Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel
Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel Jantar Mantar by Sumaiya Moin – A Haunting Tale of Black Magic Urdu literature has long been… Read More »Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel
Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel Jantar Mantar by Sumaiya Moin – A Haunting Tale of Black Magic Urdu literature has long been… Read More »Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel
کہانی کا خلاصہ.. A۔J
سلسبیل جو بہت خوبصورت لڑکی ہے،جرمنی میں اپنے دادا دادی اور باپ کے ساتھ رہتی ہے۔دادی بیكری چلاتی ہیں اور گاؤں میں یہ لوگ جانور بھی پالتے ہیں۔س کا ایک بھائی ڈینی ہے اور دوست ڈی سوزا جس کی ماں نے اس کے باپ کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔
سلسلبیل کی ماں وفات پا گئی تھی تو دوسری شادی باپ نے کی اور سوتیلی ماں کا رویہ اس کے ساتھ بہتر نہیں جس کا باپ روبرو اور بھائی روسی اکثر ان کے گھر ملنے آتے ہیں اور ان کا آنا دادا دادی کو پسند نہیں۔
ہیرو ہشام بھی جرمنی میں ڈاکٹر ہے جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے جس کی ماں شراب نوشی کرتی ہے اور مر جاتی ہے۔
ہشام کی سوتیلی ماں پاکستان میں ہیں جو نرجس بیگم ہیں اور پیار سے انھیں جی جی کہتے ہیں جو اس سے بہت محبت کرتی ہیں اور کافی سالوں سے منتظر ہیں کہ سوتیلہ بیٹا پاکستان آجاۓ اور جائیداد اس کے حوالے کردیں وہیں وہ شافیہ کی شادی ہشام سے کرانا چاہتی ہیں۔
شافیہ نرجس یعنی جی جی کے محلے میں اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہن عرشیہ کے ساتھ رہتی ہے جن کا رویہ شافیہ کے ساتھ اچھا نہیں اور اس کی جی جی سے بہت بنتی ہے اور یہ بھی ہشام کو پسند کرتی ہے اور اس کے آنے کی منتظر ہے۔
اسی گلی میں غوثیہ اپنے بیٹے شاہ ویز کے ساتھ رہتی ہیں جو شافیہ کو پسند کرتا ہے اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں جن کے والدین نہیں ہیں۔یعنی خداداد بڑا بھائی ہے جو سب بہن بھائیوں کو والدین کی طرح کیئر کرتا ہے شایان،داؤد،سلیم اور ایک بہن سنہرے گھر کے فرد ہیں۔
سنہرے کی شافیہ سے دوستی ہے شافیہ کی ماں سمیرا چاہتی ہیں کہ عرشیہ کی شادی خدا داد سے ہوجاۓ۔
خطیب فلسطینی ہے جس کاسارا خاندان شہید ہوگیا اور اب یہ جرمنی آگیا ہے اور ہشام سے اس کی دوستی ہے وہیں کالج میں وہ سلسبیل اور ڈی سوزا سے بھی ملتا ہے۔خدا داد جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے یہ اپنی فیملی کے ساتھ جرمنی شفٹ ہوجاتا ہے جس کی دوستی ہشام اور خطیب سے ہوجاتی ہے کہ ایک ہی کالج میں پڑھ رہے تھے۔
ہشام کی سگی ماں نشے کی وجہ سے مر جاتی ہے تو وہ پاکستان جاتا ہے اور نرجس بیگم کی خواہش کو پورا کر کے شافیہ سے نکاح کرتا ہے .
سلسبیل کی سوٹیلی ماں بھی اس کے باپ سے بے وفائی کر کے بھاگ جاتی ہے اور ایک رات کے اندیهرے میں کوئی آ کر سلسبیل کے ساتھ زیادتی کرتا ہے وہ سمجھتی ہے یہ روبرو ہے جو اس کی سوتیلی ماں کا شوہر ہے۔
ہشام شافیہ کو بتا دیتا ہے کہ وہ سلسبیل کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کر کے اسے سہارہ دے گا۔
باقی کہانی میں پڑھیں کہ
سلسبیل کا مجرم کون ہے؟
کیا شافیہ ہشام کے ساتھ رہے گی؟
ہشام کا راز بھی ہے وہ کیا ہے؟
بہت زیادہ فلاسفی سے بھرپور کہانی ہے جس میں رائیٹر نے بہت منفرد انداز میں ناول لکھا ہے جسے سمجھنا کچھ مشکل ہے مگر رائیٹر کی علمی قابلیت قابل تعریف ہے۔
Ummid e Subh Jamal by Umme Maryam – A Beacon of Hope and Resilience Ummid e Subh Jamal by Umme Maryam is a heartwarming Urdu… Read More »Ummid e subh Jamal by Umme Maryam Complete Novel
کک کون ہو تم ؟؟ وہ شخص کپکپاتے لہجے میں بولا ۔
the wolf mafia king ۔ وہ شخص قہقہ لگا کر بولا ۔
مم مجھے چھ چھوڑ دو ۔ وہ شخص گڑگڑا کر بولا ۔ اس شخص نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیوں کو اپنے ماتھے پر بجانا شروع کیا جس سے وہ انگھوٹی اس شخص کی نظر میں آئی ۔اگلے ہی پل اس شخص نے اپنے ہاتھ کو اپنی دائیں آنکھ پر رکھ کر اس شخص کی طرف دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھ نے اپنا رنگ دو پل کے لیئے بدلا ہو ۔
نا ممکن بھیڑیا کبھی اپنے شکار کو چھوڑتا نہیں ۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنے جیب سے چاقو نکالا اور دھاڑ کر اس کے دل کے مقام پر دھڑا دھڑ کئی وار کیئے ۔ اس کی دلخراش چیخیں اس کمرے میں گونجیں اگلے ہی پل وہ دم توڑ گیا ۔
” معاشرے کی تلخ حقیقت، جرات مندانہ کردار،سکھ اور دکھ کے موڑوں سے بھرا ہوا، ماضی کے اسرار، پراسرار کردار، ایک ایجنٹ،ایک ٹیم، کئی دشمن اور بہت کچھ”۔۔۔۔۔
یہ اٹلی کی شام کا حسین منظر تھا جہاں سب مرد اور عورتیں اس شام کے حساب سے خوبصورت ملبوسات میں ملبوس دنیا کی سب سے بڑی نیلامی کی تقریب میں موجود تھے بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدان کے ساتھ شاہی خاندانوں کے بڑے بڑے لوگ لیونیراوڈو دا ونسی( Leonardo da Vinci)
کے آرٹ کی تخلیق کی دنیا کی دوسری مہنگی پینٹنگ کی نیلامی ہونے جا رہی تھی اور دنیا کے خرب پتی اور ارب پتی لوگ
بے چینی سے اس نیلامی کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے
لیو نیراوڈو ر دا ونسی کے آرٹ کی بہترین تخلیق میں سے ایک تھی جسے Salvator Mundi کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس وقت اسکا مالک “بدر بن عبدا ﷲ بن السعود” تھا جو کہ سعودی عرب کا کلچر منسڑ اور شاہی خاندان سے تھا۔ اسنے اٹلی
کے Doge’s Place میں اس نیلامی کی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔
اتنے میں پیلس کے مین گیٹ پر نیوی بلیو رنگ کی
Mercedes Maybach Exelero
آ کر رکی تھی۔اور اسکے پیچھے اسکے گارڈز کی گاڑیوں بھی موجود تھی ایک گارڈ نے آ کر گاڑی کا ڈور اوپن کیا۔
جس میں سے تقریباً پینتیس برس کا جوان آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے باہر نکلا تھا جو اس وقت آف وائٹ برانڈڈ فور پیس میں ملبوس تھا ہاتھوں میں مہنگی ترین گھڑی پہنے پیروں میں براؤن لیدر کے شوز پہنے بالوں کو نفاست سے جیل سے سیٹ کیے
وہ پیلس کے مین دروزے کی طرف بڑھا جہاں ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک انگریز لڑکی جو یونیفارم میں پہنے سب کے انیوٹیشن کارڈ کو سکین کرتے انہیں ویلکم کر رہی تھی۔
Welcome Sir please Show me your Invitation card…!
وہ لڑکی مسکراتے ہوئے بولی تو اسنے اپنے کوٹ کی پاکٹ سے اپنا انیوٹیشن کارڈ نکال کر اس لڑکی کو دیا جو وہ ڈیوائس پر سکین کرتے چیک کرنے لگی ڈیوائس سے اپروول ہونے کے بعد اس لڑکی کے انیوٹیشن واپس کیا۔
Thanks Goldy Sir Her The way you can go and
Have a good day…!
وہ لڑکی ہاتھ کے اشارہ سے اسے راستہ بتاتے مسکراتے ہوئے دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔
اسنے اندر داخل ہوتے اپنی شارپ نگاہوں سے چارو طرف کا جائزہ لیا سکیورٹی کا ہائی انتظام کیا گیا تھا۔
جب وہی کی انتظامیہ لڑکی نے اسے چہرے پر لگانے کے لیے ماسک کی ٹرے پکڑے ماسک آفر کیا۔
No Grazie
(نہیں شکریہ)
وہ اٹالین زبان میں بولتے شکریا ادا کرتے آگے بڑھنے لگا تو وہاں پاس کھڑے پچاس برس افریقن آدمی نے اسے روکا۔
آپکو یہ ٹرائے کرنے چاہیے دیکھیں کتنے خوبصورت ہیں اس افریقن حبشی آدمی نے اسے فرینڈلی لگانے کا کہا یقیناً وہ بھی کوئی بزنس مین تھا جو اس نیلامی میں آیا تھا۔
نہیں شکریا میں ایسے ہی ٹھیک ہوں وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
تو وہ افریقن حبشی آدمی اسے دیکھ کر مسکرایا جیسے اسے بہت اچھے طریقے سے جانتا ہو ۔۔۔۔
ہال میں سب کیسا لگ رہا ہے وہ آگے بڑھتے وہ اپنے کان میں لگے ائیر پیس میں ہال میں موجود بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدانوں کو دیکھتے بولا ان میں کہی لوگ شاہی گھرانوں سے بھی موجود تھے۔
بہت رئیسوں والی فیلنگ آ رہی ہے ایک خوبصورت نسوانی آواز گولڈی نے اپنے ائیر پیس میں سنی جو یقیناً ایما کی تھی
وہ لیڈیز تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھی وہاں موجود کئی لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھتے وہ ایک خوبصورت بلونڈ بالوں کے ساتھ سبز آنکھوں والی خوبصورت لڑکی تھی اور کوبرا کی ٹیم کا حصہ تھی لیکن کوبرا کی ٹیم کا حصہ ہونا وجہ اسکی خوبصورتی نہیں بلکہ اسکی کام میں قابلیت کے ساتھ مہارت تھی۔
اتنے میں بدر بن عبدا ﷲ السعود بھی وہاں آ گیا تو سب لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے اور نیلامی کی تقریب کا آغاز ہوا۔
اور ایک ہوسٹ سٹیج پر آ کر وہاں موجود ڈائیس پر کھڑی ہوئی…!!!!
میں ہو اپ کی ہوسٹ ایما۔۔۔۔۔
جی تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین آپکے آنے کا بہت شکریہ جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں آپکو یہاں صدی کی سب سے شاندار پینٹنگ کی نیلامی کے لیے مدعو کیا گیا دیکھتے ہیں کون قسمت والا ہوگا جو اسے حاصل کرے گا لیکن باقی سب دیدار کر سکتے ہیں اس شاہکار کا وہ اپنے ہاتھ سے سامنے موجود لال کپڑے ڈھکی ہوئی پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا اور وہ لال کپڑا پینٹنگ سے ہٹا دیا گیا پینٹنگ ایک ڈیجیٹل تجوری میں موجود تھی جسکے لاک کو ان لاک کرنے کے تین مراحل تھی پہلا مرحلہ صرف اسکے مالک کے چہرے کو سکین کرتی تھی پھر دوسرے مرحلے میں اسکی مخصوص آواز کے کوڈ سے اور تیسرا مرحلہ اسکے فنگر پرنٹس سے کھلتی تھی پینٹنگ کو دیکھتے سب لوگ تعریف کرتے تالیاں بجانے لگے۔جی تو باقاعدہ نیلامی کا آغاز کرتے ہیں۔
کیوں نا پچاس پانچ کروڑ سے شروع کیا جائے وہ ہوسٹ پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا
ٹائیگر پوزیشن پر پہنچ گئے وہ سامنے موجود پینٹنگ کو اپنی شارپ نگاہوں سے دیکھتے بولا جسے وہ جیسے شکاری اپنے شکار کو دیکھتا ہے۔
ہاں میں پہنچ گیا ہوں کوبرا اور سکارپیو کے قریب لوکیشن لے رہا ہوں وہ جیٹ بوٹ میں موجود سامنے ٹاور پر موجود اپنے سنائیپر ساتھی کو دیکھتے بولا جو دور بین کی مدد سے آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا
تو پھر آج انہیں ڈی گینگ کا کمال دکھا دیتے ہیں وہ سامنے موجود پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
برو تجھے یاد ہے نا اپنی شرط اگر یہ پینٹنگ تو نا لے پایا تو تیری وہ
بلیک لگژری یاٹ میری ہوگی سکارپیو کی آواز ائیر پیس سے گونجی۔
دنیا کا ایسے کوئی کام نہیں ہے جو کوبرا نا کر سکے تم لوگ پارٹی کی تیاری کرو کیوں کہ آج یہ پینٹنگ تو ہم حاصل کر کے رہیں گے وہ سائیڈ سمائل پاس کیے بولا تو دوسری طرف سے ٹائیگر اور سکارپیو کا قہقہہ اسکے ائیر پیس میں گونجا۔
بالکل پیلس کے سامنے موجود بلڈنگ میں سی۔آئی۔اے کی ساری ٹیم موجود تھی جو کیمروں کی مدد سے اس تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھی انہیں مخبری کی گئی تھی کہ آج یہاں دنیا کی
دوسری مہنگی ترین پینٹنگ گولڈی چورانے والا ہے اس لیے وہ پوری ٹیم اپنی انسپکٹر ریچل کے ساتھ وہاں موجود سب لوگوں پر نظر رکھ رہی تھی وہ کتنے مہینوں سے گولڈی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ تھا کہ قابو آنے سے پہلے فرار ہو جاتا تھا۔
ذرا اس آدمی پر زوم کرنا انسپکٹر ریچل کمپیوٹر پر بیٹھے اپنے ٹیم میمبر کو دیکھتے بولی تو اسنے زوم کیا۔
مطلب خبر پکی تھی وہ گولڈی کے چہرے کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھتے دانت پیستے بولی۔
Sono un agente di polizia, Rachel, dell’Unità Culturale Haritage, sei qui?
میں پولیس آفیسر ریچل ہوں کلچر ہیری ٹیج یونٹ سے کیا تم لوگ وہاں موجود ہو وہ کان میں لگے ائیر پیس میں بولی۔
تو نیلامی کی تقریب میں موجود پولیس والے جو عام کپڑوں میں ملبوس تھے انہیں نے اوکے بولا۔
آج دیکھتی ہوں گولڈی تم کیسے میرے ہاتھوں سے بچ کر جاتے ہو وہ غصے سے گولڈی کے چہرے کو سکرین پر دیکھتے ہوئے بولی۔
آج کی شام کے سب سے خاص مہمان کا بھر پور تالیوں میں سے استقبال کریں جو نا صرف سعودی عرب کے کلچر منسڑ ہیں بلکہ اس شاہکار کے مالک بھی ہیں وہ ہوسٹ بدر بن عبدا ﷲ السعود کو سٹیج میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے بولا تو سب نے تالیاں بجاتے اس سعودی منسٹر کا استقبال کیا۔
جی تو قیمت لگانا شروع کرتے ہیں ایما پینٹنگ کی طرف دیکھتے بولا۔
تو وہاں موجود ایک آدمی اپنا ہاتھ اٹھاتے مائک میں پانچ ملین بولا۔
جی تو جرمنی سے پانچ ملین ایما بولی تو وہاں موجود دوسرے آدمی نے ہاتھ اٹھاتے بیس ملین بولا۔
جی تو آسڑیلیا سے بیس ملین ایما پھر سے بولی
پولیس والوں کی نظر گولڈی پر تھی جو ان آدمیوں کو بولی لگاتے دیکھ رہا جو کہ پچاس ملین تک پہنچ گئی تھی۔
ہم جب اللہ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہیں تو سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ہونے ہمارے لیے فرحت و انبساط کا باعث ہوتا ہے ۔ان کے ساتھ گزرے لمحے زندگی کے صفوں پر ہمیشہ کے لیے سنہری لفظوں میں درج ہوتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک جینے کی وجہ ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ آپ کو زندگی کے اندھیروں سے روشنی کے نور کی طرف لاتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر محض لفظوں سے ادا کرنا ممکن نہیں۔
“ملک سے باہر جا رہے ہو؟”اس کے قریب آتے
چند انچ کا فاصلہ رکھے وہ مسکرائی تھی۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھتے شایان کو اب سانس بھی مشکل ہی آئی تھی۔
“ہاں!لیکن تم یہاں۔۔۔!”
“ہاں میں یہاں۔۔۔!”مزید قریب ہوتے اپنی انگلی
اس کے دل کے مقام پر رکھے عنادل آج اسے
چاروں خانے چت کر گئی تھی۔
“کون سے ملک جا رہے ہو؟”دو قدم دور ہوتے ہاتھ باندھے عنادل نے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ
بکھیرے خوشدلی سے پوچھا تھا،جبکہ آنکھوں میں ہنوز شرارت تھی۔
“لندن۔۔۔!”شایان کے چہرے کا رنگ بالکل فق تھا۔
“کب کی فلائٹ ہے؟”آنکھوں کو معصومیت سے
گھماۓ ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔
“آج رات کی۔۔۔!”عنادل یہاں کیوں آئی تھی اور
ان سب سوالات کا مقصد۔۔۔؟
“ہممم۔۔۔!”عنادل نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“لیکن تم۔۔۔!”
“چٹاخ۔۔۔!”
معمول کے طابق آج شایان کو پھر اپنی متاع جان کا محبت بھرا تمانچہ پڑا تھا۔وہ بیچارا ابھی شاک کی کیفیت میں ہی تھا کہ
عنادل نے ایکدم ہی غصے سے آگے بڑھ اس کا
گریبان پکڑا تھا۔
“کیوں۔۔۔؟وہاں تمہاری بیوی رہتی ہے یا بچے۔۔۔؟جن کے پاس جانے کے لیے تم اتنے بےتاب ہو
رہے ہو۔۔۔؟”
“عنادل میں۔۔۔!”
“کیا میں۔۔۔ہاں کیا میں۔۔۔جب تمہاری
بیوی پاکستان
میں ہے تو تم لندن کیا کرنے جا رہے ہو؟بولو۔۔۔!”وہ رو دی تھی۔
“دل۔۔۔!”شایان نے اس کی آنکھ سے گرتے موتیوں
کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چنا تھا۔
“پلیز مت رو۔۔۔!”اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں
کے پیالے میں بھرتے شایان نے التجا کی تھی۔
“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے،تم تو جا رہے ہو نا مجھے
چھوڑ کر۔۔۔!”اس کی گہری آنکھوں میں دیکھے اس نے معصومیت سے شکوہ کیا تھا۔
“تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ چلے جاو۔”
“میں نے کہا اور تم نے مان لیا۔”اسے پیچھے کی
طرف دھکیلتے وہ اب شکوے پر شکوہ کر
رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“ہائے مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ میرے پاس تو الفاظ ہی نہیں ہیں۔”عنایہ
نے آکسائیڈ ہوتے ہوۓ کہا تھا۔وہ دونوں
اس وقت کافی پینے کیفٹیریا آئے تھے۔
“مجھے بھی۔۔۔!”ارمان بھی مسکرایا تھا۔
“اب اگلا نمبر ہمارا ہے۔”ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے عنایہ نے ارمان پر محبت بھری نگاہ ڈالی تھی۔
“ہائے۔۔۔!”وہ بھی آکسائیڈ ہوا تھا۔شایان اور
عنادل کی شادی سے وہ دونوں ہی بہت
خوش تھے۔
“مجھے تو بہت حیرت ہو رہی ہے کہ میری بہن
کی شادی آپ کے دوست سے ہو رہی ہے۔”
“مجھے بھی۔۔۔!”وہ دونوں ہی ہر چیز سے بے خبر
تھے۔
“ویسے رشتہ کب بھیجوں۔۔۔؟”عنایہ کے بغیر
رہنا اب اس کے لیے بہت مشکل ہو چکا تھا۔
“ابھی ان دونوں کی شادی تو ہونے دیں،اور ویسے
بھی میری کچھ شرائط ہیں۔”
“کیسی شرائط۔۔۔؟”اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
“میں آپ سے اسی شرط پر شادی کروں گی
جب آپ مجھے ساری اسائمنٹس بنا کر دیں
گے اور مجھے ہمیشہ ہر ٹیسٹ اور پیپر میں فل
مارکس دیں گے۔”
“What…?”
وہ تقریبا چیخ اٹھا تھا۔
“آپ اپنے پروفیسر سے اسائمنٹس بنوائیں گئی؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔
“اگر ان محترم پروفیسر صاحب کو مجھ سے
شادی کرنی ہے تو یہ تو کرنا ہی پڑے گا۔”معصومیت سے آنکھیں مٹکاۓ وہ ارمان کو بہت بڑا جھٹکا دے گئی تھی۔
“یہ زیادتی ہے۔”ارمان نے دبا دبا سا احتجاج کیا تھا۔
“جو بھی ہے۔۔۔!”عنایہ نے لاپروائی سے شانے اچکائے تھے جس پر ارمان نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تم نے میرے لیے کوئی ویڈنگ گفٹ تو نہیں لیا نا۔۔۔؟” شہادت کی انگلی کو اپنے دانتوں تلے
دبائے وہ اضطراب سے گویا ہوئی تھی۔
“اگر تم نے ابھی تک نہیں لیا نا تو مت لینا۔۔۔!”
“کیوں۔۔۔؟”ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔
“گفٹ مجھے اپنی مرضی کا چاہئے۔”وہ ایکدم
ہی ریلیکس ہوا تھا۔
“وہ تو تم لے لینا مگر ویڈنگ گفٹ تو
میں اپنی مرضی سے دوں گا۔”
“نہیں!میرا مطلب ہے کہ میں نے
ہمیشہ سے یہ
سوچا ہوا تھا کہ جب بھی میری شادی ہو گی
تو میں شادی کی پہلی رات اپنے شوہر سے یہی
تحفہ مانگوں گی۔”وہ اب بھی مضطرب تھی۔
“اچھا!تو کیا چاہیے میری جان کو۔۔۔؟”
“جو مانگوں گی دو گے؟”ایک لمحے میں شایان کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔وہ کہنا چاہتا تھا کہ
آخر میرے پاس ہے ہی کیا؟
“ہممم۔۔۔۔!”مگر وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
“کیا تم کل رات شادی کے تحفے کے طور پر مجھے
سورت محمد سنا سکتے ہو،میرا مطلب ہے میری ہمیشہ
سے یہی خواہش تھی کہ میرا شوہر جو بھی
ہو میں اس سے یہی فرمائش کروں گی کہ وہ
مجھے ایک سورت حفظ کر کے سنائے۔میں جانتی
ہو یہ بہت مشکل ہے مجھے تمہیں پہلے بتانا
چاہیے تھا مگر تم فکر مت کرو تم جتنی آیات
باآسانی یاد کر سکو کر لینا نہیں تو دیکھ کر پڑھ دینا۔”عنادل کی اس لمبی تمہید پر وہ مسکرا
دیا تھا۔وہ خاص تھی بہت خاص تو اس کی
فرمائش کیسے عام ہو سکتی تھی؟
تم کب مجھے یہاں سے چھٹکارا دلاؤ گے ، گوری نہ جانے کتنی بار اس سے پوچھ چکی تھی، وہ اس کے پیروں کی طرف بیٹھی ہوئی تھی ۔
کیا مصیبت ہے یار! عادی کوفت سے اٹھا جھٹکا لگنے سے گوری پیچھے کو گری۔کہنی زمین پہ لگنے سے کراہی
اب اتنی بھی نہیں لگی جو آوازیں نکال رہی ہو۔وہ بیزارگی سے بولا ۔
بعض اوقات چھوٹی چھوٹی چوٹیں بڑے بڑے درد یاد دلا دیتی ہیں ، عادی، وہ زہریلی مسکراہٹ سے بولی۔
یہ کیا عادی عادی لگا رکھا ہے ، تم جیسی طوائفوں کے منہ سے مردوں کے نام نہیں اچھے لگتے سمجھی، اس نے اس کا بازو مروڑا تو وہ سسکی۔
ہم جیسی ؟ عورت جسم بیچے تو طوائف! اور اس جسم کے خریدار کو کیاکہتے ہوں گے صاحب؟ وہ طنزیہ ہنسی!
شٹ اپ وہ چلایا۔
جانتے ہیں اس کو کہتے ہیں درندہ ، سور اس سے بہتر ہوتا ہے ، گند میں منہ مارتا ہے مگر اس کا صفایا بھی خود کرتا تم جیسا نہیں ہوتا ، ہاں جو عورتوں کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے شادی کی لالچ دیں ، اور پھر کام بن جائے تو نمازی ہونے کا ڈھونگ کریں۔ وہ بھی حلق کے بل چلائی۔
عادی نے ہتھوڑے جیسے ہاتھوں میں اس کا نازک جبڑا زور سے پکڑا، ضبط سے اس کی انکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کی آنکھیں بند تھیں۔رخسار گلابی ہو رہے تھے۔ہونٹ پھڑپھڑا رہے تھے مگر ظالم کی گرفت اس کیلے گھٹن بن رہی تھی۔
ھا ھا تم سے شادی؟ وہ بھی عادی خان ؟ طوائف سے ؟ تم جیسی عورتیں صرف باہر کی زینت ہوتی ہیں جس زینت کا ہم مرد اچھے سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اور رہی بات خوبصورتی کی ، تو پرنسس یہی تو تمھاری دشمن ہے، بیوی میری تمھاری طرح تھوڑی ہو گی! وہ نحوست سے اسے جھٹک گیا۔
باہر کی عورت کو ناپاک کر کے تمھیں بیوی پاک چاہیے واہ کمال ! وہ استھزا سے اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
چچ برا ہوا میں نے تمھیں ناپاک کیا؟ کیا اس سے پہلے تمھیں کسی نے نہ چھوا ہاں؟ وہ اسے مزاحیہ نظر سے جانچنے لگا ۔
اس نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا جو اس کو محرم بننے کا وعدہ دے چکا تھا۔
کیا انسان اتنی جلدی وعدوں کو پس پشت ڈال دیتے ، وہ اذیت میں تھی۔
کیا ہوا غصہ اریا ہے ؟ ھا ھا آنا بھی چاہیے تم جیسی معصوم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ تمھارا گاہک تمھارا محرم بنے گا ! کیا واہیات ہے ، مرد جس چیز کو خریدتے ہیں ، اس کو استعمال کے بعد مڑ کے دیکھتے تک نہیں ، جب تک وہ کام کی ہے یا جب تک دل نہ بھر جائے ، وہ اس کے کان میں سرگوشی کر کے بولا اور پیچھے ہٹ کے قہقے لگانے لگا۔
خدا تم سے حساب لے گا! وہ ضرور لے گا ، وہ ڈھے سی گئی ، اس کی آواز گھٹ گئ۔
عادی طیش سے اس کی طرف بڑھا اس کا منہ دبوچا۔
تم کون سی پارسا ہو ہاں تم بازار* عورت اس نے تپھڑ جڑ دیا،
مار دو مجھے چھین لو سانیسں، ازاد کر دو مجھے ، کر دو آزاد وہ روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھ گئ۔
عادی نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
کوئی بھی نکاح نہیں کرتا ، کرنا ہوتا تو یہان نہ آتا اس لیے جو کام کرتی آرہی ہو وہی کرو زیادہ ہوا میں مت اڑو خاص طور پہ جب تمھارے پر کٹے ہوں وہ چبا چبا کے بولا۔
خدا تمھیں بھی تمھارے پیار سے دور کرے گا عادی مکافات عمل ہوگا تمھارے ساتھ ، وہ روتے ہوئے خود کو چھڑانے لگی۔
ھا ھا مکافات عمل ؟ یہ تو صرف کہاوت ہے پرنسس ، اجکل دوسروں کو رلانے والے مخلفیں لگاتے ہیں ، سکون میں ہوتے ہیں، عیش کرتے ہیں ، اور تم جیسے بیوقوف لوگ بس مکافات عمل کا انتظار کرتے ہیں، وہ استھزا سے بولا۔
تم اس ہستی کو بھول گئے عادی تم سفاک ہوگے تم لاپروا ہو گے وہ تمھیں گھٹنوں پہ لے آئے گا، وہ تم سے تمھاری انا غرور چھین لے گا ، پھر تم اسی در پہ تم ، تم عادی آو گے تب میں تمھیں دھتکاروں گی،وہ اس کے سینے پہ انگلی رکھ کر بولی اس کی انکھوں میں خون تھا۔
عادی نے اسے دور کیا اسے خوف آیا ، اس گھن آئی خود سے اسے کچھ سمجھ نہیں آئی ، وہ لمبا سانس لے گیا۔
تمھاری ہنسی جب چھن جائے گی تب تمھیں پتا چلے گا خوف خدا کیا ہوتا ہے، وہ غرائی۔
وہ کانپتے ہوئے پیچھے ہوا اس نے ماتھے پہ آیا پسینہ پونچھا اب وہ ہنس رہی تھی۔ اسے اور ڈر لگنے لگا اس نے شرٹ پہنی اور بھاگ آیا ، پہلی بار اسے طوائف نے ڈرایا تھا ، اسے خدا یاد آیا تھا ، اس نے گندگی میں پاکی تلاش کرنی چاہی ، یہ پہلی بار تھا۔مگر ابھی اسے سفر کرنا تھا
میں آج آپکی بیوی لگ رہی ہوں لیکن تم اب بھی میرے شوہر نہیں لگ رہے. فجر نے بھی اس کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر شہریار نے برا سا منہ بنایا تھا. ہایے کتنی ان رومینٹک بیوی ملی ہے مجھے اور ساتھ میں کنجوس بھی. شہریار نے دہایی لی تھی اور اسکے کنجوس کہنے پر فجر کی آنکھیں پھیل گیی تھی. کیوں میں نے کیا کنجوسی دکھائی ہے. فجر اسکے تھوڑا قریب ہوکر تندہی سے بولی تھی. ہاں تو ہو نا تم کنجوس اتنا تو نہیں ہوتا تم سے کہ بے چارے شوہر کی تھوڑی تعریف ہی کرلو. یہ دیکھو اپنے اردگرد ساری لڑکیاں کیسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے مجھے اور ایک تم ہو.. شہریار نے اسے جلاتے ہوئے کہا تھا جس میں وہ کامیاب ہو بھی گیا تھا. ہاں تو جاؤ نہ انکے پاس میرے ساتھ کیوں کھڑے ہو جاؤ ان کے پاس.. فجر غصے سے بولی تھی. ٹھیک ہے وایفی جیسے آپکی مرضی. شہریار معصوم سا منہ بنا کر آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ فجر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا. شہریار نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا. وہ جو سامنے لڑکی ہے نہ اسکے ساتھ جو لڑکا بیٹھا ہے اس کا نمبر بھی لیتے آنا. فجر نے معصومیت سے کہا تھا اور شہریار جو کچھ اور ہی سننے کے لیے رکا تھا اسکی بات پر اسکی آنکھیں سرخ ہوگیی تھی. شہریار نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی تھی اور اس کے قریب ہوا تھا. تم میری ہو سمجھی صرف اور صرف شہریار آفندی کی. شہریار اسی طرح سرخ آنکھیں لیے کہہ رہا تھا. اور تم بھی میرے ہو سمجھے صرف فجر ملک کے. فجر بھی اسی کے انداز میں بولی تھی. شہریار کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی.