Skip to content
Home » Archives for March 2024 » Page 7

March 2024

Parchaii by Faiza Hasan Complete novel download pdf

  • by

میرے دل پر ایک بوجھ ہے بیا۔ سعود اسی طرح بازو آنکھوں پر رکھے کہہ رہا تھا۔

کیسا بوجھ؟ بریرہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ سعود کو اپنے قریب حرکت محسوس ہوئی تھی۔

میرال آپی میرے ساتھ تھی جب۔۔۔۔ سعود کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔ سعود نے رک کر گہرا سانس لیا اور بازو آنکھوں سے ہٹا لیا۔ بریرہ خاموشی سے اسے سنتی رہی۔

میرے سامنے ان کا سانس بند ہوا اور میں کچھ نہیں کر سکا۔ سعود کی آواز بھرانے لگی۔

وہ تمہارے ساتھ تھی؟ لیکن محسن بھائی تو کہہ رہے تھے کہ ان کی باڈی آئی تھی امریکہ سے۔ بریرہ نے حیرت سے کہا۔ سعود نے اسے عجیب طرح دیکھا تھا۔

بھائی نے کہا تھا کہ ان کے دماغ میں کوئی ٹیومر تھا جس کی وجہ سے ان کی ڈیتھ ہوئی تھی۔ بریرہ نے سعود کے سر پر بم پھوڑا۔

بھائی نے یہ کہا؟ کیا پھوپھو کو بھی یہی کہا ہے؟ سعود اب تک صدمے میں تھا۔

ہاں لیکن بھائی نے جھوٹ کیوں بولا؟ بریرہ اب تک شاک میں تھی۔

کیونکہ سچ بتانے لائق نہیں تھا۔ سعود سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

کیا مطلب ؟ بریرہ نے پوچھا۔

تم وعدہ کرو کہ یہ بات راز رہے گی۔ سعود نے محتاط نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ “ایک تو سب کو میرے ہی پاس راز کیوں رکھوانے ہوتے ہیں” بریرہ سوچ کر رہ گئی۔

اچھا وعدہ۔ اب بتاؤ۔ بریرہ نے منہ بسور کر کہا۔

تمہیں یاد ہے میرال آپی کا نکاح کیسے ہوا تھا؟ سعود سیدھا مدعے پر آیا۔

ہاں۔ کال پر ہوا تھا لیکن اس بات کا ان کی ڈیتھ سے کیا تعلق ہے؟ بریرہ نے ایک اور سوال داغا۔

وہ کال ایک وائس ریکارڈنگ تھی۔ سفیان نام کا کوئی شخص ایگزسٹ (Exist) ہی نہیں کرتا۔ سعود نے کہنا شروع کیا۔

تو آپی کا نکاح کس سے ہوا تھا؟ بریرہ اب بھی کنفیوز تھی۔ ان کا نکاح ہوا ہی نہیں تھا اور نہ ہی کبھی وہ امریکہ گئی تھی۔ ایئر پورٹ تک جانا اور پھر وہاں سے فلائٹ لینا سب ایک دھوکا تھا۔

Hubb by Iqra Ansari Complete novel download pdf

  • by

“وہ سامنے سورج دیکھ رہی ہیں؟؟؟؟غروب ہوتا سورج۔۔۔۔۔ یہ جب جاتا ہے تو پورے شہر کو تاریک اور ویران کر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ مگر ایک امید دے کر جاتا ہے کہ اگلا دن بھی ویسا ہی روشن اور خوبصورت ہو گا۔۔۔۔اور امید!!!!!!! یقین پر قائم ہے۔۔۔۔۔جتنا پختا یقین ہو گا۔۔کل کا دن ویسا ہی خوبصورت ہو گا۔۔اور یہ یقین ہم نے اس ذات پر کرنا ہے جس نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔۔۔۔”

“میں نے ایک لوجک نکالی ہے آپ کو سناؤ؟””وہ جو پورے انہماک سے سامنے والے کی گفتگو سن رہی تھی کہ یکبار سیدھی ہو کر کہا اور اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔

“جیسے ہم دونوں کی شادی ہو گئی نا۔۔۔۔۔۔تو اس لحاظ سے دیکھیں تو ناکح کے آخر کا ‘ح’ اور بیوی کے شروع کا ‘ب’ ملائیں تو بنتا ہے “حب”یعنی!!!!! محبت۔۔””””بات کرتے کرتے اسنے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔۔سمندر کی لہر بہت تیزی سے ان کے پاؤں تک آئی اور اسی سرائیت سے واپس پلٹ گئی۔۔۔۔۔””””اور مجھے آپ سے ایسی محبت ہے جس کے لیے اس دنیا میں موجود ہر کتاب کے الفاظ بھی میں ملاؤں تو کم پڑ جائیں۔۔۔۔۔یہ ایسا احساس ہے جس میں،میں اپنی تمام زندگی جینا چاہتی ہوں۔۔”اس نے جھک کر اس کے نرم و ملائم دودھیا ہاتھوں پر بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا۔۔۔سامنے والے نے اس کی بات پر دہل کر اسے دیکھا اور اس نگاہ میں معنی خیز ہمدردی تھی پھر مسکرا کر کہا۔۔۔۔

“واہ کیا لوجک ہے مگر آپ کو پتہ نہیں؟”

“کیا؟”

“ناکح کے ساتھ منکوحہ اور بیوی کے ساتھ شوہر آتا ہے۔۔”محبت سے ہاتھ سہلا کر بولا

“اور محبت!! وہ تو میاں بیوی کو ہو ہی جاتی ہے ۔۔اصل حب کا تعلق رب سے ہوتا ہے۔۔گہرا اور کھڑا۔۔ہم جتنا رب کی طرف رجوع کریں گے تعلق اتنا گہرا اور مضبوط ہو گا۔۔۔۔”اس نے اپنی طرف سے اسکی تصیحح کی جو ٹھیک نشانے پر لگی۔۔

“مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔۔آپ کی رب سے محبت بہت خالص ہے۔۔”وہ نم آنکھوں سے مسکرائی پھر کہا