Skip to content
Home » Archives for January 2025

January 2025

Dilon ka mail by Bint e Javaid Complete Novel

  • by

“دلوں کا میل” ایک جذباتی کہانی ہے جو محبت، قربانی، اور اندرونی کشمکش کے پیچیدہ رشتوں کو بیان کرتی ہے۔ یہ کہانی ایال اور عیشان کے گرد گھومتی ہے، جن کی زندگی کے راستے مختلف ہیں لیکن تقدیر انہیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے۔

ایال، ایک پُرامید اور خوابوں سے بھرپور لڑکی، جس کی زندگی خوشیوں سے جُڑی ہے، مگر اندرونی طور پر وہ اپنے وجود کے گہرے سوالات کا جواب تلاش کر رہی ہے۔ عیشان، ایک ایسا شخص جس کی شخصیت بظاہر مضبوط اور پرسکون دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے دل کے اندر ماضی کے دکھ اور تلخ حقیقتوں کا بوجھ چھپا ہوا ہے۔

کیا جو اللہ کے لیے چھوڑا جائے، وہ کبھی لوٹ آتا ہے؟

کیا جو رب کے خوف سے قربان کیا جائے، وہ پھر نصیب بن سکتا ہے؟

کیا خاندانی مسائل اتنے گہرے زخم دے سکتے ہیں کہ انسان خود کو ہی کھو بیٹھے؟

کیا حق کی راہ واقعی اتنی کٹھن ہوتی ہے کہ ہر قدم ایک نئی آزمائش بن جائے؟

یہ سوالات ایال اور عیشان کی کہانی کی بنیاد ہیں—ایک ایسی کہانی جو قربانی، محبت، اور ایمان کی آزمائشوں سے لبریز ہے۔ ایال کے خواب اور عیشان کے اصول، ان کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا کر دیتے ہیں جہاں صرف اللہ کی رضا کا نور ہی رہنمائی کر سکتا ہے۔ لیکن کیا وہ اپنے خوابوں اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر اس روشنی تک پہنچ پائیں گے؟

یہ کہانی آپ کے دل کو چھو لے گی اور آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ کیا حق کی راہ پر چلنے والوں کو ان کی منزل واقعی ملتی ہے؟

Salsbeel complete by Nayab jellani Complete Novel

  • by

کہانی کا خلاصہ.. A۔J
سلسبیل جو بہت خوبصورت لڑکی ہے،جرمنی میں اپنے دادا دادی اور باپ کے ساتھ رہتی ہے۔دادی بیكری چلاتی ہیں اور گاؤں میں یہ لوگ جانور بھی پالتے ہیں۔س کا ایک بھائی ڈینی ہے اور دوست ڈی سوزا جس کی ماں نے اس کے باپ کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔

سلسلبیل کی ماں وفات پا گئی تھی تو دوسری شادی باپ نے کی اور سوتیلی ماں کا رویہ اس کے ساتھ بہتر نہیں جس کا باپ روبرو اور بھائی روسی اکثر ان کے گھر ملنے آتے ہیں اور ان کا آنا دادا دادی کو پسند نہیں۔

ہیرو ہشام بھی جرمنی میں ڈاکٹر ہے جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے جس کی ماں شراب نوشی کرتی ہے اور مر جاتی ہے۔

ہشام کی سوتیلی ماں پاکستان میں ہیں جو نرجس بیگم ہیں اور پیار سے انھیں جی جی کہتے ہیں جو اس سے بہت محبت کرتی ہیں اور کافی سالوں سے منتظر ہیں کہ سوتیلہ بیٹا پاکستان آجاۓ اور جائیداد اس کے حوالے کردیں وہیں وہ شافیہ کی شادی ہشام سے کرانا چاہتی ہیں۔

شافیہ نرجس یعنی جی جی کے محلے میں اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہن عرشیہ کے ساتھ رہتی ہے جن کا رویہ شافیہ کے ساتھ اچھا نہیں اور اس کی جی جی سے بہت بنتی ہے اور یہ بھی ہشام کو پسند کرتی ہے اور اس کے آنے کی منتظر ہے۔

اسی گلی میں غوثیہ اپنے بیٹے شاہ ویز کے ساتھ رہتی ہیں جو شافیہ کو پسند کرتا ہے اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں جن کے والدین نہیں ہیں۔یعنی خداداد بڑا بھائی ہے جو سب بہن بھائیوں کو والدین کی طرح کیئر کرتا ہے شایان،داؤد،سلیم اور ایک بہن سنہرے گھر کے فرد ہیں۔

سنہرے کی شافیہ سے دوستی ہے شافیہ کی ماں سمیرا چاہتی ہیں کہ عرشیہ کی شادی خدا داد سے ہوجاۓ۔

خطیب فلسطینی ہے جس کاسارا خاندان شہید ہوگیا اور اب یہ جرمنی آگیا ہے اور ہشام سے اس کی دوستی ہے وہیں کالج میں وہ سلسبیل اور ڈی سوزا سے بھی ملتا ہے۔خدا داد جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے یہ اپنی فیملی کے ساتھ جرمنی شفٹ ہوجاتا ہے جس کی دوستی ہشام اور خطیب سے ہوجاتی ہے کہ ایک ہی کالج میں پڑھ رہے تھے۔

ہشام کی سگی ماں نشے کی وجہ سے مر جاتی ہے تو وہ پاکستان جاتا ہے اور نرجس بیگم کی خواہش کو پورا کر کے شافیہ سے نکاح کرتا ہے .

سلسبیل کی سوٹیلی ماں بھی اس کے باپ سے بے وفائی کر کے بھاگ جاتی ہے اور ایک رات کے اندیهرے میں کوئی آ کر سلسبیل کے ساتھ زیادتی کرتا ہے وہ سمجھتی ہے یہ روبرو ہے جو اس کی سوتیلی ماں کا شوہر ہے۔

ہشام شافیہ کو بتا دیتا ہے کہ وہ سلسبیل کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کر کے اسے سہارہ دے گا۔

باقی کہانی میں پڑھیں کہ

سلسبیل کا مجرم کون ہے؟
کیا شافیہ ہشام کے ساتھ رہے گی؟
ہشام کا راز بھی ہے وہ کیا ہے؟

بہت زیادہ فلاسفی سے بھرپور کہانی ہے جس میں رائیٹر نے بہت منفرد انداز میں ناول لکھا ہے جسے سمجھنا کچھ مشکل ہے مگر رائیٹر کی علمی قابلیت قابل تعریف ہے۔

Aashnay gham by Aqsa Tehreem Complete Novel

اس منحوس کو کب رخصت کرنا ہے پانچ سال ہو گئے اس کے نکاح کو ۔۔ زرتاج بیگم کی زہر میں ڈوبی آواز وہ بھی باآسانی سن سکتی تھی ۔۔ جو اندر احمد صاحب کو بول رہیں تھیں مگر پس پردہ وہ اسی کو سنا رہیں تھیں ۔۔ اس نے جلدی سے کھانا بنایا اور کمرے میں بند ہو گئی ۔۔ یہ تو روز کا معمول بنتا جارہا تھا ۔۔ وہ ضبط کی انتہا پے تھی ۔۔ زرتاج بیگم کے یہ طعنے اب اس کو زخمی کرنے لگے تھے ۔۔ وہ پانچ بیٹیوں کی ماں ہونے کے باوجود اس کا دکھ اس کی تکلیف کو نہیں سمجھ سکیں تھیں ۔۔ وہ اپنی مرضی سے تھوڑی ان کی دہلیز پے بیٹھی تھی۔۔ مگر وہ ان سے شکوہ کس بنیاد پے کرتی جب اس کا اپنا باپ ہی ظالم اور سفاک نکلا تھا ۔۔ جو اس کی ماں کی وفات پے بعد اس کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔ اور وہیں اپنی دنیا بسا لی تھی ۔۔ اس کو اپنے بھائی بھابھی کے رحم و کرم پے چھوڑ دیا تھا ۔۔ اس نے کرب سے سوچا اور آنکھیں موندھ لیں ۔۔ اور یہی سب اس کے ساتھ فاران کر رہا تھا ۔۔ جو اس سے نکاح کر کے اس کو بھول ہی گیا تھا ۔۔ اس کی ماں کی حیات میں یہ نکاح ہوا تھا ۔۔ اس کے بعد فاران بھی بیرون ملک چلا گیا ۔۔ وہ روکنا چاہتی تھی ۔۔ مگر وہ جلد واپس آنے کا کہہ کر لوٹ گیا تھا ۔۔ اور اب پانچ سال کا عرصہ گزر گیا تھا مگر اس کا کچھ اتا پتا نہ تھا ۔۔

Bawal e ishq by Famra Ansari Complete Novel

  • by

” آج سن کمپنی کیوں بنی ہوئ ہو “
” ایش نے صلہ کو معمول سے ہٹ کر خاموش گاڑی چلاتے دیکھا تو بول پڑی کیوں کے صلہ کی بولتی کبھی بند نہیں ہوتی تھی اور جب ہوتی تھی تو واقعی مسئلہ گھمگھیر ہوتا تھا۔۔۔۔۔ ۔
“تمہیں معلوم تو ہے بتانے کا فائدہ “
صلہ نے گاڑی کا مرر سیٹ کرتے کہا

“یار وہ بات نہیں بکواس ہے سچی میں جانتی ہوں تم بے وقوف ہو مگر اتنی میرا دل کر رہا ہے میں ڈیش بورڈ ہر سر مار لوں اپنا احمق لڑکی حوش کے ناخن لو”””
‘ایش نے انتہائی جزبانہ انداز میں کہا۔۔
“ہوش بھی ہے میرے پاس اور ناخن بھی ہیں میں جو کہہ رہی ہو وہ صحیح ہے میری پوری زندگی کا سوال ہے اتنا کچھ سوچا تھا میں نے اور مین چیز نہ ہو اس سے میں مطمئن نہیں میں انکار کررہی ہوں مگر کوئ سن نہیں رہا “
صلہ نے دانت پیستے کہا ۔۔۔۔۔۔

“اچھا ہوا دو تھپڑ لگانے چاہئیں تمہیں تو “
‘ ایش کا بس نہیں چل رہا تھا کے خود صلہ کا گلا دبا دے’
“یار یہ میرا حق ہے مجھے نہیں کرنی ارینج میرج نہیں پسند مجھے “
صلہ نے رونی صورت بنائ
“تو پھر پسند کی شادی کے لئے کوئ ہونا بھی چاہیے اور تمہارے پاس ایسا کوئی نہیں جس کی بنیاد پر تم انکار کر سکو تو یہ فضول فینٹسی اپنے دماغ سے نکال دو اچھا خاصہ بلکہ بہترین پرپوزل ہے اتنا ہینڈسم اور رچ انسان ہے سعد ملک اور تم عجیب جاہل انسان نہ جانے کیا دیکھ لیا اس نے تم میں “

****************