Skip to content
Home » Archives for November 2024 » Page 7

November 2024

Aj nain mila ke by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“ابراہیم! تم نے کیا کہا ہے ایسا جو وہ مرنے کے قریب ہو گئی ہے” سدرہ ایک بار پھر اسکے سامنے تھی۔

” اتنا تو میں جانتی ہوں جو ہوا ہے ان چار پانچ منٹوں میں ہوا ہے جب تم میرے پاس سے ہو کر گۓ ہو،مگر اتنی سی دیر میں تم نے ایسا کیا کہہ دیا ہے” وہ اسکی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ وہ ایسے تھا جیسے یہاں موجود ہی نا ہو۔

“ابراہیم وہ مر جاۓ گی تم خود ڈاکٹر ہو مجھے تمہیں بتانے کی ضرورت تو نہیں، اب کی بار بلڈ پریشر اگر بڑھا تو اسکے دماغ کی نس بھی پھٹ سکتی ہے” وہ بڑی مشکل سے اسکے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں لائی تھی۔

“وہ اس قدر stressed اور زندگی سے مایوس کیوں لگ رہی ہے ابراہیم ” ابراہیم نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا سدرہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

گہری سانس لیتے ہوۓ اس نے بولنا شروع کیا تھا ۔

اور وہ راز جو اسکے اور مہرین کے علاوہ کسی کو معلوم نا تھا اور اس کے علاوہ بھی سب کچھ سدرہ کے سامنے کھول کے رکھ دیا تھا،اس سے زیادہ وہ اس راز کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔

اس کی باتیں سنتے ہوۓ سدرہ کے چہرے کے تاثرات لمحہ با لمحہ بدل رہے تھے۔

“تو یہ وجہ تھی تمہاری شادی نا کرنے کی؟” ابراہیم اپنی آب بیتی سنانے کے بعد جوں ہی خاموش ہوا تھا سدرہ نے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔

“دیکھو ابرہیم! اسے چھ ماہ ہوۓ ہیں تمہاری زندگی میں آۓ اور میری اس سے چند ملاقاتیں ہی ہوئی ہیں۔

میں نہیں مان سکتی کہ آئرہ کچھ غلط کر سکتی ہے،بلکہ وہ تو گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی۔

Mirror of Ocean by Rashk e Falak Complete novel

  • by

تم نے مجھے بہت تکلیف دی ،تمہیں ایسے نہیں جانا چاہیے تھا کیا تم نہیں جانتے کہ تم ہمیں کتنےعزیز تھے تم دونوں کی محبت ،تم دونوں کا عشق سچا تھا لیکن پیچھے رہ جانے والوں کےغموں کو ہی دیکھ لیتے ان کی محبتوں کو تم نے کیوں خیال نہ آیا”۔

35 سالہ کو کھوبرو شخص اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کرتے ہوئے تصویر کو دیکھ کے بولا :

جہاں ایک لڑکا ،ایک لڑکی اور ایک چھوٹا سا بچہ یہ کھلکھلاتے تصویر تھی۔۔۔۔

یہ دیکھیں میں نے جہاز بنایا ہے، اب یہ پانی میں چلے گا ،دیکھنا ایک دن میں بھی اسی طرح جہاز چلاؤں گا دور دور تک پانی ہوگا اور اتنا ہوگا کہ میرا جہاز ایسے تیرے گا جیسے مچھلی تیرتی ہے” بچہ اپنی نادانی میں پرجوش انداز میں بتا رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر وہ شخص ایک لمحے کے لیے ساکت ہوا اور اگلے ہی لمحے غصے سے بولا :

“خبردار ،خبردار جو تم نے اسی کوئی بات کی ،تم کوئی جہاز نہیں اڑاؤ گے ،نہ ہی چلاؤ گے تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر تم نے ایسی کوئی بات کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے کبھی بات مت کرنا “وہ غصے سے دھاڑے جبکہ بچے سے سہم کر پیچھے ہوا اس کی شہد کانچ انکھیں فورا سے پا نی سے بھرگی ۔۔۔

“باباآپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میں تو بریوبوائے ہوں پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں “بچہ اونچی آواز پر رونے لگا جب کہ اسے اس طرح دیکھ کر ہر شخص نے فورا اپنے غصے پر قابو پا یا اور فورا سے اس بچے کی طرف بڑھا۔۔۔

“آہل رضا تم جانتے ہو ،مجھےتم سے کتنی محبت ہے مجھے تکلیف ہوتی ہے میں نہیں چاہتا کہ تم کسی مشکل میں پڑو”

Ishq baghawat by Nehaal Abroo Complete Novel

  • by

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ہاشم صاحب بات کرتے کرتے رک گئے اور اس کے تاثرات دیکھنے لگے۔
” مگر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ بھی سب کچھ دھیان سے سن رہا تھا
” اگر تم اس سے ملو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب لو۔۔۔۔۔۔تو سمجھنا سب کچھ ٹھیک ہے کوئی روگ نہیں ہے
۔اور اگر اسے ملو تو بھول جاؤ کہ پوچھنا کیا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔۔یہاں یہ لگے کہ جو پوچھنے جا رہے ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں یا اس کا کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا نام کیا ہے اور کس خاندان کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کرتی ہے کہاں رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب تمہیں بے معنی لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔تو سیدھا میرے پاس انا اور کہنا
دادا جائیں اور اس سے میرے نکاح کی بات کریں۔ ۔۔۔” ہاشم صاحب تو بول کر چپ ہو گئے مگر اذھان اپنا سکون کھو بیٹھا۔
” پھر ایک وقت ائے گا جو تم اور تمہارے بیوی بیٹھے ہوں گے اور تمہارا پوتا آ کر کہے گا۔
آپ دونوں کا پیار دیکھ کے رشک آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مگر کبھی کبھی جیلس بھی ہو تا ہوں۔۔۔۔۔۔” ہاشم صاحب اس کا جملہ سب واپس موڑ کر کھل کھلا کر ہنس رہے اور ان کی بات سمجھ کر اذان بھی ہنسنے لگا۔ جانتا تھا کہ اب اس نے کیا کرنا ہے اس لیے مطمئن تھا۔

Azli dino ki abdi chahat afsana by Ainoor Gul

  • by

ہوگئی محبت؟ پا لیا اُسے؟ ہوگئی امر ؟ اک پل کو لگا تھا سب کچھ پا لیا۔۔۔۔۔ مگر میں بھول گئی تھی اس سب میں کہ سب کچھ پا لینے پر انسان خوش نہیں ہوا کرتے ، وہ تو خوف کھایا کرتے ہیں کہ جن کے پاس سب کچھ ہو ، اُنکے پاس کھو دینے کو بھی سب ہوتا ہے۔۔۔۔۔ میں نے پا لیا تھا سب کچھ۔۔۔۔ہنر۔۔۔سکون۔۔۔بلندی۔۔۔خوشی۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر من چاہے شخص کی محبّت۔ مانو ان سب کا میرے پاس ہونا کسی خوف سے کم نہ تھا ، وہ کوئی بھی لمحہ ہوسکتا تھا کہ میں خالی ہاتھ رہ جاتی۔۔۔۔۔یہ سب۔۔۔یہ سب ریت کے ذروں کی مانند میرے ہاتھوں سے سرک جاتا۔