“کیا دیکھا تم نے”
اسکے قریب آکر وہ پسٹل اسکی شہہ رگ پر رکھتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا
“ک–کچھ نہیں”
“میں نے پوچھا کیا دیکھا تم نے”
”م–میں کسی کو کچھ ن-نہیں بتاؤں گی”
اسکی پہلے سے زیادہ سخت ہوتی آواز پر وہ جلدی سے کہنے لگی
“ڈیرل کسی سے ڈرتا نہیں ہے بھری دنیا کو بتا دو”
“مجھے جانے دو”
“میں نے تمہارا راستہ کب روکا تم خود اپنی موت کے انتظار میں کھڑی ہو جانا چاہتی ہو تو جاؤ اس سے پہلے میرا موڈ مزید خراب ہو اور اگر میرا موڈ مزید بگڑا تو میں یہاں پر دوسرا قتل کرنے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا”
اسکی بات پر وہ اپنے شل ہوتے وجود کو گھسیٹتی بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
اور آریز بس اسکے دور جاتے قدموں کی آواز اپنے کانوں میں سنتا رہ گیا
°°°°°