Tooth brush afsana by Rushna Aziz
Tooth brush afsana by Rushna Aziz Tooth brush afsana by Rushna Aziz This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Tooth brush afsana by Rushna Aziz
Tooth brush afsana by Rushna Aziz Tooth brush afsana by Rushna Aziz This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Tooth brush afsana by Rushna Aziz
“آج تو بتا دو کہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہو ہاں ؟ پہلے تو مجھے بولنے نہیں دیتی تھی” ۔” آج جب میری,۔۔ میری سماعت تمھیں سننا چاہتی ہےتوتم…. بولتی نہیں ۔” جب پھرجواب نہ دیا گیا توشکوہ تو بنتا تھا ۔چند لمحے وہ خاموش رہا۔
“ا بہت ظالم ہو گئی ہو مگر اتنی … اتنی ظالم نہ بنو ” اورپھر ایک شکایت محبوب کے کھاتے میں لکھ دی گئی ۔
“کہتے ہے کہ جو آنسو آنکھوں سے چہرے پر گرتے ہیں وہ انسان کے اندر کے غموں کو بھی اپنے ساتھ بہا دیتے ہیں، دِل ہلکا کر دیتے ہیں لیکن جو چہرے پر نہیں گرتے وہ دل پر گرتے ہیں اور جو دل پر گرتے ہیں وہ غم کو تازہ کر دیتے ہیں اور جب غم تازہ ہوتا ہے تودِل پہ لگے زخم بھی تازہ ہو جاتے ہیں”
“۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔یہ دنیا والے کیا جانے کہ دل کے زخم کتنے تکلیف دہ ہوتےہیں۔۔۔۔”
اسکے زخم بھی روز نئے سرے سے تازہ ہوتے تھے ۔
Kashaf e qurbat by Hanzala Yasir Episode 2 Kashaf e qurbat by Hanzala Yasir Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Kashaf e qurbat by Hanzala Yasir Complete novel
عشق ایک گہرا اور پیچیدہ احساس ہے جو کسی دوسرے انسان کے لیے محبت، محبت کی شدت اور جذبات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں فرد دوسرے کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی محسوس کرتا ہے۔ عشق میں محبت، خواہش، قربانی، اور کبھی کبھی درد بھی شامل ہوتا ہے۔
مفلحون ہوتے ہیں وہ جنہیں یقین ہوتا ہے کہ حقیقی فلاح فیصلے کے دن کی فلاح ہے ۔ وہ خدا کے ہر کام میں مصلحت ڈھونڈتے ہیں ۔ انھیں دی گئی کسی چیز پر کوئی شکوہ نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہوتے ہیں ۔ انھیں جو میسر ہو اسی میں خیر طلب کرتے ہیں ۔
میاں یہ کالے پیلے داغ کیسے لگ گئے۔ سب خیر تو ہے؟ انور کی سوجی ہوئی آنکھ اور بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر ایوب صاحب تلملا گئے۔
درد کی تلاش میں دھکے کھاتا پھر رہا ہوں۔ انور نے برا سا منہ بنایا۔
میاں جو تیری حالت ہے بات دھکوں سے آگے کی لگتی ہے۔ کیا لاتیں اور مکے بھی کھا کر آیا ہے؟ ایوب صاحب نے کہا اور اٹھ کر چائے بنانے چل دئے۔
کیا بتاؤں۔۔ اپنی درد بھری داستان۔ سویرے سویرے نوکری چلی گئی۔ اماں کو معلوم ہوا تو چمڑے کی چپل سے کاری ضرب لگا ڈالی۔ ایک ضرب سے تو دل نہیں بھرا ان کا۔ تاک تاک کر نشانہ باندھا ہے بڑی بی نے۔ اپنی کالی آنکھ پر ہاتھ رکھتا انور درد سے کراہنے لگا۔
ہاں ویسے تیرے گھر والوں کا نشانہ تو عمدہ ہے۔ کیسے عین منزل مقصود پہ وار کیا ہے۔ خیر کوئی دوا دارو کر لے وگرنہ تیری جو حالت ہے، درد کو چھوڑ تو، تو مجھے دنیا سے کوچ کرتا دکھائی پڑتا ہے۔
ایوب صاحب داڑھی میں ہاتھ پھیرتے اندازے لگا رہے تھے۔
نہ چاچا، یہی تو وہ درد ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔ نوکری چھوٹ گئی، گھر والوں نے کنارہ کر لیا، زندگی میں کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ اب یہ درد میری شاعری میں جھلکے گا تو دیکھنا کیسے بڑے بڑے تخلیق کار اور شاعروں کے کان کتروں گا۔ انور نے شیخی بھگاری۔
Allah per yaqeen afsana by Aliyan Haider download pdf Allah per yaqeen afsana by Aliyan Haider download pdf This is social romantic Urdu novel based… Read More »Allah per yaqeen afsana by Aliyan Haider download pdf
کن چکروں میں ہو۔تم؟
کل بھی چار گھنٹے بیٹھ کر چلاگیا ‘ موصوف، سے ملاقات نہیں ہوپائی ۔ عادل آج پھر آفس میں موجود تھا ۔
,,ایک کام سے گیا تھا ۔ اس نے فائل سر کائی ۔،
,,گرلز کالج میں کام کی ناعیت کیا ہو سکتی ہے ۔؟
عادل نے سوچنے کی ادا کاری کی جبکہ وہ سر وتاترات لئے عادل کو گورنے لگا ۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو، میں کچھ غلط کہا کیا
تم گرلز کالج ہی گئے تھے ناں۔۔۔۔۔۔؟
تم کو میری جاسوسی کرنے کے لیے کس نے کہا؟
اس نے غرا کر کہا تو عادل نے سہم جانے کی اداکاری کی۔
,,کیا کروں ‘ یار میرا دل مجھے بہکاتا رہتا ہے ۔کہ میں تمہاری خبر رکھا کروں ‘ کہیں تم ہاتھوں سے نہ نکل جاؤ ۔اس نے معصومیت سے کہا گویا تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ تم کن چکروں میں ہو۔،،
,,جب ضرورت محسوس کروگا تو بتا دوگا،،
اس نے رکھائی کا مظاہرہ کیا۔
عادل نے خاموش ہونے میں ہی عافیت جانی کیوںکہ وہ جانتا تھا ۔کہ، اپنے دوست سے وہ جبراً کچھ بھی اگلوا نہیں سکے گا۔ عادل کا سوچا ہوا منہ دیکھ کر اسے ہنسی آگئی ۔
ہمیں وعدہ خلافی سے سخت نفرت ہے ۔ اگر بارہ بجے پیسے لوٹانے کا وعدہ کیا ہے تو بارہ بج کر ایک منٹ بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ سامنے والا کا کالر اپنے ہاتھوں میں دبوچے وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بولا
معاف کردیں سائیں بیٹی کی سسرال میں مسئلہ ہوگیا تھا سارے پیسے وہیں لگ گئے ۔ میلی کچیلی دھوتی میں ملبوس وہ ادھیڑ عمر مرد گڑگڑایا جسے ذمّہ داریوں نے اپنی عمر سے دوگنا بوڑھا کردیا تھا
ہم کچھ نہیں جانتے اپنے گھر کے کاغذات لاؤ ہمارے پاس جمع کرو اور ایک ہفتے کے اندر ہمارا پیسہ ہمیں مل جانا چاہیے ورنہ تمہارا گھر ہمارا ہوا ۔۔اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
جی جی ۔ وہ آدمی روتا ہوا واپس ہوا
بھائی یہ کتنے دنوں سے ٹال مٹول کر رہا پیسوں کے لئے ۔ انور نے نیچے اوندھے پڑے شخص پر لاتوں اور
گھونسوں کی بارش کی
کیوں بے تجھے پتہ نہیں ہے کہ مجھے زبان کے پکّے لوگ ہی پسند ہیں پھر کیوں ٹال مٹول کر رہا ہے ۔ اس نے ایک لات خود بھی رسید کی اسے
مگر اس بے چارے میں اتنی طاقت کہاں تھی
کہ وہ کچھ بولتا
تب تک پیٹتے رہو جب تک کی یہ پیسے دینے کا قطعی فیصلہ نا کر لے ۔ وہ انور کو ہدایات کرتا آستین موڑتا اندر کی طرف بڑھ گیا
میری ننھی سی گڑیا بڑی ہو گئی ہے مجھے اپنی بیٹی پہ پورا اعتماد ہے اگر ساری دنیا کھلی آنکھوں سے بھی کہے گی کہ عنایا عنایت غلط ہے تو میں بند آنکھوں سے کہوں گا میری بیٹی غلط نہیں ہو سکتی مجھے اس پہ یقین ہے”…. میں نے تو بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ عنایا کے میٹرک کے رزلٹ کے بعد اس کا داخلہ شہر کے کسی اچھے کالج میں کرواؤں گا میری بیٹی کسی سے پیچھے کیوں رہے بھلا!… ارسلان اپنے بابا کے باتیں اور ان کی عظیم سوچ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لیے مسلسل انہیں دیکھ رہا تھا اچانک سے خیال آیا لوگ کیا کہیں گے؟…
آپ کیوں پریشان ہو بیٹا آپ کے بابا ہیں نا کوئی میرے ہوتے آپ دونوں پر بات نہیں کر سکتا بس اپنی بہن کا جیسے خیال رکھتے ہو اور فکر مند ہوتے ہو دوسروں کی بہنوں کے لیے بھی ایسے ہی انسانیت دل میں رکھنا اپنی بہن کے محافظ اور دوسروں کی بہنوں کےلیے بھیڑیا کبھی مت بننا اگر آپ دوسروں کی بہنوں کو بھی عزت دیں گے تو آپ کی بہن بھی خوش رہے گی” یاد رکھنا میرے بیٹے بیٹیاں سب کے سانجھی ہوتی ہے گھر کے اندر کی عورت اور بیٹی کے محافظ اور باہر کسی کی بیٹی کے لیے راستے تنگ کر دینا مردوں کی فطرت نہیں جانوروں اور حیوانوں کا کام ہے”