Skip to content
Home » After marriage story » Page 12

After marriage story

The Evil Love novel by Maliha Fatima

  • by

تم کون ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اخر چاہتے کیا ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر اس کی نڈھال ہوتی حالت اور بگڑتی جا رہی تھی

میں جو چاہتا ہوں مجھے وہ بہت جلد ملنے والا ہے۔۔۔!!!

لڑکی میں اس کا سب کچھ چھین کر اسے برباد کر دوں گا اس کا سب میرا ہوگا اور پھر میں اس کی بھی جان لے لوں گا بس میرا راج ہوگا ہر جگہ سمجھ ائی وہ غصے میں دھاڑ رہا تھا

تم کس کو مارنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کس کے لیے لائے ہو مجھے یہاں زبردستی الفاظ منہ سے اٹک اتک کر نکل رہے تھے۔۔۔۔۔

میں کس کو ماروں گا وہ اپنا ہاتھ کی ایک انگلی اپنی تھوڑی پہ رکھ کے سوچنے والا ایکشن کرتے ہوئے بول رہا تھا او میں کس کو ماروں گا وہ جو تمہاری

شاید جان ہے کہیں ۔۔۔۔۔

وہی تو نہیں ہنس رہا تھا

وہ کسی کی محبت برباد کر کر وہ کیسے ہس سکتا تھا شرم انی چاہیے ۔۔۔۔۔۔!!!!

نہیں نہیں پلیز ایسا مت کرنا ت تمہیں خدا کا واسط کہہ ایسا مت کرنا میں اس کے بنا مر جاؤں گی پلیز وہ گڑگڑا رہی تھی اسکی جان سے پیاری چیز کو مارنے کی بات کر رہا تھا وہ کسے نہ گھبراتی اور ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

میں تو کروں گا۔۔۔۔

وہ ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے بولا

جو کر سکتی ہو کر لو اب مجھ سے تم کو اور تمہارے جانشین کو کوئی نہیں بچا سکتا سمجھی وہ ایک ادا سے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

تم پڑی رہو ہی پر جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا ڈارلینگ۔۔۔۔!؛

ایک دم سے اس کے شہرے سے کپڑا ہٹ گیا تھا اور شاید وہ ڈر گیا تھا اور واپس دیر کیے بہنا اپنا چہرا ڈاپ چکا تھا

تتتتتمممممم۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میں اس کو بتا دوں گی تم اسے دوکا دے رہے ہو جو تم سے اتنا پیار کرتا ہے

وہ جا چکا تھا ہا وہ اکیلا اس معصوم جان کو اس ویران جنگل میں چھوڑ گیا تھا

اب عنوا وہاں سے بھاگنے کے لیے کوشش کر رہی تھی کبھی ہاتھ کی راسی توڑتی تو کھبی پیر زمین پر پاتکتی ۔۔۔۔۔۔۔

کوی بھاگ رہا تھا یہاں سے وہاں

وہ پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا بس

پر وہ اسے کہیں نہیں مل رہی تھی

اس کا دل پھٹ رہا تھا اس کو لگ رہا تھا اج سب ختم ہو جائے گا

وہ کہاں چلی گئی تھی ابھی تو یہی تھی

اب تم ملی مجھے تو میں تمہیں مار ڈالوں گا ۔۔۔۔۔۔غصے سے اس کے ہال ہکھلال ہوتی جا رہی تھی

عنوا بھاگتے بھاگتے اب تھک چکی تھی کھانا تو اس نے کل رات سے نہیں کھایا تھا پانی بھی شاید اور اتنے زخموں کے بعد کون ہی چل سکتا تھا

وہ لڑکھڑاتی چلتی پھر گرتی پھر سنبھلتی چلتی جا رہی تھی اب وہ اس محل کے سامنے کھڑی تھی جسے لوگ عیول کیسیل کے نام سے جانتے تھے

بس پیچھے سے کچھ چیز ٹک کر کر اس کو لگ گئی تھی

جو اس کا سینہ چیر چکی تھی

اور یہ منظر دو لوگوں نے نہیں بلکہ تین لوگوں نے اپنی نظروں میں قید کیا تھا

وہ گرے انکھیں بھی اس وقت اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ چیخا تھا چیخنا تو فرض تھا اس پر اس کی دنیا اجڑ گئی تھی اس ایک لمحے میں عنوااااااااااا

Dhoop aur chaon novel by Biya Naz

تم ایک عام عورت نہیں ہو ایک بہادرسپاہی کی بیوی ہو جو کہ کبھی ہمت نہیں ہار سکتی اسکا حوصلہ چٹانوں جیسا ہے اور وہ مضبوط ہے جیسے کہ پہاڑ ہو۔ لاریب میری جان تمہاری آنکھوں میں آنسو تمہاری کمزوری کی علامت ہے۔ اگر تم اداس رہو گی تو میں اپنے فرض اورمان کو کیسے نبھا سکوں گا۔ تم مجھ سے وعدہ کرہ کہ کبھی ان حسین آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں گے چاہے کہ میرے جسد خاکی پرچم میں لپٹا ہواکیوں نہ آئے میں ضرور لوٹ کر آؤں گا غازی بن کر یا شہید بن کر۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بچوں کو اپنے ہا تھوں میں لو ں انکو اپنی گود میں کھیلاؤں لیکن زندگی اور موت صرف اس باری تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے وعدہ کرو تم میرے بچوں کو ایک چٹان کی طرح مضبوط بناؤ گی۔ اور چاہے میں ساتھ ہوں یا نہیں لاریب نے تڑپ کے میجر ریحان کے منہ پر ہا تھ رکھ دیئے اور شکوہ بھر نظروں سے دیکھا۔ آپکی لاریب کمزورنہیں ہے ریحان وہ ایک بہادر سپاہی کی بیوی ہے۔ آپ مطمئن رہیں یہ کہنے کی دیر تھی کہ ریحان کے اندر سکون کی لہر دوڑ گئی۔ اور لاریب کے ماتھے پر اپنے ہونٹ ثبت کیے اور اسکو بانہوں میں بھینچ لیا کیونکہ یہ لمحہ انکے لیے بھی بہت مشکل تھا کافی دیر دونوں نے اپنے بچوں کے بارے میں مستقبل کے بارے میں بات کی اور بی جان کی آواز پر ڈائنگ ہال میں کھانے کی میز پر پہنچ گئے تھے کیونکہ آج ولی ہاؤس میں عید کا سماں تھا کہ سب اکٹھے ایک ساتھ میجر ریحان کو دعاوں کے سائے میں رخصت کرنے کے لیے آئے تھے کہ ملک و قوم کے لیے جان دینے کیلئے ولی ہاؤس کا بچہ بچہ تیار تھا۔

Mohib mohabbat by Zunaira bano Complete Novel

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میری “ہونے والی بیوی” کس قدر زہر اگلتی ہے۔ مجھ سے کس قدر جلتی ہے۔” ابوبکر نے دل میں سوچا۔
“جلتی نہیں ہے۔۔۔۔ بس تم سے پیار کرتی ہے۔۔۔۔”
“میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر تم چاہتی کیا ہو ساریہ۔۔۔ دو سال ہونے کو ہیں۔ اس کے باوجود تم اس وکیل کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ اس کی اب ایک بیوی ہے، بچی بھی ہے۔ وہ آزاد تھا تب تمہارے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔ اب کیا خاک اٹھاۓ گا۔۔۔”
وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا تھا۔
“تم مجھے گلاب کا پھول دینا اور میں تمہیں گوبھی کا پھول دوں گی۔ پھر تمہیں ہمیشہ یاد رہے گا میں کتنی اچھی شیف ہوں۔۔۔” حمائل نے ہنستے ہوۓ کہا۔ ابوبکر کے چہرے پر مصنوعی غصہ طاری ہوا:
“اچھی شیف؟ تمہاری کنکر والی کافی بھولا نہیں ہوں میں ۔۔۔”
“ایک بار کہو۔۔۔ جو مانگو گی وہ تمہیں پل بھر میں لا کر نہ دیا تو میرا نام بھی احمر گیلانی نہیں۔”
“احمر۔۔۔” رومانی کے ہاتھ کانپیں۔ آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔
“جب آپ جیسا مرد دست درازی کرنے کے باوجود ڈھٹائی کے ساتھ سینہ تان کر میرے سامنے کھڑا ہے تو میں اپنی عصمت کو اپنی کمزوری جان کر گھر کے کسی تاریک گوشے میں کیوں جا چھپوں۔”
وہ غرائی۔ حسن قادری مسکرا کر رہ گیا۔
ابوبکر نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ رو رہی تھی اور آنسو بے شمار تھے۔
“مت۔۔۔ جاؤ۔” اس نے بلک کر کہا اور ہاتھ جوڑ لیے۔
“ہُما۔۔۔” وہ بے بس سا نظر آیا:
“میں واپس آجاؤں گا۔”
“میرے سامنے نقاب کیوں نہیں کرتیں؟” احمر نے اچنبھے سے پوچھا تھا۔ رومانہ نے گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں کرچیاں ہی کرچیاں تھیں۔
“تم سے کیا چھپاؤں احمر؟ چہرہ یا جسم؟”

Shiddat by Bareera Shah Complete Novel

  • by

کیسے رہوگی اکیلے پنے تو سنبھلتی نہیں ۔۔۔دارم دکھ سے مسکرایا

جب کے اُس کی بات پر اہانا نے حیران ہوتے اُسے دیکھا

کیا مطلب اکیلے آپ کے ساتھ رہونگی نا ۔۔۔

یعنی تم چاہتی ہو تم مجبوری کی زندگی گزارو ؟؟لیکن میں ایسا نہیں چاہتا

وہ اس کے بالوں سے آخری پن نکلتا ہوا بولا

دارم آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں ۔۔۔وہ کھڑی ہوتی دارم کے قریب جاتی بولی

اسلئے کیونکہ شاید ہم لوگ اک دوسرے کیلئے بنے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔

دارم کی بات پر اہانا نے تڑپ کر اُسے دیکھا جو پہلے ہی اُسے دیکھ رہا تھا

اہانا کی آنکھوں میں تڑپ دیکھ دارم کو کچھ ہوا تھا

ک۔کیا مطلب ۔۔؟؟

مطلب میں تمہیں تمھاری زندگی واپس دینا چاہتا ہوں جس میں کوئی مجبوری نا ہو میں تمہیں اس مجبوری کی شادی سے آزاد کرنا چاہتا ہُوں لیکن گھر والوں کا سوچ میں خاموش ہوجاتا ہُوں ۔۔۔سب گھر والوں پر کیا گزرے گی لیکن میرا وعدہ ہے میں تمہیں اس مجبوری سے بہت جلد آزاد کردونگا ۔۔۔

د۔دارم ا۔آپ۔۔۔اہانا کہتے کہتے رکی جب کے دارم کی بات پر انسوں تو آنکھوں میں جمع تھے ۔۔۔

دارم آپ کو ہوا کیا ہے اک بار بتائے تو مجھے آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔۔وہ دارم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی

چھوڑو ۔۔۔۔تم اب بھی مجھ سے پوچھ رہی ہو مجھے کیا ہوا ہے تم خود سے پوچھو کے کیا ہوا ہے ۔۔۔دارم اپنا ہاتھ پیچھے کرتا سنجیدگی سے بولا

آپ میرے ساتھ ایسا مت کرے دارم میں مرجاونگی آپ کے بغیر ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی

مر تو میں گیا ہُوں اہانا تمہیں مزید یہ مجبوری کے تحت باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے اک بار میں نے پہلے بھی یقین کیا تھا لیکن اب نہیں میں جانتا ہوں یہ شادی تم نے گھر والوں کے کہنے پر مجبوری سے کی ہے ۔۔۔۔۔

Ehsan Ishq novel by Zohra Shaikh

یہ ناول ادھورے عشق ادھوری محبت کی ہے۔بعض اوقات ہم احسانوں تلے اتنے دبے ہوتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کا قیمتی اثاثہ کھو دیتے ہیں۔ بس یہ کہانی اسی پر مبنی ہے۔