Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat
Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat is an Ebook complete novel will be available in the month… Read More »Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat
Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat is an Ebook complete novel will be available in the month… Read More »Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat
Afshan afridi novels collection complete pdf A Rising Star in Pakistani Digest Writing Afshan afridi novels collection complete pdf Pakistani literature, especially the world of… Read More »Afshan afridi novels collection complete pdf
Tum ko paa liya by Sidra Ijaz Complete Novel PDF Tum ko paa liya by Sidra Ijaz Complete Novel PDF This is social romantic Urdu… Read More »Tum ko paa liya by Sidra Ijaz Complete Novel PDF
Hum Bhi Kaisy Pagal Thy by Madiha Tabasum Hum Bhi Kaisy Pagal Thy by Madiha Tabasum. This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Hum Bhi Kaisy Pagal Thy by Madiha Tabasum
” بیٹا کب آؤ گی “
” سلمہ عمر احمد صبر کریں ” اس کے نام لینے پر تقی نے چونک کر اسے دیکھا .
” ہٹ پگلی دادا کا نام لیتی ہے “
(دادا )
“اوہو دادی شرما رہے ہو “
” آج جلدی آ جانا”
اس نے فون رکھا اور تقی کو دیکھا جو اسے بے یقینی سے دیکھ رہا تھا
” کیا ہوا “
” آپ کے دادا کا نام کیا ہے “
” عمر احمد کیوں ” اسنے بڑی سادگی سے جواب دیا جبکہ وہ خوشی سے جھومنے لگا اسے خوش ہوتا دیکھ کر قمر حیران ہوئی کر وہ بے وجہ کیوں خوش ہو رہا ہے مگر تقی اس کی پرواہ کئے بغیر جھوم رہا تھا.
” کیا ہوا تقی ” اس نے حیرانی سے پوچھا
اس کی آنکھوں میں ایک دم سے آنسو جمع ہونے لگے اس کا دل کسی ان دیکھے اندھیرے نے جکڑ لیا جس سے اسکا سانس حلق میں اٹگ گیا . بیک وقت اس نے اپنا تھوک نگلا .
” ہمارے دادا کو گزرے 4 سال ہوگئے ہیں ” یہ الفاظ نہیں زہر تھے جو اس کے سینے میں اتر رہے تھے ذہین میں بس اک صدائیں گونجنے لگی
( بیٹا میرے دوست کو مجھ سے ضرور ملانا ورنہ میں سکون سے مر نہیں پاؤں گا ) اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ جس کے ملنے کی تمنا میں وہ جی رہے تھے وہ کب کے مرچکے ہیں .
Dil ka samundar by Nabila Abar Raja Complete novel PDF Dil ka samundar by Nabila Abar Raja Complete novel PDF This is social romantic Urdu… Read More »Dil ka samundar by Nabila Abar Raja Complete novel PDF
“انہوں نے ابھی مجھے معمولی سا ہراس کیا ہے،اس پر اگر میں ان کے خلاف ایکشن لوں گی تو کل کو کیا پتہ وہ میری عزت پامال کر دیں،تب کیا بچے گا میرے پاس عمارہ؟”عمارہ کا دل جکڑا تھا۔
“اس طرح کے اداروں میں اس طرح کی باتیں عام ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے درندوں کے خلاف آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کو،کوئی نہیں آتا مدد کو،کوئی نہیں سنتا مظلوم کی پکار۔انہوں نے ابھی صرف معمولی سا ابیوز کیا ہے،کل وہ میری عزت پامال کر کے اسی کالج میں پھینک دیں گے پھر بہت سارے سٹوڈنٹس میری لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کریں گے،ساری دنیا میرے باپ کو ترحم کی نگاہ سے دیکھے گی،چند دن یہ تماشہ لگے گا اور پھر سب ختم۔پھر کوئی دوسری مناہل ہوگی مگر پروفیسر ہشام۔۔۔وہ وہیں ہوں گے،اسی عزت اور رتبہ کے ساتھ۔”وہ بنا رکے بولے جا رہی تھی۔
وہ بنا پلکیں جھپکے کرب سے اس کی بیان کردہ معاشرہ کی سفاکیت سنے جا رہی تھی جو کہ بےحد افسوس کے ساتھ سچائی تھی۔
“اور اگر بدقسمتی سے میں بچ گئی تو میرا اپنا ہی باپ میرے مرنے کی دعائیں کرے گا اور یہ معاشرہ مجھے ہی مجرم ثابت کرے گا اور مجھ میں عیب نکالے گا مگر مجرموں کے سامنے اسی طرح کے شُرفاء ڈھال بن کر کھڑے ہوں گے۔میرا باپ غریب آدمی ہے ان امیروں کے سامنے نہیں ٹِک سکے گا اور اپنی بیٹی کا حساب قیامت پر رکھ چھوڑے گا۔اور کیا ہی دل دہلا دینے والا ہوگا قیامت کا عذاب مگر اس سے قبل مجھے اور میرے باپ کو ہر روز،ہر پل،ہر لمحہ قیامتِ صغریٰ سے گزرنا ہوگا۔”گلے میں پھنسے آنسوؤں نے اب الفاظ کا دم گھونٹ دیا تھا۔
“آپ یقیناً ،علیزے کے شوہر ہیں؟
(وہ منان کو شادی کی تصویروں میں دیکھ چکا تھا)”
اس نے معنی خیزی سے علیزے کو دیکھتے ہوۓ منان سے کہا تھا۔
“ہاں جی۔۔۔” علیزےکے رویے سے منان کے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ شہروز ہی ہے۔
“آپ جانتے ہیں میں کون ہوں اور آپکی بیوی سے میرا کیا تعلق رہا ہے؟”
شہروز نے پوچھا تھا۔
اور علیزے کو اپنے پیروں تلے سے زمیں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
بے شک وہ اپنے بارے میں منان کو سب کچھ بتا چکی تھی۔
مگر شہروز سے کیا بعید تھا کہ وہ اپنی طرف سے کہانیاں گھڑ کے منان کو علیزے سے متنفر کرنے کی کوشش کرتا۔
“میں اپنی بیوی کو جانتا ہوں میرے لیے یہی کافی ہے۔
اور آپ جیسا شخص جو بیچ بازار میں کسی لڑکی کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاۓ بغیر اسکی عزت کی پرواہ کیے،وہ کسی کی کم عمری کی نادانی تو ہو سکتا ہے،منزل نہیں ہو سکتا۔”
منان نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد علیزے کو لیکر باہر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔
اور علیزے کو یوں لگا تھا جیسے وہ تپتے صحرا سے ایکدم چھاؤں میں آ گئی ہو۔
ٹی وی میں اماں کی حویلی تھی جو پوری طرح سے جل کر راکھ ہوچکی تھی اور مرنے والوں میں بہت سے لوگوں کے ساتھ اس کا بھی نام تھا۔ اپنا نام سنتے ہی اسے ایک دھچکا لگا۔ اس نے کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ پاؤں کرسی کے ساتھ بندھے تھے۔ اس نے زور لگاتے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی اور جب وہ ناکام ہو گیا تو اپنے آس پاس نظر دوراتا زخمی سا غرایا،
کون ہو تم اور کیا چاہتے۔۔۔۔۔
اپنے آس پاس کا منظر دیکھتے ہی باقی کے لفظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے اور وہ اپنے آس پاس کے منظر کو دیکھتا آنکھیں جھنپکانے لگا۔ جیسے اسے یقین نا ہوں کہ جو وہ دیکھ رہا ہے اس کے سامنے وہی سب ہے یا سب اس کی آنکھوں کا دھوکا ہے مگر افسوس یہ سب سچ تھا۔ وہ اپنی سن ہوتی رگو کے ساتھ اس منظر میں ہی کہیں کھوگیا۔
Mohabbat ke jazeery per by Tair Ul Jannah Episode 1 +2 Mohabbat ke jazeery per by Tair Ul Jannah Complete novel This is social romantic… Read More »Mohabbat ke jazeery per by Tair Ul Jannah Complete novel