Aseer e chasham e mehboob by Raghba Fatima Download pdf
آنکھوں میں قید ہونے والے – ایمان، محبت اور توبہ کی دل کو
چھو لینے والی داستان
کچھ محبتیں انسان کی زندگی بدل دیتی ہیں، جبکہ کچھ یادیں برسوں گزر جانے کے باوجود دل کے کسی کونے میں زندہ رہتی ہیں۔ “آنکھوں میں قید ہونے والے” ایک نہایت جذباتی، اصلاحی اور روحانی اردو ناول ہے جو محبت، ایمان، نفس کی آزمائش، توبہ اور اللہ کی رحمت جیسے اہم موضوعات کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
کہانی کا مرکز ادریس ہے، جو ایک دین دار، باحیا اور باعمل نوجوان ہے۔ لندن میں تعلیم کے دوران وہ اپنے ایمان اور اسلامی اقدار پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن زندگی کے ایک نازک موڑ پر ایک خوبصورت غیر مسلم لڑکی سیلیسٹ کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ یہ تعلق اس کی زندگی میں ایسی یاد چھوڑ جاتا ہے جو برسوں بعد بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔
دس سال بعد ادریس ایک نئی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ وہ ایک نیک سیرت بیوی کا شوہر اور ایک معصوم بیٹے کا باپ بن چکا ہے۔ مگر ایک المناک حادثے میں اپنی بیوی کو کھونے کے بعد ماضی کی دھندلی یادیں دوبارہ اس کے ذہن میں زندہ ہونے لگتی ہیں، اور سیلیسٹ کی نیلی آنکھوں کا سحر ایک بار پھر اس کے دل پر دستک دیتا ہے۔
ناول نہ صرف ایک جذباتی محبت کی داستان ہے بلکہ یہ انسان کے نفس، ایمان، توبہ، صبر اور اللہ پر بھروسے کے درمیان جاری اندرونی کشمکش کو بھی انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔
ادریس: ایک دین دار، بااخلاق اور باشعور نوجوان جو زندگی کی ایک بڑی آزمائش سے گزرتا ہے اور ماضی و حال کے درمیان اپنی روحانی جدوجہد جاری رکھتا ہے۔
سیلیسٹ (Celeste): خوبصورت، پُراعتماد اور خوش مزاج غیر مسلم طالبہ، جس کی نیلی آنکھیں ادریس کی زندگی کا ناقابلِ فراموش حصہ بن جاتی ہیں۔
ادریس کی مرحومہ بیوی: ایک نیک، باحیا اور مثالی خاتون، جس کی بہترین تربیت اور کردار اس کے خاندان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
احمد: ادریس کا معصوم بیٹا، جو اپنی والدہ کی بہترین تربیت اور اسلامی اقدار کی خوبصورت جھلک پیش کرتا ہے۔
جیمز اور ہینری: لندن یونیورسٹی کے شوخ مزاج اور شرارتی دوست، جو طالب علمی کے ماحول کو دلچسپ بناتے ہیں۔
سیلیسٹ کی نظروں کا رخ آسمان کی طرف تھا۔ وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ ادریس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چھتری کی طرف دیکھا اور پھر ہمت مجتمع کر کے اس کے پاس چلا گیا۔ گلا کھنکار کر اسے متوجہ کیا۔ وہ اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح مسکرائی۔
“سب لوگ چلے گئے ہیں۔ اکیلے یہاں رکنا ٹھیک نہیں ہے۔ آپ کب تک یہاں کھڑی رہیں گی؟”ادریس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بغیر ہائے ہیلو کے سیدھا پوچھا۔
“جب تک بارش نہ رک جائے۔” اس نے ہنوز مسکراتے ہوئے کہا۔
“لیکن بارش کے رکنے کا تو کوئی امکان نہیں لگتا۔ آپ میری یہ چھتری لے لیں۔ “اس نے کہتے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑی چھتری اس کی طرف بڑھائی۔
“پھر تم کیا کرو گے؟ ” اسے اس کی فکر ہوئی۔
“میں تو اپنی گاڑی میں آیا ہوں۔ چلا جاؤں گا۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ ” اس بار اس نے بھی مسکرا کر کہا۔ وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے کچھ سوچ رہی تھی۔
“وہ تو ایسے ہی ہیں۔ ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اب آپ کو جانا چاہیے۔ ” اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔وہ چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ “کیسا دھوپ چھاؤں سا آدمی ہے۔ ابھی مسکرا رہا تھا اور اب سڑا ہوا لگ رہا ہے۔” اس نے سوچا۔
پھر اس کے ہاتھ سے چھتری لے لی اور اسے کھول کر جانے لگی۔ وہ اسے جاتے دیکھ مسکرا رہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ مسکرا رہا ہے تو وہ ایک دم مڑی۔
“تھینک یو ہینڈسم مین۔ مسکراتے ہوئے اچھے لگتے ہو۔ ہر وقت سڑے رہنا اچھی بات نہیں ہے۔ مسکراتے رہا کرو۔ “وہ متبسم چہرے کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کر کے چلی گئی۔ ادریس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ چہرہ لڑکیوں کی طرح شرم سے لال ہو گیا۔
“توبہ۔استغفراللہ! لڑکی بڑی بےباک ہے۔ “اس نے خود کلامی کی اور جیبوں میں ہاتھ ڈال کر چلنے لگا۔بارش اسے بھگو رہی تھی لیکن اب بارش کے بھگونے سے کیا فرق پڑتا تھا وہ تو پہلے ہی ایک نیلی جھیل میں ڈوب چکا تھا۔
وہ اس سے جھوٹ بول کر بارش میں بھیگتا ہوا اپنے اپارٹمنٹ کی طرف قدم اٹھا رہا تھا۔ اس کا اپارٹمنٹ قریب تھا اس لیے وہ پیدل چل کر ہی یونیورسٹی آیا کرتا تھا.
×-×-×-×-×-×
“نہیں، آپ وہ رکھ سکتی ہے۔واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنی بڑی چیز نہیں ہے۔ “اس نے ہاتھ جھلا کر ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ “تمہیں تو اپنا دل بھی دے دیا ہے۔ ایک چھتری کی کیا اوقات۔ “اس نے دل میں سوچا۔
“اچھا چھوٹی چیز ہے تو واپس نہیں لو گے اگر تم نے مجھے ایک ٹرک دیا تو تم وہ واپس لے لو گے کیونکہ وہ ایک بڑی چیز ہے۔ ” اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔اس کی بات پر ادریس کی ہنسی بے ساختہ تھی۔ ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا۔
وہ بھی اس کے ساتھ ہنسنے لگی۔ وہ ساتھ ہوتی تھی تو سب بھول جاتا تھا۔یاد نہیں رہتا تھا کہ اسے اگنور کرنا ہے۔اگنور کرنے والی چیز بھی کہاں تھی؟
“نہیں، خیر ہے ٹرک بھی نہیں لوں گا۔پریشان مت ہوں آپ۔ ویسے میرے پاس ٹرک ہے نہیں۔ ” وہ ہنستے ہنستے کہہ رہا تھا۔
“تھینکس۔ ” وہ ہنسی روک کر مسکراتے ہوئے بائے کہہ کر چلی گئی۔ وہ وہیں کھڑا مسکراتا رہا۔
****************
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: readerschoicemag@gmail.com
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
Neeli ankhon wali larki by Sarim Awan Download pdf Neeli ankhon wali larki by Sarim…
Naseeb by Zainab Zahid Download pdf Naseeb by Zainab Zahid Download pdf نصیب از زینب…
Nafrat hai ya mohabbat by Nawaz Mughal Download pdf Nafrat hai ya mohabbat by Nawaz…
Meeras e mohabbat by Sania Kanwal Download pdf Meeras e mohabbat by Sania Kanwal Download…
Hamara Aaj by Areej Imran Download pdf Hamara Aaj by Areej Imran Download pdf ہمارا…
Zaat ki zanjeeren by Syeda Saima Download pdf Zaat ki zanjeeren by Syeda Saima Download…