Skip to content
Home » Archives for August 2024 » Page 11

August 2024

Talooh e aftab se gharoob e aftab tak novel by Hikmat Yar

  • by

“جیسے کسی پیاسے کو صحرا میں پانی کی تلاش ہو، دور سے سورج کی کرنیں ریت پر پانی کا منظر پیش کر رہی ہوں، چمکتا ہوا پانی پیاسے کو اپنے پاس آنے پر مجبور کر دے۔ پیاسے کے دل میں پانی پینے کی شدت مزید جاگ جائے اور وہ ہانپتا کانپتا سورج کی تپش میں جلتا ہوا اپنا بدن دو ٹانگوں پر اٹھائے قریب سے قریب تر آتا جائے اور اسے پتا چلے یہ اک سراب تھا۔ وہ سیراب ہونے آئے اور اس کے ساتھ سراب ہو جائے۔ اسے ہی نفس الامر کا سراب کہا جاتا ہے۔ یہی خوابوں خیالوں کی دنیا میں ہوتا ہے۔

دنیا سراب ہے، اس کی کوئی حقیقت موجود نہیں ہے۔ یہ کائنات اک وہم ہے۔ یہی نفس الامر اک سراب کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقت صحرا کی طرح ہے۔ سب کچھ اک سراب ہے سراب۔”

وہ بد روحوں کی طرح گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کی اپنی ہی روح تھی ۔ ایک گلی سے دوسری گلی میں چکر لگا رہی تھی۔ لوگ اسے پتھر مار رہے تھے مگر وہ سب کچھ نظر انداز کر کے صرف اللّٰہ کی تلاش میں یہاں سے وہاں بھاگ رہی تھی۔

“وہ میری اپنی ہی روح تھی جو رب العالمین سے وصل کے لیے بے چین تھی”۔

جیسے ہی اسے وہ یکتا ذات اپنے قریب محسوس ہوئی وہ رقص کرنے لگی وہ رقص جو صرف اللّٰہ کے محبوب اور مخصوص بندوں پر وجد بن کر اترتا ہے۔

آج میں نے جھومتا ہوا رب دیکھا

سب نظروں سے اوجھل اپنے روبرو دیکھا

Mehram namehram novel by M. Mughal

  • by

کیس بہت بڑا ہے ۔اور ہرنے کا خطرہ زیادہ ہے ۔مجھے ہرنے کا تو ڈر نہیں لیکن اس میں مشکلات بہت ہیں ۔۔اس نے پریشانی سے بتایا ۔۔۔

ایسا کیا کیس ہے ۔۔۔اس نے تجسّس سے پوچھا

گرلز سمگلنگ کیس ہے ۔۔۔احمد رضا کی تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ لڑکیاں انڈیا اور پاکستان سے سپلائی ہوتی ہیں۔اور سپلائی ہوکر آئلی آتی ہیں ۔پاکستان کے ایک بلڈر عاطف بلوچ کی بیٹی آج سے چار مہینے پہلے غائب ہوئی تھی لیکِن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گھر سے اپنی مرضی سے بھاگی تھی ۔لیکن عاطف صاحب نے اس بات کو منع سے انکار کر دیا کیونکہ ان کی بیٹی کی ایک ماہ بعد شادی تھی اور ان کے مطابق وہ اس شادی سے خوش بھی تھی ۔۔اس لیے انہوں سے یہ کیس ڈیٹکٹوو احمد رضا کی حوالے کیا ۔۔دو مہینے احمد رضا نے اس کیس پر کام کیا ۔اس نے عاطف بلوچ کی بیٹی کی آخری لوکیشن چیک کی تو وہ کراچی کے ایک بندر گاہ کی تھی ۔۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عاطف بلوچ کی بیٹی کے غائب ہونے کے بعد سترہ لڑکیاں اور عاطف بلوچ کے علاقے سے غائب ہوئیں ۔حیرانی تو مجھے تب ہی کہ سب کی آخری لوکیشن وہ بندر گاہ ہی ہے ۔۔احمد نے بندر گاہ میں چھان بین کروائی تو اس کو کوئی ثبوت نہیں ملا ۔۔پھر آج سے پندرہ دن پہلے ہی عاطف بلوچ کے پاس ایک کال آئی ۔وہ کال ان کو ان کی بیٹی نے کی تھی ۔۔۔اور پتا ہے کہاں سے ؟ ۔۔اس ہی پاس والی شوپ سے ۔۔ایڈی نے سامنے والی ایک چھوٹی سی جوس کی شوپ کی جانب اشارہ کرتے کہا

وہ جو بلکل سنجیدگی سے ساری بات سن رہا تھا کہ اس کی آخری بات پر حیران ہوا

اس کا مطلب وہ یہاں اٹلی میں تھی ؟ اس نے حیرانی سے پوچھا

ہاں وہ پورے تین ماہ دس دن اٹلی میں فریڈی یلڈر کے گھر میں تھی ۔۔۔

Wahshi novel by Mah Bint e Sajjad 

  • by

“راہی بیٹا آپ یہاں ہو میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں”

آمنہ بیگم کی آواز پر وہ مڑا سفید رنگ کے شلوار قمیض پر بھورے رنگ کی شال دونوں کندھوں پر ڈالے سرمئی آنکھوں میں کسی بھی قسم تاثر کے بغیر کھڑا وہ راہی تھا راہی مرزا بلوچ دس سال کا راہی لیکن اس کی شخصیت میں اس وقت بھی ایک رعب تھا

” میں یہیں تھا چھوٹی امی آپ کو کوئی کام تھا”

راہی نے آمنہ بیگم کو خاموش کھڑا پایا تو بولا اپنی باتوں اپنی عادتوں سے وہی کہیں سے بھی تو دس سالہ بچہ نہیں لگتا تھا

“ارے آج کے دن تم سے کیسا کام وہ تو بس تمہارے چاچو نے کہا کہ تمہیں اسٹیج پر لے آؤں تو اس لیے ڈھونڈ رہی تھی”

آمنہ بیگم نے مامتا بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس کی پیشانی چومی وہ آج بہت خوش تھیں آخر ہوتی بھی کیوں نہ آج ان کی اکلوتی بیٹی کی منگنی تھی وہ بھی ان کے جیٹھ کے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بیشک انیس بلوچ جانتے تھے کہ ابھی پریشہ اور راہی بہت چھوٹے ہیں منگنی کے لیے لیکن پھر بھی وہ یہ تقریب رکھنا چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ تمام گاؤں والوں اور خاندان والوں کو علم ہو جائے کہ پریشہ ان کے بھتیجے کی منگ ہے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے منگنی کی تقریب اتنے بڑے پیمانے پر منعقد کروائی تھی

“آپ چلیں چھوٹی امی میں آتا ہوں”

Shab e intezar by Ayna Baig

  • by

“تم شادی کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟”

“کیا کروں گا سوچ کر؟ مجھے کوئی اپنے معیار کی لڑکی نہیں ملتی اور ابا کا بس چلے تو اماں کی بہن کی بیٹی کو بیاہ دیں میرے ساتھ۔۔” اس نے پتیلا نکال کر اس پر آئل ڈالا اور چولہا جلانے لگا۔

“کیا مطلب؟ تایا ابا نے تمہارے لیے لڑکی دیکھی ہوئی ہے؟ اور کیا ہے تمہارا معیار؟”

“بہت سادہ سا معیار ہے۔ سیدھے سادھے لوگ جو مجھے جج نہ کریں۔ یہ زندگی گزارنے کا معاملہ ہے۔”

“کون ہے وہ لڑکی؟”

“واقعی کون ہے وہ لڑکی؟” وہ تیزی سے چھپا گیا۔

“بدتمیزی نہ کرو۔ تم نے کہا تمہاری خالہ زاد ہے میں نے سنا تھا اب چھپاؤ نہیں۔۔” وہ نگٹس تلنے لگی البتہ وہ اب کباب بنانے کی تیاریوں میں تھا۔

“میں نہیں چاہتا۔ تم عابد صاحب کو سمجھاؤ۔”

“تم پہلے مجھے بتاؤ اور ملواؤ بھی!”

“میں آخری بار خود دو مہینے پہلے ملا تھا۔ وہ بہت بے وقوف سی اور معصوم سی ہے۔شاید معصومیت کا ناٹک کرتی ہے۔”

“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟” اس نے خالی بوتل اس کے کندھے پر ماری۔

“تم نے بھی تو پہلی بار ہی پوچھا۔”

“کیا نام ہے؟ اور تمہاری کزن ہے تو تم ملتے ہی رہتے ہو گے۔” اسے تجسس ہوا۔

“نہیں بالکل نہیں۔۔ بتایا تو ہے دو مہینے پہلے ملا تھا۔ اصل میں ہمارے خالو کو بیٹوں کی زیادہ چاہ تھی اور یہی بات ابا کو خالو سے خار کھانے کا موقع دیتی ہے۔ میرا ننھیال میں کسی کے بھی اچھے حال نہیں ہیں اور عابد صاحب کو اپنی بیوی سے بہت عشق ہے وہ ان کی ہی بھانجی سے میری شادی کروائیں گے۔” وہ کھیرا کھا رہا تھا اور زمل مسکرا رہی تھی۔