Skip to content
Home » Crime based Novels

Crime based Novels

Cheekh by farhan bhayo Complete Novel

  • by

“کیوں ظلم کر رہی ہو ہم دیوانوں پر؟”
شاہ زیب کے اس عجیب رویے کو دیکھ کر انمول لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ تیزی سے باہر جانے لگی۔
کمرے کا دروازہ باہر سے کسی نے “دڑہم”کی آواز کے ساتھ بند کر دیا۔
انمول کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، اور وہ دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔
مگر دروازہ باہر سے لاک ہو چکا تھا۔
وہ زور زور سے دروازے کو پیٹنے لگی:
“کوئی ہے؟ کس نے دروازہ بند کیا؟ دروازہ کھولو!”
وہ زور زور سے چیخنے لگی۔
تبھی پیچھے کھڑا شاہ زیب اس کے قریب چلا آیا۔
“اب یوں چیخنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
اس کے الفاظ اتنے زہر آلود تھے کہ انمول کی روح تک کانپ گئی۔
انمول پلٹی، اس کی آنکھوں میں خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔
وہ دروازے کے ہینڈل کو پکڑے زور زور سے گھمانے لگی، مگر دروازہ بند ہی رہا۔
شاہ زیب نے اس کے قریب آیا۔
“تمہیں پتہ بھی نہیں، انمول، تم کتنی دلکش ہو۔”
اب انمول شاہ زیب کے منہ سے آنے والی بو کو پہچان چکی تھی۔
وہ شراب کی بو تھی۔
ہاں، شاہ زیب نے آج ڈرنک کیا تھا۔
وہ اب سب کچھ جان چکی تھی۔
وہ جان چکی تھی کہ وہ پھنس چکی ہے۔
وہ جان چکی تھی کہ اس کے اعتماد اور بھروسے کا بری طرح سے جنازہ نکالا گیا تھا۔
“شاہ زیب بھائی، آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟”
اس کی آواز بھرا گئی۔
“مجھے جانے دیں، دادی جان کی طبیعت خراب ہے۔ وہاں سب میرا انتظار کر رہے ہیں، مجھے جانا ہے۔”
اس نے سکتے ہوئے کہا۔
شاہ زیب نے اس کے منہ کے سامنے انگلی رکھتے ہوئے “ششش…” کہا ۔
اور کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر انمول کے ہاتھ پر لکھے ہوئے “شہریار” پر جا کر تھم گئی۔
“اوہ… تو ہماری مسز انمول کو بھی پیار ہو چکا ہے!” اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ گھماتے ہوئے کہا۔
اور ایک بار پھر درندوں کی طرح اس کے قریب آتے ہوئے بولا، “چلو، آج کے لیے ہمیں شہریار ہی سمجھ کر قبول کر لو۔”
انمول نے ایک زوردار تھپڑ شاہ زیب کے منہ پر رسید کیا۔

Shar by Kainat Shahid Complete novel

  • by

یہاں پر کوئ بھی نہیں ہے؟ تم بلا وجہ ہی کچھ زیادہ سوچ رہے تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا۔ اندھیرے کے باعث انکے چہرے واضح نہیں تھے۔

“ویسے بھی ابھی بوس نے پولیس سے بات کی ہے جب تک ہم ان سب کے سارے آرگنز نہ نکال لیں وہ یہاں نہیں آ سکتے۔ آخر کو انکو بھی تو اپنا حصہ چاہیے ۔ آخر میں لہجہ تمسخرانہ تھا۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انکی نظروں میں پولیس کی کوئ اوقات نہیں ہے۔”

“لیکن میں ابھی بھی یہ سوچتا ہوں کہ آخر مسلمان اپنا ایمان کیسے بیچ سکتا ہے؟ ہم تو غیر مسلم ہیں لیکن مسلمان اگر ایسے ہیں تو میں خوش ہوں کہ میں مسلمان نہیں ۔ ان میں سے ایک شخص بولا ۔”

“پیسے کی لالچ ہے آج ان سب مسلمانوں میں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس سب سے زیادہ ہو اور ہر کوئ ان کا محتاج رہے اور اس طرح انکی جھوٹی عزت کو مزید چار چاند لگ جائیں ۔ لہجے میں مسلمانوں کے لیے واضح طنز اور حقارت تھا۔جو کہ الماری کے پیچھے آحل اور آلیار نے بخوبی محسوس کیا ۔”

۔( پچھلی تمام انبیاء کی قوم میں صرف ایک برائ موجود تھی اور انکو تباہ کر دیا گیا جبکہ امت مسلمہ میں ان تمام قوموں کی برائیاں موجود ہیں لیکن یہ پھر بھی اس غلط فہمی میں ہیں کہ چونکہ یہ آپ صلوت سلام علیہ السلام کی امت ہیں تو یہ کنفرم جنتی ہیں۔ اور اسی بھول میں یہ قوم اخلاقی پستی کو چھو رہی ہے۔)

وہ آدمی تو اب جا چکے تھے لیکن ان اپنی باتوں سے دو نفوس کو شرمندگی کی انتہاؤں پر پہنچا چکے تھے ۔

اگر آج ہر شخص اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تواس معاشرے کو صحیح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ یہ سوچتے ہو کہ آپ پوری دنیا کو ٹھیک کر سکتے ہو تو یہاں پر آپ غلطی پر ہو پھر چاہے آپ جتنے مرضی بڑے عالم ہی کیوں نہ ہو ۔

ایک قول ہے:

کل تک میں چالاک تھا تو دنیا کو بدلنا چاہتا تھا لیکن آج میں عقلمند ہوں تو خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔

Hum kyun chaly iss rah per by Wisha Nadeem Complete novel

  • by

یہ ایک فرضی کہانی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسے فرضی کہانی کی طرح ہی پڑھا جائے۔۔اس میں بہت سے سینز ایسے ہوں گے جو کہ آپ کو تب تک فضول لگیں گے جب تک کہ آپ ان کو سمجھ نہ لیں۔۔اس ناول میں موجود ہر ٹاپک کو لکھنے کے پیچھے کوئی مقصد ہے اور جو وہ سمجھ جائے وہی عقل مند ہے۔۔علاوہ ازیں جب تک کہانی مکمل نہ ہو جائے اس کے بارے میں کوئی رائے اختیار نہ کریں کیونکہ آخر میں آپ کو پچھتاوا ہو سکتا ہے۔۔یہ کہانی راستوں کو پہچاننے کی ہے۔۔ان راستوں کو پہچاننے کی کہانی جہاں ہمیں جانا تھا مگر ہم بھٹک گئے تھے۔

Musht e khaak by Laraib Fatima complete novel

” چلیں بھی آگے بولیں جلدی ۔۔ کیا کر سکتے ہیں ہم۔۔؟ “

اسکے استفسار پر ابھی زمار کچھ بولتا اس سے پہلے ہی وہ خود بول اٹھا ۔۔

” کیا میں ارتضیٰ کو خود شوٹ کر سکتا ہوں۔۔یہ میرا بہت بڑا خواب ہے اسے ختم کر دینا اسے زندہ جلا دینا ۔۔کیا میں کر سکتا ہوں ایسا۔۔۔؟ “

اسکے ایسے استفسار پر سامنے بیٹھے زمار کے جبڑے بھینچ گئے تھے اسنے بہت مشکل سے خود کو کچھ بھی کہنے سے بعض رکھا اور اپنی ادھوری بات جاری کی۔۔

” ہم ابھی بس یہ کریں گے کہ ارتضیٰ کو کال کریں گے اور بتائیں گے کہ اب جب وہ پاکستان آ ہی گیا ہے تو ہوش میں رہے قدم قدم پر اسکی جان کو خطرہ ہے ۔۔ اور اسکے ہر عزیز کی جان کو بھی۔۔ اسے بتائیں گے کہ صرف وہ ہی دس سال پہلے والی کہانی میں نہیں لوٹا ہے ہم بھی واپس آئیں ہیں۔۔ اور اب دیکھتے ہیں کہ جیت کس کی ہوتی ہے ۔۔”

زمار وحشت زدہ سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ اسکے ساتھ ہی دوسرا شخص بھی کھڑا ہوا تھا ۔۔

ابھی زمار دروازے کی جانب بڑھتا اس سے پہلے ہی پیچھے سے آنے والی آواز پر ٹہر گیا ۔۔

” میرا خیال ہے اسکے اس دینا میں عزیز تو شاید نکل ہی آئیں مگر وہ بیچارہ جانتا نہیں ہے کہ اسکے کچھ خونی رشتے اس دنیا میں اب بھی موجود ہیں۔۔۔ میں بہت پر جوش ہوں اسے کڑوی حقیقت سے آشنا کروانے کے لئے۔۔”

Mohib mohabbat by Zunaira bano Complete Novel

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میری “ہونے والی بیوی” کس قدر زہر اگلتی ہے۔ مجھ سے کس قدر جلتی ہے۔” ابوبکر نے دل میں سوچا۔
“جلتی نہیں ہے۔۔۔۔ بس تم سے پیار کرتی ہے۔۔۔۔”
“میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر تم چاہتی کیا ہو ساریہ۔۔۔ دو سال ہونے کو ہیں۔ اس کے باوجود تم اس وکیل کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ اس کی اب ایک بیوی ہے، بچی بھی ہے۔ وہ آزاد تھا تب تمہارے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔ اب کیا خاک اٹھاۓ گا۔۔۔”
وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا تھا۔
“تم مجھے گلاب کا پھول دینا اور میں تمہیں گوبھی کا پھول دوں گی۔ پھر تمہیں ہمیشہ یاد رہے گا میں کتنی اچھی شیف ہوں۔۔۔” حمائل نے ہنستے ہوۓ کہا۔ ابوبکر کے چہرے پر مصنوعی غصہ طاری ہوا:
“اچھی شیف؟ تمہاری کنکر والی کافی بھولا نہیں ہوں میں ۔۔۔”
“ایک بار کہو۔۔۔ جو مانگو گی وہ تمہیں پل بھر میں لا کر نہ دیا تو میرا نام بھی احمر گیلانی نہیں۔”
“احمر۔۔۔” رومانی کے ہاتھ کانپیں۔ آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔
“جب آپ جیسا مرد دست درازی کرنے کے باوجود ڈھٹائی کے ساتھ سینہ تان کر میرے سامنے کھڑا ہے تو میں اپنی عصمت کو اپنی کمزوری جان کر گھر کے کسی تاریک گوشے میں کیوں جا چھپوں۔”
وہ غرائی۔ حسن قادری مسکرا کر رہ گیا۔
ابوبکر نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ رو رہی تھی اور آنسو بے شمار تھے۔
“مت۔۔۔ جاؤ۔” اس نے بلک کر کہا اور ہاتھ جوڑ لیے۔
“ہُما۔۔۔” وہ بے بس سا نظر آیا:
“میں واپس آجاؤں گا۔”
“میرے سامنے نقاب کیوں نہیں کرتیں؟” احمر نے اچنبھے سے پوچھا تھا۔ رومانہ نے گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں کرچیاں ہی کرچیاں تھیں۔
“تم سے کیا چھپاؤں احمر؟ چہرہ یا جسم؟”