Skip to content
Home » Cousin Base Novels » Page 5

Cousin Base Novels

Dil o deewan by Eman Fatima Complete novel

  • by

یہ سٹوری ہے اپنے راشتوں کی کے انسان کو ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرنا چائیے جیسا بھی بنایا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مسلی ہات ہوتی ہے جاہا اپ کے کوئی خلاف ہوتا وہاں کوئی نہ کوئی اپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ضروری نہیں ہم جیسا جاہتے ویسا ہی ہو بس صبر کریں اس سے اچھا ملتا ہے اپ کو لوگوں سے زیادہ اللہ سے امید رکھیں انشاء اللہ کبھی مایوس نہیں کرے گا

Junoon e mehram (S3 of ishq e mehram)By umm-e-omama Complete Novel

  • by

“سترہ سال چھوٹی ہے وہ تم سے”

“مجھے پروا نہیں ہے”

“زریام کبھی نہیں مانے گا”

“مجھے انکی اجازت نہیں چاہیے”

“حورم بھی نہیں مانے گی”

اسٹڈی روم میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی

”حورم مان جائے گی نہ مانی تو یہ اسکی اپنی غلطی ہے”

اسنے ضدی انداز میں کہا

“آپ جانتی ہیں نہ مام ڈیڈ ہمیشہ کہتے تھے کہ ارتضیٰ اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہے وہ غلط نہیں کہتے تھے میں واقعی میں اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہوں پھر چاہے وہ کوئی بےجان چیز ہو یا جاندار”

“حورم کوئی چیز نہیں ہے ارتضیٰ”

“بلکل وہ کوئی چیز نہیں ہے وہ ایک انسان ہے جس کے احساسات ہیں جذبات ہیں لیکن میں کیا کروں اسے چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے”

“وہ لڑکی میری سانسوں میں بستی ہے وہ میری سانسوں کی ڈور ہے اور اگر حورم شاہ ارتضیٰ آفندی سے دور ہوئی تو یہ ڈور ٹوٹ جائے گی”

اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے چلا گیا جبکہ وہ بھیگی آنکھیں لیے وہیں بیٹھی رہی

اسنے اور احسان نے ارتضیٰ کو ہمیشہ لاڈوں میں پالا تھا وہ ضدی بچپن سے تھا اگر کسی خواہش کا اظہار کردیتا تو اسے پوری کرکے دم لیتا تھا اسکی ضد پر ان دونوں نے کبھی کچھ نہیں کہا تھا

لیکن اگر حفضہ کو اندازہ ہوتا کہ اسکی یہ ضد آگے جاکر یہ روپ اختیار کرنے والی ہے تو وہ کبھی بھی اسکی بےجا ضد پوری نہیں کرتی

یہ کیسی محبت تھی جس میں وہ اپنی محبت کی خوشی ہی نہیں دیکھ رہا

یہ بات وہ اسے سمجھا نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ خود جانتی تھی کہ ارتضیٰ کے لیے حورم محبت نہیں تھی

اسکا عشق اسکا جنون تھی محبت ہوتی تو وہ شاید چھوڑ دیتا

لیکن وہ محبت نہیں تھی وہ اسکا پاگل پن تھی جسے وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا تھا

Marze isqa by Hira Nisar Complete novel

  • by

انمول مجھے تم سے بات کرنی ہے ارمان ملک مجھے تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کرنی تم اپنی بیوی کی عیادت کرو ویسے بھی اسے تمہاری ضرورت ہے جاؤ اس کے بعد اب تو خیر سے خوشخبری انمول تم میری بات سنو گی میں نہیں سونے والی انمول تم میری بیوی ہو اپ پاگل ہے میں اپ کی بیوی کیسے ہو سکتی ہوں میں اپ کی بیوی نہیں ہوں لوگ اسے بولی تھی تم میری بیوی ہو جیسے اس نے نکانی نامہ دکھایا تھا ٹھیک ہے اپ مجھے بھی ڈوز دیں ابھی اس کے منہ میں یہ بات ہی کہ رحمان کا ہاتھ اٹھا تھا اج دوسری دفعہ زندگی میں تم پاگل ہو میں تمہیں ڈوز نہیں کروں گا اپ مجھے بلا لوں گی ٹھیک ہے تم لوگ یہ بات بولنے کے ساتھ کمرے سے باہر انے لگا تھا جب اس کو دماغ میں کچھ لکھا ہوا تھا اس نے انمول کے بازو پکڑی اور اس کو جکڑ کے باہر لایا تھا جبکہ انور مسلسل اپنا باز چھڑوا رہے تھے ارمان نے کیا کرے چھوڑو انمول کہاں تھا اب اگر کوئی میرے یا انمول کے بیچ ایا تو قسم سے جو میں کرنے والا ہوں نا اس کے بعد اپ سب لوگ سوچتے رہیں گے چلو میرے ساتھ اس کو اپنے کمرے میں لے کر جا چکا تھا انڈے جانے کے ساتھ بالکل اپ کر چکا تھا تو اس سے بڑھا کر ویڈیو دکھا رہا تھا ان کا کہ یہ دیکھو دیکھو تم لیکن ارمان ملک تمہاری بیوی ون سیکنڈ ون سیکنڈ تم نے میرے ساتھ دوسری شادی کی ہے ہادیہ بھی تمہاری کام ہے اور یہیں سے اس کی غلت بہن بڑی تھی

Safar zindagi ka by Amna Tariq complete novel

  • by

“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟”۔

بڑی مشکل سے ٹائپ کیا تھا

چند ثانیے بعد اس کی کال آگئی۔

“ہاں تو کیا پوچھ رہی تھی تم؟”۔

وہ خاموش رہی۔

“تو تم پوچھ رہی تھی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کہ نہیں؟”۔

“جی”۔

“آفکورس محبت کرتا ہوں تم سے”۔

“آپ شادی بھی مجھ سے کریں گے؟”

چند سیکینڈ خاموشی رہی پھر اس کا قہقہہ ابھرا

“حیات یہ کیسا سوال ہے؟”۔

“آپ بس جواب دیں”۔

“تم سے پیار کرتا ہوں تو شادی بھی تمہی سے کروں گا حیات”۔

دل کا اک گوشہ پرسکون سا ہوا

“مامی مان جائیں گی؟”۔ ڈر بجا تھا

“تم ٹینشن مت لو۔ امی کو میں منالوں گا۔۔ تم مجھ پر بھروسہ رکھو آئی پرامس شادی میں تمہی سے کروں گا”۔

اس کا دل مطمئن ہوا۔

امید تھی وہ اپنا پرامس پورا کرے گا ۔۔۔

پر کیا انسانوں سے امید لگانی چاہئے؟؟

کیا انسان ہمیشہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں؟؟

کیا انسان بھروسہ کرنے کے قابل ہیں؟؟

Rab ka faisla N۔D Khan Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو صبر کا پیکر تھی ۔اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگنے والی اپنے حقیقی ماں باپ کی جستجو میں اپنی زندگی میں بہت سے دکھ دیکھنے والی،لیکن ہر حال میں اللہ کی رضا میں خوش رہنے والی۔

یہ کہانی ہے ایک بزنس ٹائیکون کی جو ایک معمولی سے استانی پر دل ہار بیٹھا اس کی انکھوں اورمعصومیت سے پیار کرنے لگا.

یہ کہانی ہے خونی رشتوں سے پیار اور عزت کی.

یہ کہانی ہے دوستوں کی کھٹی میٹھی باتوں کی ۔.

یہ کہانی ہےاپنے رب سے مضبوط تعلق جوڑنے کی یہ کہانی ہے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ایک کرنے کی۔

Rah e wafa mushkil sahi by Sumera Sarfaraz Complete

  • by

“عامر فاروقی کون ہے ہنیہ؟”
ہنیہ کو زور دار برقی لہر چھو گئی۔ زبان گنگ ہوگئی اور آنکھیں پھٹ گئیں۔ وہ غائب دماغی سے سجاد کو دیکھنے لگی۔ منعم بھی حیران تھی کہ سجاد کو کیسے پتا چلا۔
“بولو ہنیہ؟ کون ہے یہ آدمی؟ تم جانتی ہو اسے ؟”
سجاد غصہ دبا رہا تھا۔
“بھائی وہ۔۔میرا نیٹ فرینڈ۔ ”
وہ منمنائی.
“وہی نیٹ فرینڈ جس سے رشتہ بھیجنے کی فرمائش کرکے تم کل اس سے ملنے جارہی ہو؟”
افف کس قدر تذلیل محسوس ہوئی تھی ان جملوں سے۔۔یہ محبت اسے رسوا کررہی تھی۔ منعم منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“ہنیہ کیا یہ سچ ہے؟”
“نہیں بھائی ملنے نہیں بس دیکھنے۔۔ پھر وہ رشتہ بھیج دے گا۔”
وہ حد سے زیادہ بیوقوف تھی۔
“ہنیہ میرے بچے۔۔۔ کوئی رشتہ نہیں بھیجے گا۔۔ فلرٹ ہے وہ ایک نمبر کا۔۔ پتا نہیں کتنی ہی لڑکیوں کو ملنے بلا چکا ہے۔ اسے بھی بیوقوف ہی بنایا ہے اس نے۔۔ نیٹ پر سب جھوٹ ہوتا ہے ایسے یقین نہیں کرلیتے اور تمہیں شادی کی کیوں پڑ گئی؟ عمر نکل گئی یا ہم مر گئے؟”
سجاد معاملے کو نزاکت سے سنبھال رہا تھا۔ وہ خاندانی لوگ تھے۔ غصے سے وہ باغی ہوسکتی تھی۔
“تمہیں یہ سب کیسے پتا؟”
منعم نے تھوک نگلا۔
“علی بھائی ہیں نا پیچھے جو دو گلی چھوڑ کر رہتے ہیں۔ وہی ہمارے علاقے میں کیبل نیٹ پرووائیڈر ہیں۔ علاقے کے سارے کمپیوٹرز کا ایکسیس ہے انکے پاس۔۔ یہ پچھلے ڈیڑھ سال سے اس لڑکے سے رابطے میں ہے۔ جب تک سب نارمل تھا تب تک انہوں نے بھی نوٹس نہیں لیا مگر اب جب یہ رشتہ شادی اور ملنے ملانے جیسی خرافات میں پڑ گئی تو انہوں نے مجھے کال کیا۔۔مینو تم سوچ سکتی ہو کیسی ذلت محسوس ہوئی ہوگی مجھے۔”
سجاد کا لہجہ ڈوب گیا تھا۔ ہنیہ اپنی دھجیاں اڑتی ہوئی دیکھ رہی تھی۔ وہ برف ہوگئی تھی۔
منعم نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی ہنیہ ٹوٹ رہی ہے۔
“علی بھائی نے اسکی چیٹس دکھائی مجھے۔۔ یہ اسکو بتا رہی تھی کہ یہ کیسی دکھتی ہے۔۔ایک غیر مرد کو دعوت دے رہی ہو تم ہنیہ؟”
ہنیہ نے چہرہ چھپا کر رونا شروع کردیا۔ وہ اصلی زندگی میں کتنی شریف تھی۔ کتنی معصوم۔ کوئی راہ چلتا بھی اسکی حیا اور کردار کی گواہی دے دیتا اور یہ نہ دکھائی دینے والی جادوئی نگری اسکی شرافت پر سوال اٹھا رہی تھی۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کیا سچ تھا اور کیا جھوٹ۔۔

Sitamgari yaar ki novel by JN Writes

  • by

آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟

شایان کی بات سن کر ماہم نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ان نگاہوں میں شایان کو خود کے لیے ہزاروں گلے شکوے نظر آئے۔

وہ طنزیہ مسکرائی اور بولی میں نے کیا سوچنا ہے اور میرے سوچنے سے بھلا کیا ہو جائے گا ۔

میں تو وقت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہوں جسے جو چاہے جدھر چاہے موڑ لیتا ہے ۔

میں تو بس خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

یہ کہتے ماہم کی آنکھ سے اشک گرے اور اس کے جزبات کی طرح ہی بے مول ہو گئے۔

شایان آپ اپنے لیے جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔آپ آذاد ہیں میں جانتی ہوں یہ ایک بے جوڑ شادی تھی آپ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھے مگر ہم دونوں ہی مجبور تھے جیسے آپ اپنی ماں کی خاطر مجبور ہوگئے ویسے ہی میں بھی تایا جان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہوں تب ہی کبھی ان کی کسی بات سے انکار نہیں کر پائی۔

دوسرا ایک لاوارث اور یتیم لڑکی اگر یہ ٹھکانا بھی کھو دیتی تو پھر کہاں جاتی۔