Skip to content
Home » Romantic Novels » Page 3

Romantic Novels

Mahiya ve by Sunaina Khan Complete

  • by

لہرانے لگے۔۔۔۔۔۔
مدھر ہنسی اور کھنکتے قہقہے ماحول کو اور بھی حسین بنا گئے تھے۔۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ منت کتنی پیاری لگ رہی ہو،، صفوان بھائی تو دیکھتے ہی فلیٹ ہو جائیں گے ۔
پیام گرین فراک اور یلو غرارہ پہنے روم میں داخل ہوتی ،،، گرین کرتی اور یلو گھیر دار لہنگے میں پھولوں کے زیور اور لائٹ میک اپ سے سجی سنوری منت کو دیکھ کر بے ساختہ بولی۔۔۔۔۔۔
منت تو جھینپ گئی۔۔۔۔۔۔۔
بھابھی بیگم کم تو آپ بھی نہیں لگ رہیں۔ تبھی تو ہمارے کھڑوس بھائی بہانے بہانے سے آپ کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں۔ پیچھے سے آتی عنایت نے پیام کی ٹانگ کھینچائی کی ۔
ارے واہ ہرنی صاحبہ آپ کے بھی پر نکل آئے ہیں ورنہ جب میں آئی تھی تو آپ تو بڑی چھوئی موئی سی تھیں ۔ ایسا بھی کیا جادو کر دیا المیر سلطان نے کہ ہماری عنایت اتنی بدل گئی ہے ۔

Ibtada e Mohabbat by Umm e omama Complete

  • by

“کیا دیکھا تم نے”

اسکے قریب آکر وہ پسٹل اسکی شہہ رگ پر رکھتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا

“ک–کچھ نہیں”

“میں نے پوچھا کیا دیکھا تم نے”

”م–میں کسی کو کچھ ن-نہیں بتاؤں گی”

اسکی پہلے سے زیادہ سخت ہوتی آواز پر وہ جلدی سے کہنے لگی

“ڈیرل کسی سے ڈرتا نہیں ہے بھری دنیا کو بتا دو”

“مجھے جانے دو”

“میں نے تمہارا راستہ کب روکا تم خود اپنی موت کے انتظار میں کھڑی ہو جانا چاہتی ہو تو جاؤ اس سے پہلے میرا موڈ مزید خراب ہو اور اگر میرا موڈ مزید بگڑا تو میں یہاں پر دوسرا قتل کرنے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا”

اسکی بات پر وہ اپنے شل ہوتے وجود کو گھسیٹتی بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
اور آریز بس اسکے دور جاتے قدموں کی آواز اپنے کانوں میں سنتا رہ گیا
°°°°°

Pyaar hua tha by Zeenia Sharjeel Complete

  • by

“آج ریان کافی خوش دکھائی دے رہا ہے”
وہ عرا کو مخاطب کرتی چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی عرا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی سے اٹھ گئی
“ویسے تمہیں تو خوش رکھا ہوا ہے ناں ریان نے”
مائے نور کے دوبارہ مخاطب کرنے پر عرا کو حیرت ہوئی
“جی ریان ہر لحاظ سے کوشش کرتا ہے کہ میں خوش رہو بہت کیرئنگ ہے میرے لیے”
مائے نور کے پوچھنے پر عرا اس کی بات کے جواب میں بولی
“اور پھر بدلے میں تم کیسے خوش کرتی ہو ریان کو، مطلب ایسا کیا کرتی ہو جو وہ تم سے خوش رہے”
مائے نور کے عجیب سے سوال پر عرا کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ مائے نور اس سے پوچھنا کیا چاہ رہی تھی
“بہت بھولی ہو ناں تم، سمجھ میں نہیں آرہی میری باتیں کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ واہ بھئی واہ بچہ پیدا کرلیا، دو مختلف مردوں سے محبت پالی مگر معصومیت وہی کی وہی برقرار ہے ابھی تک”
مائے نور باقاعدہ تالی بجاتی ہوئی عرا پر طنز کرتی بولی جس پر عرا کو ڈھیروں شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا
“اتنی جلدی بھول گئی تم زیاد کی محبت کو، اسی کے بھائی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے تمہیں زیاد کی یاد نہیں آتی یہ بھی یاد نہیں آتا کہ زیاد کس قدر محبت کرتا تھا تم سے۔۔۔ ایسے ہی کل کو ریان کو بھول کر کسی تیسرے مرد کے پاس بھی چلی جانا جو تمہیں ریان سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کرے دراصل تم جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والی لڑکیاں ایسی ہی تربیت حاصل کرتی ہیں اپنے بڑوں سے، وفا نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں تم تھرڈ لڑکیوں کے اندر۔۔۔ میں نے اپنی ساری جوانی، اپنی ساری عمر اس شخص کی وفا میں گزار دی جس نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی اہمیت دینا ضروری ہی نہیں سمجھا اور ایک میری بہو ہے جو آرام سے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اب اسی کے بھائی سے محبت وصول کرنا اپنا حق سمجھ رہی ہے۔۔۔ تف ہے تمہارے اوپر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں”
مائے نور کی باتیں سن کر وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پہ گرتی ہوئی بری طرح سسکنے لگی آج مائے نور نے جس طرح اس کو ذلیل کیا تھا اتنی ذلت اور سبکی اُس کو آج سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی

Shiddat by Bareera Shah Complete Novel

  • by

کیسے رہوگی اکیلے پنے تو سنبھلتی نہیں ۔۔۔دارم دکھ سے مسکرایا

جب کے اُس کی بات پر اہانا نے حیران ہوتے اُسے دیکھا

کیا مطلب اکیلے آپ کے ساتھ رہونگی نا ۔۔۔

یعنی تم چاہتی ہو تم مجبوری کی زندگی گزارو ؟؟لیکن میں ایسا نہیں چاہتا

وہ اس کے بالوں سے آخری پن نکلتا ہوا بولا

دارم آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں ۔۔۔وہ کھڑی ہوتی دارم کے قریب جاتی بولی

اسلئے کیونکہ شاید ہم لوگ اک دوسرے کیلئے بنے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔

دارم کی بات پر اہانا نے تڑپ کر اُسے دیکھا جو پہلے ہی اُسے دیکھ رہا تھا

اہانا کی آنکھوں میں تڑپ دیکھ دارم کو کچھ ہوا تھا

ک۔کیا مطلب ۔۔؟؟

مطلب میں تمہیں تمھاری زندگی واپس دینا چاہتا ہوں جس میں کوئی مجبوری نا ہو میں تمہیں اس مجبوری کی شادی سے آزاد کرنا چاہتا ہُوں لیکن گھر والوں کا سوچ میں خاموش ہوجاتا ہُوں ۔۔۔سب گھر والوں پر کیا گزرے گی لیکن میرا وعدہ ہے میں تمہیں اس مجبوری سے بہت جلد آزاد کردونگا ۔۔۔

د۔دارم ا۔آپ۔۔۔اہانا کہتے کہتے رکی جب کے دارم کی بات پر انسوں تو آنکھوں میں جمع تھے ۔۔۔

دارم آپ کو ہوا کیا ہے اک بار بتائے تو مجھے آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔۔وہ دارم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی

چھوڑو ۔۔۔۔تم اب بھی مجھ سے پوچھ رہی ہو مجھے کیا ہوا ہے تم خود سے پوچھو کے کیا ہوا ہے ۔۔۔دارم اپنا ہاتھ پیچھے کرتا سنجیدگی سے بولا

آپ میرے ساتھ ایسا مت کرے دارم میں مرجاونگی آپ کے بغیر ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی

مر تو میں گیا ہُوں اہانا تمہیں مزید یہ مجبوری کے تحت باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے اک بار میں نے پہلے بھی یقین کیا تھا لیکن اب نہیں میں جانتا ہوں یہ شادی تم نے گھر والوں کے کہنے پر مجبوری سے کی ہے ۔۔۔۔۔