Skip to content
Home » Cousin Base Novels » Page 4

Cousin Base Novels

Allah ke waste by Umaima Shafeeq Qureshi Complete novel edited Season 1

  • by

“ملک سے باہر جا رہے ہو؟”اس کے قریب آتے

چند انچ کا فاصلہ رکھے وہ مسکرائی تھی۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھتے شایان کو اب سانس بھی مشکل ہی آئی تھی۔

“ہاں!لیکن تم یہاں۔۔۔!”

“ہاں میں یہاں۔۔۔!”مزید قریب ہوتے اپنی انگلی

اس کے دل کے مقام پر رکھے عنادل آج اسے

چاروں خانے چت کر گئی تھی۔

“کون سے ملک جا رہے ہو؟”دو قدم دور ہوتے ہاتھ باندھے عنادل نے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ

بکھیرے خوشدلی سے پوچھا تھا،جبکہ آنکھوں میں ہنوز شرارت تھی۔

“لندن۔۔۔!”شایان کے چہرے کا رنگ بالکل فق تھا۔

“کب کی فلائٹ ہے؟”آنکھوں کو معصومیت سے

گھماۓ ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔

“آج رات کی۔۔۔!”عنادل یہاں کیوں آئی تھی اور

ان سب سوالات کا مقصد۔۔۔؟

“ہممم۔۔۔!”عنادل نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“لیکن تم۔۔۔!”

“چٹاخ۔۔۔!”

معمول کے طابق آج شایان کو پھر اپنی متاع جان کا محبت بھرا تمانچہ پڑا تھا۔وہ بیچارا ابھی شاک کی کیفیت میں ہی تھا کہ

عنادل نے ایکدم ہی غصے سے آگے بڑھ اس کا

گریبان پکڑا تھا۔

“کیوں۔۔۔؟وہاں تمہاری بیوی رہتی ہے یا بچے۔۔۔؟جن کے پاس جانے کے لیے تم اتنے بےتاب ہو

رہے ہو۔۔۔؟”

“عنادل میں۔۔۔!”

“کیا میں۔۔۔ہاں کیا میں۔۔۔جب تمہاری

بیوی پاکستان

میں ہے تو تم لندن کیا کرنے جا رہے ہو؟بولو۔۔۔!”وہ رو دی تھی۔

“دل۔۔۔!”شایان نے اس کی آنکھ سے گرتے موتیوں

کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چنا تھا۔

“پلیز مت رو۔۔۔!”اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں

کے پیالے میں بھرتے شایان نے التجا کی تھی۔

“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے،تم تو جا رہے ہو نا مجھے

چھوڑ کر۔۔۔!”اس کی گہری آنکھوں میں دیکھے اس نے معصومیت سے شکوہ کیا تھا۔

“تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ چلے جاو۔”

“میں نے کہا اور تم نے مان لیا۔”اسے پیچھے کی

طرف دھکیلتے وہ اب شکوے پر شکوہ کر

رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ہائے مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ میرے پاس تو الفاظ ہی نہیں ہیں۔”عنایہ

نے آکسائیڈ ہوتے ہوۓ کہا تھا۔وہ دونوں

اس وقت کافی پینے کیفٹیریا آئے تھے۔

“مجھے بھی۔۔۔!”ارمان بھی مسکرایا تھا۔

“اب اگلا نمبر ہمارا ہے۔”ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے عنایہ نے ارمان پر محبت بھری نگاہ ڈالی تھی۔

“ہائے۔۔۔!”وہ بھی آکسائیڈ ہوا تھا۔شایان اور

عنادل کی شادی سے وہ دونوں ہی بہت

خوش تھے۔

“مجھے تو بہت حیرت ہو رہی ہے کہ میری بہن

کی شادی آپ کے دوست سے ہو رہی ہے۔”

“مجھے بھی۔۔۔!”وہ دونوں ہی ہر چیز سے بے خبر

تھے۔

“ویسے رشتہ کب بھیجوں۔۔۔؟”عنایہ کے بغیر

رہنا اب اس کے لیے بہت مشکل ہو چکا تھا۔

“ابھی ان دونوں کی شادی تو ہونے دیں،اور ویسے

بھی میری کچھ شرائط ہیں۔”

“کیسی شرائط۔۔۔؟”اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔

“میں آپ سے اسی شرط پر شادی کروں گی

جب آپ مجھے ساری اسائمنٹس بنا کر دیں

گے اور مجھے ہمیشہ ہر ٹیسٹ اور پیپر میں فل

مارکس دیں گے۔”

“What…?”

وہ تقریبا چیخ اٹھا تھا۔

“آپ اپنے پروفیسر سے اسائمنٹس بنوائیں گئی؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔

“اگر ان محترم پروفیسر صاحب کو مجھ سے

شادی کرنی ہے تو یہ تو کرنا ہی پڑے گا۔”معصومیت سے آنکھیں مٹکاۓ وہ ارمان کو بہت بڑا جھٹکا دے گئی تھی۔

“یہ زیادتی ہے۔”ارمان نے دبا دبا سا احتجاج کیا تھا۔

“جو بھی ہے۔۔۔!”عنایہ نے لاپروائی سے شانے اچکائے تھے جس پر ارمان نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تم نے میرے لیے کوئی ویڈنگ گفٹ تو نہیں لیا نا۔۔۔؟” شہادت کی انگلی کو اپنے دانتوں تلے

دبائے وہ اضطراب سے گویا ہوئی تھی۔

“اگر تم نے ابھی تک نہیں لیا نا تو مت لینا۔۔۔!”

“کیوں۔۔۔؟”ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔

“گفٹ مجھے اپنی مرضی کا چاہئے۔”وہ ایکدم

ہی ریلیکس ہوا تھا۔

“وہ تو تم لے لینا مگر ویڈنگ گفٹ تو

میں اپنی مرضی سے دوں گا۔”

“نہیں!میرا مطلب ہے کہ میں نے

ہمیشہ سے یہ

سوچا ہوا تھا کہ جب بھی میری شادی ہو گی

تو میں شادی کی پہلی رات اپنے شوہر سے یہی

تحفہ مانگوں گی۔”وہ اب بھی مضطرب تھی۔

“اچھا!تو کیا چاہیے میری جان کو۔۔۔؟”

“جو مانگوں گی دو گے؟”ایک لمحے میں شایان کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔وہ کہنا چاہتا تھا کہ

آخر میرے پاس ہے ہی کیا؟

“ہممم۔۔۔۔!”مگر وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔

“کیا تم کل رات شادی کے تحفے کے طور پر مجھے

سورت محمد سنا سکتے ہو،میرا مطلب ہے میری ہمیشہ

سے یہی خواہش تھی کہ میرا شوہر جو بھی

ہو میں اس سے یہی فرمائش کروں گی کہ وہ

مجھے ایک سورت حفظ کر کے سنائے۔میں جانتی

ہو یہ بہت مشکل ہے مجھے تمہیں پہلے بتانا

چاہیے تھا مگر تم فکر مت کرو تم جتنی آیات

باآسانی یاد کر سکو کر لینا نہیں تو دیکھ کر پڑھ دینا۔”عنادل کی اس لمبی تمہید پر وہ مسکرا

دیا تھا۔وہ خاص تھی بہت خاص تو اس کی

فرمائش کیسے عام ہو سکتی تھی؟

Talb e sukoon by Kashaf Qaisar Complete novel

  • by

ہر طرف ارمان ،ارمان ،ارمان کا شور تھا ۔۔۔۔۔..

دونوں اطراف میں لڑکے لڑکیوں کے ہجوم تھے اور انکے درمیان ۔۔ ارمان ملک اپنی روبدار پرسنلٹی لیے ۔۔بلیک جیکٹ بلیک جینز ۔۔اور بلیک ہی جاگرز پہنے ۔۔اپنی ہیوی بائک پر ۔۔۔گلوز اور سیفٹی ہیلمٹ پہنے اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے بھی سب لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔

ریس تھی ۔۔5 بائک رائیڈرز تھے جنکی ریس تھی ۔۔۔

اور ارمان ارحم ملک کبھی کسی سے ہارا نہیں تھا ۔۔اور ان لڑکوں نے اسے چیلنج کیا تھا ۔۔

اور ارمان لووز چیلنجز ۔۔۔۔۔۔۔۔

1،2،3 سٹارٹ ۔۔۔۔

ہرا جھنڈا لہرایا گیا جس پر ریس سٹارٹ ہوئی ۔۔۔

مگر یہ کیا سب آگے نکل گئے تھے اور ارمان وہیں پر رکا ہوا تھا ۔۔۔

سب پریشانی کے عالم میں ارمان کو دیکھ رہے تھے آخر کر کیا رہا تھا ۔۔۔تقریبن 1 کلو میٹر جب سب نکل گئے تو ارمان نے ریس لگائی ۔۔بائک آن کرتے فراٹے بھرتے بائک ہواؤں سے باتیں کرتی انکے مقابل آن پہنچی تھی ۔۔۔

Dar e mohabbat se humkinar nahi by Aina Noor Complete novel

  • by

آپ دونوں ہر جگہ بن بلائے مہمان بن جایا کرو”۔

” اوہ موٹی تم چپ کرو تم سے کوئی بات کر رہا۔ایویں ہر معاملے میں ٹانگ نہ گھسایا کرو۔ بابا ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے ” شاہ ویز بولا۔

“آپ کی ہمت بھی کیسی ہوئی مجھے موٹی کہنے کی، ایس پی کی بیٹی ہوں میں”۔

“اور میں کہاں سے موٹی لگتی ہوں اتنی پتلی تو ہوں میں” عاشی نے غصے سے کہا غصے سے عاشی کی چھوٹی سی ناک پھول گئی تھی۔

“میں بھی انہی کا بیٹا ہوں” شاہ ویز نے اس کی پھولی ناک دباتے ہوئےکہا۔

“اور تم پہلے موٹی ہی ہوتی تھی اب ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہوئی ہو ، تو خود کو زیادہ اوور سمارٹ نہ سمجھو اور اپنا یہ چھوٹا دماغ کم استعمال کیا کرو”۔

عاشی نے غصے سے شاہ ویز کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے وہ اس کی ناک دبا رہا تھا۔

“میں تو پھر ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہو گئی ہوں۔ آپ بھی کچھ کھا پی کر اپنی صحت بناؤ۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے تو مجھے ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی اس ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے، سڑا ہوا مینڈک نہ ہو تو” عاشی نے اس کی صحت پر چوٹ کی۔

“شاہ ویز اب تو تمہیں جم جوائن کر ہی لینی چاہئے” بالاج ہنستے ہوئے بولا۔

شاہ ویز نے بالاج کو غصے سے گھورا جس کا بالاج پر کوئی اثر نہ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Nikkah ki taqat by Hoorain Sikander Complete novel

  • by

” تمہیں ایک بات کتنی بار سمجھانی پڑے گی”

” کیا ہوا “

اس کے اچانک گویا ہونے پر وہ ڈر گئی اور پھر ہلکلاتے لہجے میں اس کی بات کی وجہ پوچھی

” کیا مطلب کیا ہوا تمہیں میں کتنی دفعہ سمجھا چکا ہوں کہ مجھے چھوٹا کان کہہ کے مت بلایا کرو اس کی اجازت تمہیں نہیں ہے میری ایک دفعہ کہی گئی بات کیوں سمجھ نہیں اتی “

وہ اس کی ناسمجھی پر غصے کی حالت میں اسے باور کروانے لگا

” وہ وہ داجی کے کہنے پر غلطی سے زبان سے ادا ہو گیا”

اسے کچھ دیر پہلے والی بات یاد اگئی تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ باسط خان سے بہت ڈرتی تھی ایک وہی تو تھا جس سے وہ ڈرتی تھی

“ائندہ سے یہ لفظ تو غلطی سے بھی تمہاری زبان سے ادا نہ ہوں تمہیں مجھے چھوٹے خان کہنے کی اجازت نہیں ہے”

وہ صرف وارننگ دیتے انداز میں کہتے پھر سے سامنے کی طرف متوجہ ہوا

“ویسے ایک بات پوچھوں “

وہ ڈرتے ڈرتے گویا بھی اس نے محض ہنکارہ بھرا نظریں ہنود سامنے تھیں

” اپ کو میرے چھوٹے کا کہنے سے مسئلہ کیا ہے “

درحقیقت وہ بھی تنگ ا گئی تھی کہ اسے ہمیشہ سے اسی بات پہ ڈانٹا تھا کہ عریج اسے غلطی سے بھی چھوٹا خان نہ بلائے اج بھی بڑی ہمت کر کے یہ سوال کیا تھا

” کیونکہ یہ نام میرے لیے بہت قیمتی ہے چونکہ یہ مجھے دادی کی جانب سے دیا گیا ہے اور مجھے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ میری قیمتی چیزیں تم استعمال کرو اور تم مجھے میرے اس قیمتی نام سے مخاطب نہیں کر سکتی”

٭٭٭٭

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

اس جگہ آ گئے چاہتیں اب میری

چھین لوں گا تمہیں ساری دنیا سے ہی

تیرے عشق پہ ہاں حق میرا ہی تو ہے

اففف اس کے یہ الفاظ ایک بار پھر عریج خان کا دل دھڑکا گئے تھے وہ ہمیشہ اپنی خانم کو ایک نئے طریقے سے اپنا آسیر کر لیتا تھا۔

کہہ دیا ہے یہ میں نے میرے رب سے بھی

جس راستے تو نہ ملے

اس پہ نہ ہو میرے قدم

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Mere angan mein utra chand by Ayesha Falak Sher Complete novel

  • by

” کیا ہو گیا آہان تُمہارے مُنہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں”۔

میرے پُوچھنے پر آہان مُجھے اِگنور کرتا ہوا بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا تو زوہان نے ہنستے ہوۓ بتانا شُروع کیا۔

“ہک ہا اب یہ بیچارہ کیا بتاۓ گا کے تُمہارے جانے کے بعد اس کا رزلٹ چاچو نے دیکھ لیا تھا اور پھر اِس کے ساتھ وہ ہوا۔۔۔وہ ہوا جو ہم نے ابھینندن کیساتھ بھی نہ کیا تھا”۔

یہ بتاتے ہوۓ زوہان کے چہرے پر ہنسی تھی جسے وہ بڑی مُشکل سے کنٹرول کر رہا تھا۔

اب میری سمجھ میں آیا تھا کے آہان کو چاچو سے مار پڑی تھی جسے زوہان انجواۓ کر رہا تھا۔

“اور ہنسو کُھل کر ہنسو نہ بے شرم اِنسان یہ لڑکیوں کی طرح پھنس پھنس کر کیوں ہنس رہے ہو”۔

زوہان کو ہنستے دیکھ کر آہان نے غُصے سے کہا تھا جس پر زوہان کی ہنسی چھوٹ گئ تھی جبکے ہم سب بھی دبا دبا سا ہنس دے تھے۔

پھر زوہان گلا کھنگارتا ہوا آگے ہوا اور بولنا شُروع کیا۔

“بھائیوں اور اُن کی بہنوں اس سیچیوشن کو دیکھتے ہوۓ میرے دماغ میں ایک شعر آرہا ہے جسے میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا”۔

“اِرشاد اِرشاد” ہادیہ اور ارمان نے ایک ساتھ اُونچی آواز میں کہا جبکہ آہان نے آہان نے ناک پُھلا کر اور آنکھیں چھوٹی کرکے زوہان کو دیکھا تھا گویا تنبہیہ کیا تھا کے باز آجاؤ مگر زوہان نے اُسے نظرانداز کرتے ہوۓ بولنا شُروع کیا۔

*تُند باد مُخالف سے نہ گھبرا اۓ عُقاب

یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لیے*

Muhafiz by Mariam Fayyaz Complete novel

  • by

۔ داد؟ معصومہ نے حداد کو پکارا۔ جی جان حداد !! اعداد محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا۔ میں اپ کو بہت تنگ اور بے سکون کرتی ہوں نا۔ معصومہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی حداد نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر مسکرا کر بولا۔ بالکل بھی نہیں آپ کو ایک بات بتاؤں؟؟ جی !! معصومہ بولی۔ میرے لیے سکون کا مطلب آپ کا وہ تھوڑا سا وقت ہے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے۔ حداد اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تو معصومہ کا چہرہ کھل اٹھا اس نے جلدی سے اپنی دونوں باہیں حداد کے گرد پھیلائیں۔ مجھے اپ سے ڈھیر ساری محبت ہے کیا اپ کو بھی ہے مجھ سے محبت؟؟ دل میں نہ جانے کیا ایا کہ وہ پوچھ بیٹھی۔ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم مجھے نہ ملی ہوتی تو یہ راز مجھ پر راز ہی رہ جاتا کہ محبت کیسی ہوتی ہے۔ حداد صاف گوئی سے بولا تو معصومہ حیرت سے کچھ دیر ساکت نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی کیا وہ اسے اتنا چاہتا تھا۔ جانتی ہو تم کیا ہو میرے لیے؟؟ کچھ دیر خاموشی کی نظر ہوئے اور پھر حداد بولا۔ کیا ؟؟ معصومہ نے پوچھا۔ تم میرا قیمتی اثاثہ ہو!! حداد بھی اسے اپنی ایک بازو کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔

Maharib by Kanwal Hanif Complete novel

  • by

ہر کوئی محارب ہے۔ کوئی محبت کے لیے لڑرہا تو کوئی اپنے حق کے لیے تگ و دو کررہا ہے۔ اور کوئی خود سے جنگ کر رہا ہے ۔ کوئی اپنے آپ کو ہرانا چاہتا ہے ۔ زندگی کسی کے لیے بھی پھولوں کی سیج نہیں ہو سکتی ۔ زندگی ایسی ہی ہے ۔ ہم جنگوں کے دوران بہت کچھ کھو دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم خود کو کھو دیں تو سمجھ لیں ہم نے سب کچھ کھو دیا ہے ۔ کیونکہ جنگ عزت کی ہو یا محبت کی کو اس میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ آپ ہیں۔ زندگی میں چاہے بہت کچھ کھو جائے ۔ لیکن سب کچھ نہیں کھونا چاہیے ۔اور وہ سب کچھ آپ ہیں۔ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ زخمی ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ لیکن ان زخموں کو بھرنے نہ دینا صریحاً غلط ہے ۔ ہر جنگ کے دوران خیال رکھیں کہ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ اس ناول کا ہر کردار محارب ہے ۔ ہر کوئی جنگ میں ہے۔ کوئی خود سے تو کوئی کسی اور سے ۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کون اس جنگ کے دوران بہت کچھ ہارتا ہے اور کون سب کچھ ہی ہار دیتا ہے۔ دنیا کی سب سے مشکل جنگ وہ جو انسان خود سے لڑتا ہے ۔ اندرونی جنگ بیرونی زنگ کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

Teri Aarzo ki chah mein by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

”کیا مانگی گئی ہر دعا قبول ہو جاتی ہے کیا دعا میں مانگی گئی محبت مل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کسی بچے کی طرح اس سے سوال کر رہا تھا۔

آج سعد زید اُس لڑکی سے سوال کا جواب مانگ رہا تھا۔

جسے وہ کبھی اِمچیور کہا کرتا تھا۔

عفیرہ سعد کی بات کا مفہوم سمجھ کر مسکرا دی۔

”مانگی گئی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سچے دل سے مانگی جائے تو دعا لازم قبول ہوتی ہے۔ بس کبھی نا امید نہ ہونا اور اگر دعا قبول نہ ہو تو سمجھ جانا اس دعا کا صلہ اللہ قیامت کے روز آپ کو دے گا اور ضرور دے گا۔

اللہ تعالی کبھی اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ لیکن ایک بار اس سے دعا مانگ کر تو دیکھو اللہ اور بندے کے درمیان سب سے مضبوط کنکشن ہی دعا ہے۔ دعا نصیب بھی بدل دیتی۔

جب اللہ تعالی نے سورةالعمران میں فرمایا دیا کہ دعا پہاڑوں کو بھی ان کی جگہ سے سرکار سکتی ہے تو قبولیت کا شک تو بنتا ہے ہی نہیں ہے۔

جہاں تک بات محبت کی تو محبت سے صدق مانگتی ہے اور اگر محبت میں صدق نہ ہو تو وہ محبت نہیں

اُنسیت ہوتی ہے محبت اگر صدق کے ساتھ دعاؤں میں مانگی جائے تو محبت ضرور ملتی ہے دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر سعد سے کہا۔

”تو کیا میری دعا قبول ہو جائے گی؟ کیا تم مجھے میرے گزشتہ رویے پر معاف کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے ایک امید کے ساتھ عفیرہ سے پوچھا۔

”میں کبھی آپ سے ناراض نہیں تھی بس اپنے کم عقلی پر شرمندہ تھی۔ اور جہاں تک بات معافی کی تو میں کون ہوتی ہوں آپ کو معاف کرنے والی معاف کرنے والی ذات تو اللہ کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

”تو کیا تم ناراض نہیں ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے بغور عفیرہ کو دیکھتے پوچھا۔

”نہیں! کیونکہ مجھے یقین آگیا ہے“ عفیرہ نے سعد سے کہا۔

”کس بات پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے کچھ نہ سمجھی سے عفیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اس میں ہماری ہی بہتری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

”اچھا!۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آئی تھی۔

”ہاں نا! اب دیکھیں پہلے میں تھوڑی ڈر پوک تھی بات بات پہ رونے لگ جاتی تھی لیکن اب نہیں ڈرتی میں کسی سے کوئی کچھ کہہ کر جائے گا کدھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

” اور تھینک یو سعد۔۔۔۔۔۔۔۔“

”کس بات کے لیے۔۔۔۔۔“ابھی عفیرہ کچھ بولتی کے سعد اس کی بات کاٹتے ہوئے کہتا ہے۔

”یہ بتانے کے لیے ہم لڑکیاں بھی خود کچھ کر سکتی

ہیں۔ یہ بتانے کے لیے دنیا مطلبی ہے یہاں کوئی کسی کے آنسو نہیں دیکھتا۔

بلکہ مذاق اڑاتے ہیں تھینک یو عفیرہ عبید کو بدلنے کے لیے اگر آپ آج سے چھ سال پہلے مجھے وہ سب نہ کہتے تو آج میں باہمت نہ ہوتی“ عفیرہ نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔