Skip to content
Home » Cousin Base Novels » Page 3

Cousin Base Novels

Salsbeel complete by Nayab jellani Complete Novel

  • by

کہانی کا خلاصہ.. A۔J
سلسبیل جو بہت خوبصورت لڑکی ہے،جرمنی میں اپنے دادا دادی اور باپ کے ساتھ رہتی ہے۔دادی بیكری چلاتی ہیں اور گاؤں میں یہ لوگ جانور بھی پالتے ہیں۔س کا ایک بھائی ڈینی ہے اور دوست ڈی سوزا جس کی ماں نے اس کے باپ کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔

سلسلبیل کی ماں وفات پا گئی تھی تو دوسری شادی باپ نے کی اور سوتیلی ماں کا رویہ اس کے ساتھ بہتر نہیں جس کا باپ روبرو اور بھائی روسی اکثر ان کے گھر ملنے آتے ہیں اور ان کا آنا دادا دادی کو پسند نہیں۔

ہیرو ہشام بھی جرمنی میں ڈاکٹر ہے جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے جس کی ماں شراب نوشی کرتی ہے اور مر جاتی ہے۔

ہشام کی سوتیلی ماں پاکستان میں ہیں جو نرجس بیگم ہیں اور پیار سے انھیں جی جی کہتے ہیں جو اس سے بہت محبت کرتی ہیں اور کافی سالوں سے منتظر ہیں کہ سوتیلہ بیٹا پاکستان آجاۓ اور جائیداد اس کے حوالے کردیں وہیں وہ شافیہ کی شادی ہشام سے کرانا چاہتی ہیں۔

شافیہ نرجس یعنی جی جی کے محلے میں اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہن عرشیہ کے ساتھ رہتی ہے جن کا رویہ شافیہ کے ساتھ اچھا نہیں اور اس کی جی جی سے بہت بنتی ہے اور یہ بھی ہشام کو پسند کرتی ہے اور اس کے آنے کی منتظر ہے۔

اسی گلی میں غوثیہ اپنے بیٹے شاہ ویز کے ساتھ رہتی ہیں جو شافیہ کو پسند کرتا ہے اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں جن کے والدین نہیں ہیں۔یعنی خداداد بڑا بھائی ہے جو سب بہن بھائیوں کو والدین کی طرح کیئر کرتا ہے شایان،داؤد،سلیم اور ایک بہن سنہرے گھر کے فرد ہیں۔

سنہرے کی شافیہ سے دوستی ہے شافیہ کی ماں سمیرا چاہتی ہیں کہ عرشیہ کی شادی خدا داد سے ہوجاۓ۔

خطیب فلسطینی ہے جس کاسارا خاندان شہید ہوگیا اور اب یہ جرمنی آگیا ہے اور ہشام سے اس کی دوستی ہے وہیں کالج میں وہ سلسبیل اور ڈی سوزا سے بھی ملتا ہے۔خدا داد جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے یہ اپنی فیملی کے ساتھ جرمنی شفٹ ہوجاتا ہے جس کی دوستی ہشام اور خطیب سے ہوجاتی ہے کہ ایک ہی کالج میں پڑھ رہے تھے۔

ہشام کی سگی ماں نشے کی وجہ سے مر جاتی ہے تو وہ پاکستان جاتا ہے اور نرجس بیگم کی خواہش کو پورا کر کے شافیہ سے نکاح کرتا ہے .

سلسبیل کی سوٹیلی ماں بھی اس کے باپ سے بے وفائی کر کے بھاگ جاتی ہے اور ایک رات کے اندیهرے میں کوئی آ کر سلسبیل کے ساتھ زیادتی کرتا ہے وہ سمجھتی ہے یہ روبرو ہے جو اس کی سوتیلی ماں کا شوہر ہے۔

ہشام شافیہ کو بتا دیتا ہے کہ وہ سلسبیل کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کر کے اسے سہارہ دے گا۔

باقی کہانی میں پڑھیں کہ

سلسبیل کا مجرم کون ہے؟
کیا شافیہ ہشام کے ساتھ رہے گی؟
ہشام کا راز بھی ہے وہ کیا ہے؟

بہت زیادہ فلاسفی سے بھرپور کہانی ہے جس میں رائیٹر نے بہت منفرد انداز میں ناول لکھا ہے جسے سمجھنا کچھ مشکل ہے مگر رائیٹر کی علمی قابلیت قابل تعریف ہے۔

Mohabbat Key Anokhey Rang by Misha Mushtaq complete novel

  • by

تم خوش ہو . . . .

آپ خوش ہیں اس نے الٹا اس سے سوال کیا

خوشیاں کبھی مکمل نہیں ملتیں غم ہمیشہ آس پاس منڈ لاتے رہتے ہیں اس لیے میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں خوش ہوں کیونکہ خوش ہوناضروری نہیں ہے لیکن ہاں کہیں نہ کہیں اب زندگی میں ٹھہراؤ آگیا ہے اور میں اس ٹھہراؤ پر پرسکون ہوں ماریہ مجھےآج بھی یاد آتی ہے پہلے دن کی طرح لیکن اب میں اسے سوچ کر غمگین نہیں ہوتا میں نے زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیاہے کیونکہ ضروری نہیں جس شخص سے آپ کو محبت ہو وه آپ کو ملے بھی بعض اوقات ان کو محسوس کرنا بھی کافی ہوتا ہے مصطفی نے کہہ کر گہری سانس لی اور سن بیٹھی رمشاہ کو دیکھا

اب تم مجھے بتاؤ تم خوش ہو اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا

آپ کو اپنی محبت سے جدائی ملی تو وہ قدرتی تھی لیکن میری محبت سے جدائی میں بے وفائی تھی نارسائی کا دکھ تھا لیکن ہم دونوں میں ایک چیز جو مشترکہ تھی وہ ہے اپنے پیاروں سے جدائی آپ نے صحیح کہا کہ خوش ہونا ضروری نہیں ہے دل کا پرسکون ہونا ضروری ہے اور میں پرسکون ہوں رمشا نے بہتی آنکھوں سے مسکراتےہوۓ مصطفی دیکھاوه اسے ہی دیکھ رہا تھاپوری توجہ سے اس کے دیکھنےپر ہلکے مسکرایا اور اس کے ہاتھ تھامےاس ہاتھ تھامنے میں ایک احساس تھا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ساتھ نبهانے کا کبھی نہ چھوڑنے کا . . . . . . .

Kahani mohabbat ki by Laraib Fatima Complete novel

  • by

ابا بتا رہے تھے اس دفعہ تایا ابا کا بیٹا بھی آ رہا ہے ساتھ۔؟نا چاہتے ہوۓ بھی پری کی زبان پھسلی

ہمم۔۔آ تو رہا ہے پر تیری چچی بتا رہی تھی وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا بڑا بتمیز اور بد لہاز ہو گیا ہے۔۔۔رضوانہ کو تو جیسے بولنے کی وجہ مل گئ تھی۔۔۔۔

اچھا انہیں کیسے پتا۔۔۔؟پری کے آلوچھیلتے ہاتھ رکے اور وہ اماں کی طرف مڑی۔۔

حسن اور وہ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں نا اسی نے بتایا ہے ۔۔۔۔

بس کر اماں مافیہ چاچی کی باتوں کو تو رہنے ہی دے وہ تو ہر دفعہ رامین کے بارے میں بھی یہی کہتی تھیں لیکن وہ تو ایسی بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔پری نے ماں کی یاد دہانی کی۔۔۔

اچھا چھوڑ تو ان سب باتوں کو اور جلدی سے آلو چھیل وہ پنڈ پہنچنے ہی والے ہوں گے۔۔۔

رضوانہ کے کہنے ہر پری کے ہاتھ ایک بار پھر آلو چھیلنے میں مصروف ہو گۓ۔۔

Ghasiq by Mahira Zaynab Khann Complete novel

  • by

یہ ناول سعدین حویلی کے مکینوں کی کہانی ہے جس میں کئی کرداروں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انتقام، دھوکے، دوستی، نفرت، محبت اور ایک جن زادے کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، ناول میں مافیا کے عناصر بھی شامل ہیں اور گرے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے، جو اپنے پیچیدہ تعلقات اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہیں۔ کردار اپنے ماضی، خواہشات اور تاریک پہلوؤں کا سامنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذبات، رازوں اور تقدیر کے ساتھ ایک طاقتور سفر شروع ہوتا ہے۔

Masoom sa Ishq by Rimsha Hussain Complete novel

  • by

“کیا لڑکی کو گولیاں لگیں ہیں؟

“لیکن آواز تو ہم نے نہیں سُنی

“بنا آواز کی ہوگی نہ

“پیٹھ اور کندھے پر لگتا ہے گولیاں لگیں ہیں

“ہر کوئی اپنے انداز مطابق بول رہا تھا لیکن ایک میثم تھا جو مشک کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر تڑپ رہا تھا

“مش آن آنکھیں کھولو شاباش۔۔”میثم نیچے بیٹھتا چلاگیا۔۔”مشک کا سر اپنی گود میں رکھتا وہ پاگلوں کی طرح اُس کو ہوش میں لانے کی ناکام کوشش کرنے لگا

“بیٹا دیکھا پہلے زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔”ورنہ جلدی سے ہسپتال لے جاؤ ٹائم ضائع نہیں کرو۔۔”ایک بزرگ نے اُس کی حالت کو دیکھ کر مشورہ دیا تو میثم نے سرخ نظروں سے اُنہیں دیکھا

“بیوی ہے میری اور زندہ ہے۔۔”مشک کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے سینے میں چُھپاتا وہ سب کو غُصے سے دیکھنے لگا

“کوئی پولیس اور ایمبولینس بلاؤ یہ لڑکا تو شاید ہوش گنوا بیٹھا ہے۔۔”ایک نے کہا تو سب نے اُس کی بات سے اتفاق کیا

“مش آنکھیں کھولو میں کیا بول رہا ہوں۔۔”آپ کو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟”آپ کو شیزی بھائی کو سی آف کرنا ہے تو آئے اُٹھے اُنہیں سی آف کرنے چلتے ہیں کالج جانا ضروری نہیں۔۔”آپ کی سالگرہ ہے نہ آج؟”سرپرائز ابھی سے بتادیتا ہوں اُس کے لیے آپ کو یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں جلدی سے مسکراکر اپنی آنکھیں کھولیں ورنہ میں بُرا پیش آؤں گا آپ سے۔۔”میثم اُس کے وجود سے بہتے خون کو جیسے دیکھ تک نہیں پارہا تھا۔ “یہ جو کچھ ہوا تھا وہ غیرمتوقع تھا جس کے ساتھ ہوا وہ اُس کی لاڈلی ہستی تھی اُس کو کچھ ہوا ہے یہ بات میثم جیسے سمجھدار مرد کے لیے قبول کرنا مشکل تھا میثم کا دماغ اِس بات کو ایکسپیٹ نہیں کرپارہا تھا۔۔”کچھ وقت بعد ایمبولینس آگئ تھی اسٹریچر لایا گیا تھا لیکن میثم مشک کو خود سے دور ہونے نہیں دے رہا تھا سختی سے اُس کو خود میں بھینچے میثم اُن سب پر برس رہا تھا جس سے مجبوراً کچھ آدمیوں نے اُس کو پکڑ کر روکا تو وہ سب مشک کو اسٹریچر پر ڈالنے لگے تو میثم خود کو آزاد کراتا اُن کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھتا مسلسل مشک کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا اُس کا گِرے فراک خون میں لت پت ہوگیا تھا خوبصورت چہرہ زردی مائل ہوگیا تھا۔۔”میثم کے کپڑوں تک مشک کا خون لگ گیا تھا

“یہ سب کیا؟”کیسے؟”اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا میثم بڑبڑانے لگا

“مش۔۔”میثم کھسک کر اُس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا

Mohabbat ek Jugnoo by Nazish Munir Complete novel

  • by

“مجھے نہیں معلوم تھا تم میری موجودگی کو اتنا فراموش کرچکی ہو کہ اپنے پہلوٶں میں بیٹھا میں تمھیں دیکھاٸی نہیں دیا۔”وہ سرگوشی میں بولا تھا۔داٶد اسکا کبھی بھی تماشہ نہیں بناتا تھا۔وہ اسکی بات محض اسی سے کرتا تھا۔اب بھی حزیفہ نے گاڑی میں غزل لگا دی تھی۔انکی آواز آگٸیں بیٹھے دونوں نفوس تک نہیں پہچ سکتی تھی۔تہذیب کا دل اسکی بات پر جیسے کسی نے مٹھی میں جگڑ لیا۔وہ بوجھل انداز میں گردن پلٹتی ایک خفا نظر اسکے بےتاثر چہرے پر ڈال کر واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گٸی۔

“جب میں نے انکار کردیا ہے تو کیسا نکاح اور کیا لاٸف پلاننگ۔۔۔”وہ ناراضی سے اسے کہہ کر خاموش ہوگٸی۔

“اچھا تم اس رشتے پر رضا مند نہیں ہو۔۔۔ابھی تک یہ بات ہمارے علاوہ کوٸی نہیں جانتا۔۔۔میں اپنی ذاتیات کسی سے شیر کرنے کا عادی نہیں رہا ۔ہمارے مابین جو بات ہے اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کا کوٸی جواز نہیں بنتا۔۔۔تمھاری زندگی کا اہم فیصلہ کرنے کا تمھیں پورا حق ہے۔لیکن تمھارے جذباتی پن میں میں ہم دونوں کا نقصان نہیں ہونے دے سکتا۔”وہ مدھم لہجے میں کہہ کر کندھے اچکا کر رہ گیا۔

“واٹ؟جذباتی پن۔۔کسی زبردستی کا رشتے نبھانے سے بہتر ہے پہلے ہی اپنے دل کی چاہت کچل دی جاۓ۔بعد میں آگے جاکر جب سمجھ آٸے گی تو زیادہ نقصان ہوگا۔۔۔پھر نہ دل بےرخی برداشت کرپاٸے گا نہ رشتہ نبھایا جاۓ گا۔”وہ سختی سے کہہ کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔

“تہذیب حمزہ تم انتہائی ایٹیٹوڈ والی لڑکی ہو جسے اپنے علاوہ کسی کے جذبات کا خیال نہیں۔”وہ بےرخی سے کہہ گیا۔تہذیب کو اسکی بات پر سخت غصہ آیا۔

“مجھے میرے جذبات سمجھ آجاٸیں کافی ہیں۔باقی میرا نہیں خیال کسی کا اس میں نقصان ہورہا ہے۔”گاڑی لاہور کی مصروف سڑکوں سے ہوتی اپنی منزل کی طرف رواں تھی۔

“اچھا اور کونسا زبردستی کا رشتہ؟ ابھی تک تم سے کسی نے زبردستی نہیں کی۔۔”تہذیب اس سے پہلی مرتبہ اس موضوع پر تفصيلی گفتگو کررہی تھی۔گاڑی میں اےسی ہونے کے باوجود اسکا چہرہ پسینوں پسینی ہوگیا تھا۔داٶد نے اپنا رومال جیب سے نکال کر اسکی سمت بڑھا دیا۔تہذیب نے کوٸی نوٹس نہیں لیا۔

“جب آپکی رضا بھی اس رشتے میں شامل نہیں تو کیوں میرے نام کی زبردستی کی پھانس اپنے گلے میں پھنسا رہے ہیں؟”وہ سرخ ہوتے گرمی سے تپتے چہرے سے کہتی تھکے انداز میں لمبے سانس لینے لگی۔داٶد یونہی رومال والا ہاتھ اسکی سمت بڑھاٸے ہوۓ تھا۔وہ اسکا چہرہ پڑھ لیتا تھا۔۔۔وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی۔وہ اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا۔لیکن اس جذباتی لڑکی کے تھکتے اعضاب پر وہ اس سے مزید بحث کا ارادہ ملتوی کرتا سختی سے رومال اسے تھماتا کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔تہذیب کے لیے اسکے بدلتے موڈ سوٸنگز سمجھنا مشکل ہوتا جارہا تھا۔وہ چہرہ تھپتھا کر اسے رومال لوٹانا چاہ رہی تھی۔لیکن اپنے اندر انکی سرد گفتگو کے اختتام پر وہ اسے پکارنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔

Youn mil gay raaste by Humail Kazmi Complete novel

  • by

ہم جب اللہ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہیں تو سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ہونے ہمارے لیے فرحت و انبساط کا باعث ہوتا ہے ۔ان کے ساتھ گزرے لمحے زندگی کے صفوں پر ہمیشہ کے لیے سنہری لفظوں میں درج ہوتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک جینے کی وجہ ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ آپ کو زندگی کے اندھیروں سے روشنی کے نور کی طرف لاتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر محض لفظوں سے ادا کرنا ممکن نہیں۔

Jory asmano pe banaty hain by Laiba Yousaf Complete novel

  • by

۔”تمہیں منع کیا تھا یہاں مت آنا ۔”دانیال نے کہا تو منہال کو لگا ہاں وہ صحح کا اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔

۔”میری ۔۔ میری تصاویر وہ. ہٹا دو ۔”وہ اٹھتے ہوئے بولی ساتھ ہی نقاب بھی درست کر چکی تھی مگر اسے یہ بے معنی لگا وہ شخص جب چاہے اسے دیکھ سکتا تھا پھر وہ کیسے اس سے پردہ کرتی ۔

وہ یہی تو نہیں چاہتی تھی ۔ کسی غیر محرم کے خیالات کا مرکز بننا ۔

۔”کمرے سے تو ہٹا دوں گا دل پر سے کیسے ہٹاؤں ۔”وہ پوچھ رہا تھا بےبسی اس کی آواز سے عیا تھی مگر وہ کیا جواب دیتی ۔

۔”یہ غلط ہے تمہیں کوئی حق نہیں ہے ۔”منہال نے کوشش کی وہ روئے نہیں مگر آنسو کب ہماری سنتے ہیں ۔

۔”میں یہ گھر بیچ دوں گا ۔”دانیال نے جیسے حل نکالا ۔

۔”تم شادی کر لو ۔”منہال نے ایک اور حل پیش کیا ۔

۔” میں کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتا ۔”وہ زینے اترتے بولا ۔

۔”جب تمہاری زندگی میں کوئی آئے گی تو تم بھول جاؤ گے سب ۔ میں بھی تو بھول گئی سب ۔”وہ اب اسے حجت دے رہی تھی ۔

۔”تم نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی تھی ۔”بولتے پھیکا سا مسکرا دیا ۔

۔” ہاں مگر تمہاری بیوی کرے گی ۔ تم کوشش تو کرو ۔”

“تو کیا کسی سے بھی شادی کر لو ۔”

“نہیں تم بتاؤ تمہیں کیسی لرکی چاہیے میں ڈھونڈوں گی نہ ۔”منہال جلدی سے بولی تبھی دانیال کے قدم رکے وہ پلٹا تھا منہال کی تمام تر توجہ اس پر تھی ۔

۔”منہال دانیال اسفندیار ۔”وہ بولا تو منہال کو پہلی دفہ رات کی گہری خاموشی سنائی دی تھی ۔ وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر تھا ۔

اس کی وہ سرخ آنکھیں ۔ پیشانی پر بکھرے بال ۔نم پلکوں کا خم اس پر سیاہ پیوپل کے گرد سرخی منہال نے نظریں چرائی ۔وہ آنکھیں کسی پر بھی سحر کر سکتی تھی ۔

۔”مگر شیطان گمراہ کر سکتا ہے ۔” حسن کے الفاظ سماعت سے ٹکرائے تو منہال کے منہ سے “توبہ”کا لفظ پھوٹا ۔

دانیال مسکرا دیا ۔

۔”تمہاری یہی بات تو متوجہ کرتی ہے مجھے جتنا میں نے تمہارے پیچھے خود کو زلیل کیا ہے اگر کسی اور کے پیچھے جاتا وہ نہ صرف مجھے سوچتی بلکے اب تک میری ہو چکی تھی ۔

۔”ہم پہلے جیسے رہ سکتے ہیں ایک دوسرے کو تنگ کرنے والے کزنز ۔ کرائم ہاٹنرز ۔ “منہال نے اک آس سے کہا مگر وہ خاموش ہو گیا وہ آخری زینے پر رکا ۔

۔”ہم دوست بن سکتے ہیں”منہال نے ایک اور آپشن دیا ۔

۔”اب تمہارا دوست ناراض نہیں ہوگا کیا ۔”دانیال نے پرانی بات کا حوالا دیا۔

۔”نہیں میرے جزبات بدل چکے ہے ۔ ویسے بھی ہماری تربیت ایسی نہیں ہوئی ہمارے ہاں لرکا لرکی میں شوہر اور بیوی کے علاوہ صرف ایک رشتہ ہوتا ہے ۔ اور میرے جزبات اس سے بہت الگ ہے ۔”وہ بولا تو منہال نے اس کی پشت کو دیکھا ۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔