Sirf tum by Nadia Anwar Complete short story
Sirf tum by Nadia Anwar Complete short story Sirf tum by Nadia Anwar Complete short story This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Sirf tum by Nadia Anwar Complete short story
Sirf tum by Nadia Anwar Complete short story Sirf tum by Nadia Anwar Complete short story This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Sirf tum by Nadia Anwar Complete short story
Maharat by Sadaf Asif Complete Novel Maharat by Sadaf Asif Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Maharat by Sadaf Asif Complete Novel
Teri chah mai by Ayesha Tanveer Teri chah mai by Ayesha Tanveer This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Teri chah mai by Ayesha Tanveer
طواف نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ غر ائی
وہ سب سے پاک تھی اس گھٹیا جگہ پر رہتے بھی وہ پاک تھی خدا نے اس کی حفاظت کی تھی اور تو۔۔۔۔ اس نے آنکھیں فرح بائی کی آنکھوں میں ڈالی اس کے منہ پر تھوکا فرح کا منہ نیچے جھک گیا
تجھے لگتا ہے کہ تم ہم سب کو بے بس کرے گی اور ہم سب تیری قید میں رہیں گے تو بھول گئی فرا بائی کے اوپر ایک خدا بھی بیٹھا ہے ہمارا خدا۔۔۔۔ وہ خدا جس کے پاس بے بس کرنے کی اور قید کرنے کی طاقت ہے جس کے پاس آزاد کرنے کی طاقت ہے تو نے وہ خدا بننا چاہا فرابا ئی تھی پر تو بھول گئی وہ خداقہر بھی برساتا ہے تجھ جیسے بندوں پر اور جب اس کا قہر آن پڑتا ہے فرح بائی اور ایک جھٹکے سے اس نے فرح کی گردن چھوڑ دی وہ نیچے جا گری
لیکن زارہ ابھی چپ نہیں ہوئی تھی تو سزا دے رہی تھی سوہا کو عبرت ناک تو میں بتاتی ہوں تجھے عبرتنات کسے کہتے ہیں جب خدا کا قہر آتا ہے نا تو تجھ جیسے بندوں کا حال کیا ہوتا ہے
فرہ بائی ابھی تک زمین پر گری تھی
اٹھ۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ جھک کر چیخی
فرا بائی اسی طرح پڑی تھی
اٹھ وہ پھر چیخی اور فرا بائی گڑبڑا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اب وہ اس کے بالکل قریب آئ ۔ اب اس کی اواز بھی دھیمی تھی
تجھے بہت شوق تھا نا سب کو بے بس کرنے کا آج تجھے میں بتاتی ہوں وہ اپنے سینے پر انگلی رکھ بولی بے بسی ہوتی کیا ہے
عابد استاد ۔۔۔۔۔ وہ زور سے بولی گن لائیں فرح بائی کی
فرا بائی کی خرا بھائی زور دے کر بولی وہ گن جو تم کبھی نہ چلا سکے کیونکہ اس پہ صرف اسی کا نام نقوش تھا اس سے صرف یہی مرے گی وہ فرح کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بول رہی تھی
عابد استاد سر ہلا کر فورا گیا اور دو منٹ بعد واپس ایا تو اس کے ہاتھ میں گن تھی بالکل پیک اس کا کور بھی نہیں اترا ہوا تھا گن کو دیکھ کر فرح کی ہوائیاں اڑی وہ ایک دم زہرا کے قدموں میں گر گئی
مجھے معاف کر دو زارا دیکھو جیسا تم کہو کہ میں ویسا کروں گی تم مجھے اپنا غلام بنا لو میں تمہارے غلامی کر لوں گی لیکن مجھے مت مارو وہ کانپ رہی تھی اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی زارا نے پاؤں کی ٹھوکر سے ا سے پیچھے کیا
وہ عابد کے پاؤں میں تھی اور زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی عابد میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کیا تم پلیز مجھے بچا لو اس کے پاؤں پکڑ رہی تھی عابد نے بھی بالکل زارہ کی طرف پاؤں کی ٹھوکر سے اسے پرے کیا تھا اب وہ التمش کے قدموں میں آئی تھی دیکھو میں نے تمہارے ساتھ برا کیا لیکن میں تمہیں سب کچھ دوں گی میں سوہا جیسی ہزار لڑکیاں تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی میرے پاس بہت پیسہ ہے وہ بالکل اس وقت کوئی پاگل لگ رہی تھی
داستان قلب عشق۔۔۔۔
دوستی کی داستان۔۔۔ پیار کی داستان۔۔۔ قربانی کی داستان۔۔۔
وہ داستان جس میں دو دل ملیں تو ایک دل ٹوٹتا ہے۔
داستان ہے یہ انمول دوستی کی ۔۔۔
محبت کی۔۔۔
عشق کی۔۔۔
داستان ہے یہ تقدیر کے فیصلوں پر یقین کی۔۔۔
وہ داستان جس میں دو دل ملیں تو ایک دل ٹوٹتا ہے۔
یہ تحریر اجکل کے نئے لکھاریوں کے لئے ! جو کہ ماشاءاللہ سے اتنا اگے نکل چکے ہیں، کہ انھیں پڑھ کر آخرت ہی خراب کرنی ہے۔
آج کی تحریر تنقید ہے
میرے ضمیر کی آواز ہے
Free download this based on
“One bitter and harsh truth“
Aaina ke is taraf by Rimsha Riaz
complete in pdf.
یہ کوئی ناول ،ناولٹ ، افسانہ ، یا کہانی نہیں ہے ،بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے ، یہ تحریر لکھاری ،پبلشرز اور قارئین کے لئیے ہے ، یا تنقید برائے اصلاح بھی کہہ سکتے ہیں ، کس چیز کی عکاسی ہے یہ تحریر وہ پڑھ کر معلوم ہو جائے گا ، اس کے لئیے میری مدد کی ہے ،کسی کے ایک جملے نے
” جب نیکی کی راہ پہ چلو تو شر سے مت ڈرو”
میں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا یہ جملہ تو مجھے یاد رہا مگر میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں اس تنقید میں صفحے بھرتی جاؤں ۔کچھ تھوڑا بہت لکھا ہے ، غلطی ہو تو معذرت ، دعا میں یاد رکھئے گا ۔
۔۔ رمشاء ریاض
” آپ بغیر بتائے آئی ہے؟ خیریت اور اس بیگ میں کیا ہے؟”
میں نے کشف کو نظر انداز کرتے ہوئے زیان کو دیکھا جس کی آنکھوں میں یہی سوال تھے۔
” تمہیں فائز نے کچھ نہیں بتایا؟” میری آواز میں نمی تھی۔
” نہیں! کیوں کچھ ہوا ہے؟” زیان سرے سے لا علم تھا۔ میں نے پہلے اپنے خشک ہونٹوں کو تر کیا اور پھر ہمت مجتمع کرکے سب کچھ ایک ساتھ کہہ ڈالا۔ زیان اور کشف کے چہرے پر تناؤ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ جب میں نے سب کچھ سنا ڈالا تو زیان نے ترش آواز میں کہا۔
” اس کی ہمت کیسے ہوئی یوں آپ کو گھر سے نکالنے کی! وہ شاید بھول گیا ہے وہ گھر ابو کا ہے۔ اس گھر میں میرا اور اس کا برابر کا حق ہے۔”
” بیٹا اب کیا کیا جا سکتا ہے! مسئلے کا تو یہی حل نکلتا ہے کچھ دن میں تمہارے اور کچھ دن فائز کے گھر میں رہوں۔” میں نے نڈھال سے انداز میں کہا۔ میری بات سن کر کشف فورآ سے بولی۔
” آپ یہاں کیسے رہ سکتی ہے؟!” پھر اس نے بے ساختہ زیان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے بعد کچھ سنبھل کر بولی۔
” میرا مطلب ہے میں اور زیان تو آفس میں ہوتے ہیں۔ بچے اپنے اسکول میں۔۔۔ ایسے میں آپ یہاں کیسے رہے گی؟”
” رہ لوں گی میری بیٹی۔ ویسے بھی گھر میں ملازمہ تو ہوتی ہے نا۔”
” آپ کو ہم ملازموں کے رحم و کرم پر تو نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ اپنے گھر میں ہی جائے۔ زارا ویسے بھی ہر وقت گھر میں ہی ہوتی ہے۔ وہ آپ کو اچھے سے ٹریٹ کر سکتی ہے۔” ” اچھا خیر ابھی تو آپ گیسٹ روم میں جائے۔ مجھے آپ تھکی ہوئی لگ رہی ہیں۔ آپ وہاں جا کر آرام کرے تب تک میں فائز کو بلا کر خبر لیتا ہوں۔”
Ashk by KSA Episode 2 Ashk by KSA Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them are true… Read More »Ashk by KSA Complete novel
Bus ik Aarzoo tumhari by Rizwana Irshad Bus ik Aarzoo tumhari by Rizwana Irshad This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Bus ik Aarzoo tumhari by Rizwana Irshad
یہ ناول سعدین حویلی کے مکینوں کی کہانی ہے جس میں کئی کرداروں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انتقام، دھوکے، دوستی، نفرت، محبت اور ایک جن زادے کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، ناول میں مافیا کے عناصر بھی شامل ہیں اور گرے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے، جو اپنے پیچیدہ تعلقات اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہیں۔ کردار اپنے ماضی، خواہشات اور تاریک پہلوؤں کا سامنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذبات، رازوں اور تقدیر کے ساتھ ایک طاقتور سفر شروع ہوتا ہے۔