلحے سمیت۔بارود،پیٹرول،پستول،لائٹرز،
مختلف قسم کے زہر اور نیند کی گولیاں یہ سب تمہارے اسلحے میں شامل ہونا چاہیے۔پیسے تم سٹیلا سےکہنا وہ ہنیف سے لے کر دے گی۔وہاں سے جب آزاد ہوں گا تو میں خود آکر پےکر دوں گا۔۔”
“لیکن سر آپ کے قید ہونے کا مجھے کیسے علم ہوگا؟؟”
“ہممم سوال تو سوچنے والا ہے۔اگر تمہیں اگلے دو دن تک میری کوئی کال یا میسج نہ ملا توتم آؤ گے۔۔”
“جی سر۔۔”
“لیکن کیسے؟؟”
“تم کوہلو کی مشہور فیکٹریز میں بلاسٹ کروگے وجہ بارود نہیں ہوگی گیس یا سرکٹس کا بلاسٹ ہونا دکھایا جائے گا۔بارود کا زرہ بھی وہاں سے نہ ملے۔اگر ایسا ہوا تو جیل تو تمہیں ہی ہوگی۔پھر جب تک دلاور خان ادھر جائے گا تم ملازم بن کر ہویلی کے قید خانے میں داخل ہوگے۔مجھے وہاں سے نکالنے سے قبل تم وہاں کے گارڈز کو نیند کی گولیاں ان کے کھانے میں ملا کر دو گے۔اگر یہ ممکن نہ ہوا تو تم مجھے میرے کھانے میں چاقو ڈال کر دو گے۔
زہر تم ہر طرف کھڑے چوکیداروں اور ان لوگوں کو دوگے جو تمہارے راستے میں آئیں گے۔پیٹرول تم ہویلی سے چند قدم کے فاصلے پر چھڑک کر آگ لگاؤ گے اس صورت میں اگر تمہیں کوئی اور آپشن نہ دکھے لوگوں کو وہاں سے نکالنے کا۔پھر جب تک سارے ہویلی والے باہر نکلے گے تم تہہ خانے کا لاک توڑتے اندر داخل ہوگے۔سمجھ رہے ہو؟؟”
“یس باس!!”
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Humnawa by Mazhar Yousafzai Download pdf – An Emotional Story of Brotherhood, Sacrifice & Unexpected…
Kath Ka Ullu By MA Rahat Pdf Download Kath Ka Ullu By MA Rahat Pdf…
Reech Ka Israr Novel By Anwar Aligi Pdf Download Reech Ka Israr Novel By Anwar…
Haya Ki Sooli Par Novel By Mohiuddin Nawab Pdf Haya Ki Sooli Par Novel By…
Ilaj Novel By Mohiuddin Nawab Pdf Download Ilaj Novel By Mohiuddin Nawab Pdf Download is…
Bezubaan Qurbani by MK Khan Download pdf – A Tragic Tale of Love, Honor &…