Skip to content
Home » Forced Marriage » Page 3

Forced Marriage

Mohabbat humsafar meri by Rashida Riffat

  • by

“اماں آگئی ہیں ابا اور ساتھ میں ایک دلہن بھی لائی ہے اتنی پیاری اتنی خوبصورت بالکل ڈراموں والی۔”
“کون دلہن۔ابا نے اسے ٹوکا۔
“اماں کہہ رہی تھی تمہاری بھابھی ہے۔”اجو نے وفور مسرت سے اگاہ کیا۔
“میری بھابھی۔”ابا نے اچھنبے سے پوچھا شاید ان کے حواس اب تک پوری طرح بیدار نہیں ہوئے تھے۔
“افوہ ابا آپ کی نہیں ہماری بھابی۔آپ کی تو بہو ہوئی نا بس اب جلدی سے آجائیے بھابھی بہت پیاری ہیں ابا بھائی کے ساتھ جوڑی خوب سج رہی ہے۔”اجو بتا کر پھر ڈرائنگ روم کی طرف بھاگا۔ حیران پریشان ابا اس کے پیچھے تھے۔
“آآئیں عمر کے ابا دیکھیں اللہ نے بیٹھے بٹھائے اپنی رحمت سے نواز دیا ہمیں۔ بہو ہے یہ آپ کی۔”انہوں نے مسرور سے انداز میں آگاہ کیا تھا پھر دلہن سے مخاطب ہوئی۔
“چلو بیٹا اپنے ابا کو سلام کرو۔”اور دلہن نے دھیمی سی اواز میں سلام کر کے فورا اماں کے حکم کی تعمیل کی تھی۔
“دنیا سے نرالے ماں باپ۔”عمر بیزار کن تاثرات چہرے پر سجا کر اپنے کمرے میں آگیا۔
“بہت ہو گئی عمر اپنے چہرے کے زاویے درست کر لیں۔”اماں الٹا اس پر ہی بگڑی پھر عفی کا شانہ پکڑ کر ہلایا تھا۔
“سونے دیں نا صبح ملے گا اپ کی بہو سے۔”وہ بیزاری سے بولا تھا۔
“کیسے سونے دوں پھر بہو کہاں سوئے گی۔”اماں نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا اور وہ تو گویا کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔
“کیا مطلب ہے اپ کا اپنی بہو کو اپنے پاس سلائیں میرا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اس سے۔”
“تیرا دماغ تو نہیں چل گیا عمر۔”اماں نے خفگی سے اسے دیکھا۔

The Evil Love novel by Maliha Fatima

  • by

تم کون ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اخر چاہتے کیا ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر اس کی نڈھال ہوتی حالت اور بگڑتی جا رہی تھی

میں جو چاہتا ہوں مجھے وہ بہت جلد ملنے والا ہے۔۔۔!!!

لڑکی میں اس کا سب کچھ چھین کر اسے برباد کر دوں گا اس کا سب میرا ہوگا اور پھر میں اس کی بھی جان لے لوں گا بس میرا راج ہوگا ہر جگہ سمجھ ائی وہ غصے میں دھاڑ رہا تھا

تم کس کو مارنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کس کے لیے لائے ہو مجھے یہاں زبردستی الفاظ منہ سے اٹک اتک کر نکل رہے تھے۔۔۔۔۔

میں کس کو ماروں گا وہ اپنا ہاتھ کی ایک انگلی اپنی تھوڑی پہ رکھ کے سوچنے والا ایکشن کرتے ہوئے بول رہا تھا او میں کس کو ماروں گا وہ جو تمہاری

شاید جان ہے کہیں ۔۔۔۔۔

وہی تو نہیں ہنس رہا تھا

وہ کسی کی محبت برباد کر کر وہ کیسے ہس سکتا تھا شرم انی چاہیے ۔۔۔۔۔۔!!!!

نہیں نہیں پلیز ایسا مت کرنا ت تمہیں خدا کا واسط کہہ ایسا مت کرنا میں اس کے بنا مر جاؤں گی پلیز وہ گڑگڑا رہی تھی اسکی جان سے پیاری چیز کو مارنے کی بات کر رہا تھا وہ کسے نہ گھبراتی اور ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

میں تو کروں گا۔۔۔۔

وہ ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے بولا

جو کر سکتی ہو کر لو اب مجھ سے تم کو اور تمہارے جانشین کو کوئی نہیں بچا سکتا سمجھی وہ ایک ادا سے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

تم پڑی رہو ہی پر جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا ڈارلینگ۔۔۔۔!؛

ایک دم سے اس کے شہرے سے کپڑا ہٹ گیا تھا اور شاید وہ ڈر گیا تھا اور واپس دیر کیے بہنا اپنا چہرا ڈاپ چکا تھا

تتتتتمممممم۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میں اس کو بتا دوں گی تم اسے دوکا دے رہے ہو جو تم سے اتنا پیار کرتا ہے

وہ جا چکا تھا ہا وہ اکیلا اس معصوم جان کو اس ویران جنگل میں چھوڑ گیا تھا

اب عنوا وہاں سے بھاگنے کے لیے کوشش کر رہی تھی کبھی ہاتھ کی راسی توڑتی تو کھبی پیر زمین پر پاتکتی ۔۔۔۔۔۔۔

کوی بھاگ رہا تھا یہاں سے وہاں

وہ پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا بس

پر وہ اسے کہیں نہیں مل رہی تھی

اس کا دل پھٹ رہا تھا اس کو لگ رہا تھا اج سب ختم ہو جائے گا

وہ کہاں چلی گئی تھی ابھی تو یہی تھی

اب تم ملی مجھے تو میں تمہیں مار ڈالوں گا ۔۔۔۔۔۔غصے سے اس کے ہال ہکھلال ہوتی جا رہی تھی

عنوا بھاگتے بھاگتے اب تھک چکی تھی کھانا تو اس نے کل رات سے نہیں کھایا تھا پانی بھی شاید اور اتنے زخموں کے بعد کون ہی چل سکتا تھا

وہ لڑکھڑاتی چلتی پھر گرتی پھر سنبھلتی چلتی جا رہی تھی اب وہ اس محل کے سامنے کھڑی تھی جسے لوگ عیول کیسیل کے نام سے جانتے تھے

بس پیچھے سے کچھ چیز ٹک کر کر اس کو لگ گئی تھی

جو اس کا سینہ چیر چکی تھی

اور یہ منظر دو لوگوں نے نہیں بلکہ تین لوگوں نے اپنی نظروں میں قید کیا تھا

وہ گرے انکھیں بھی اس وقت اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ چیخا تھا چیخنا تو فرض تھا اس پر اس کی دنیا اجڑ گئی تھی اس ایک لمحے میں عنوااااااااااا

Shiddat by Bareera Shah Complete Novel

  • by

کیسے رہوگی اکیلے پنے تو سنبھلتی نہیں ۔۔۔دارم دکھ سے مسکرایا

جب کے اُس کی بات پر اہانا نے حیران ہوتے اُسے دیکھا

کیا مطلب اکیلے آپ کے ساتھ رہونگی نا ۔۔۔

یعنی تم چاہتی ہو تم مجبوری کی زندگی گزارو ؟؟لیکن میں ایسا نہیں چاہتا

وہ اس کے بالوں سے آخری پن نکلتا ہوا بولا

دارم آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں ۔۔۔وہ کھڑی ہوتی دارم کے قریب جاتی بولی

اسلئے کیونکہ شاید ہم لوگ اک دوسرے کیلئے بنے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔

دارم کی بات پر اہانا نے تڑپ کر اُسے دیکھا جو پہلے ہی اُسے دیکھ رہا تھا

اہانا کی آنکھوں میں تڑپ دیکھ دارم کو کچھ ہوا تھا

ک۔کیا مطلب ۔۔؟؟

مطلب میں تمہیں تمھاری زندگی واپس دینا چاہتا ہوں جس میں کوئی مجبوری نا ہو میں تمہیں اس مجبوری کی شادی سے آزاد کرنا چاہتا ہُوں لیکن گھر والوں کا سوچ میں خاموش ہوجاتا ہُوں ۔۔۔سب گھر والوں پر کیا گزرے گی لیکن میرا وعدہ ہے میں تمہیں اس مجبوری سے بہت جلد آزاد کردونگا ۔۔۔

د۔دارم ا۔آپ۔۔۔اہانا کہتے کہتے رکی جب کے دارم کی بات پر انسوں تو آنکھوں میں جمع تھے ۔۔۔

دارم آپ کو ہوا کیا ہے اک بار بتائے تو مجھے آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔۔وہ دارم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی

چھوڑو ۔۔۔۔تم اب بھی مجھ سے پوچھ رہی ہو مجھے کیا ہوا ہے تم خود سے پوچھو کے کیا ہوا ہے ۔۔۔دارم اپنا ہاتھ پیچھے کرتا سنجیدگی سے بولا

آپ میرے ساتھ ایسا مت کرے دارم میں مرجاونگی آپ کے بغیر ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی

مر تو میں گیا ہُوں اہانا تمہیں مزید یہ مجبوری کے تحت باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے اک بار میں نے پہلے بھی یقین کیا تھا لیکن اب نہیں میں جانتا ہوں یہ شادی تم نے گھر والوں کے کہنے پر مجبوری سے کی ہے ۔۔۔۔۔