Skip to content
Home » Sequel Base Novels » Page 3

Sequel Base Novels

Ehd e intezar (Part 1 of hiyat beismik) by Bint e Aijaz Complete novel

  • by

“خدا کرے تجھے بھی محبّت تڑپاۓ

تیری سانسوں میں میرا نام آۓ

تیری دھڑکن کو میری صدا آۓ

تیری نظر میں اک حجاب آۓ

اس حجاب میں جھکی وہ پلکیں یاد آئیں

جو قدم تونے موڑ لیے…

ان قدموں کو دیکھ تو روز پچھتاۓ

خدا کرے تجھے بھی محبّت ترپاۓ

تو لوٹ کر پھر اس نگر میں جائے

وہ خالی میدان دیکھ تو چیخے چلاۓ

میری خاموشی میں چھپی میری ہسی تجھے یاد آۓ

تو بن چاہے لوٹ آۓ… بس ایک بار لوٹ آۓ

خدا کرے میری طرح تجھے میری محبّت ترپاۓ”

(بنتِ اعجاز)

Junoon e mehram (S3 of ishq e mehram)By umm-e-omama Complete Novel

  • by

“سترہ سال چھوٹی ہے وہ تم سے”

“مجھے پروا نہیں ہے”

“زریام کبھی نہیں مانے گا”

“مجھے انکی اجازت نہیں چاہیے”

“حورم بھی نہیں مانے گی”

اسٹڈی روم میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی

”حورم مان جائے گی نہ مانی تو یہ اسکی اپنی غلطی ہے”

اسنے ضدی انداز میں کہا

“آپ جانتی ہیں نہ مام ڈیڈ ہمیشہ کہتے تھے کہ ارتضیٰ اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہے وہ غلط نہیں کہتے تھے میں واقعی میں اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہوں پھر چاہے وہ کوئی بےجان چیز ہو یا جاندار”

“حورم کوئی چیز نہیں ہے ارتضیٰ”

“بلکل وہ کوئی چیز نہیں ہے وہ ایک انسان ہے جس کے احساسات ہیں جذبات ہیں لیکن میں کیا کروں اسے چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے”

“وہ لڑکی میری سانسوں میں بستی ہے وہ میری سانسوں کی ڈور ہے اور اگر حورم شاہ ارتضیٰ آفندی سے دور ہوئی تو یہ ڈور ٹوٹ جائے گی”

اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے چلا گیا جبکہ وہ بھیگی آنکھیں لیے وہیں بیٹھی رہی

اسنے اور احسان نے ارتضیٰ کو ہمیشہ لاڈوں میں پالا تھا وہ ضدی بچپن سے تھا اگر کسی خواہش کا اظہار کردیتا تو اسے پوری کرکے دم لیتا تھا اسکی ضد پر ان دونوں نے کبھی کچھ نہیں کہا تھا

لیکن اگر حفضہ کو اندازہ ہوتا کہ اسکی یہ ضد آگے جاکر یہ روپ اختیار کرنے والی ہے تو وہ کبھی بھی اسکی بےجا ضد پوری نہیں کرتی

یہ کیسی محبت تھی جس میں وہ اپنی محبت کی خوشی ہی نہیں دیکھ رہا

یہ بات وہ اسے سمجھا نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ خود جانتی تھی کہ ارتضیٰ کے لیے حورم محبت نہیں تھی

اسکا عشق اسکا جنون تھی محبت ہوتی تو وہ شاید چھوڑ دیتا

لیکن وہ محبت نہیں تھی وہ اسکا پاگل پن تھی جسے وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا تھا

Ishq E Borzam (Season 2 Of Jaan e Bohram) by Sam Asif Complete novel

  • by

آئزہ کیا ہوا ہے؟

کچھ نہیں بس اندر گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اس لیے باہر آگئی

وفا کا سوال سنتے آئزہ مسکراتے بولی تو وفا بھی اس کے پاس آتی جھولے

پر بیٹھی تبھی باقی بچے(برزم،الیحا،برہان،ارمغان،روحیل،زوبیا،عارب،

حوریہ) بھی باہر آتے ان دونوں کے پاس اردگرد کے صوفوں پر بیٹھے

اسے کیا ہوا ہے؟

روحیل بھائی بابا کے ایک دوست نے آئزہ کا رشتہ بھیجا ہے اور بابا نے

انہیں ہاں بھی کر دی ہے اگلے ہفتے اس کی منگنی کی رسم رکھی ہے بابا

آج یہ بات سب کو بتانے والے ہیں بس اسی لیے اس کا منہ بنا ہوا ہے

روحیل کے سوال پر برہان فوراً بولا تو سب نے آئزہ کو مبارکباد دی جسے

آئزہ نے بجھے دل سے وصول کیا

کیا بات ہے پرنسیس کیا تم اس شادی سے خوش نہیں ہو؟

آئزہ کی خاموشی دیکھتے برزم فوراً اس کے پاس بیٹھتا اس کے گرد اپنا بازو

پھیلاتا بولا تو آئزہ نے سے جھکاتے نفی میں سر ہلایا

اور کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟

برزم بھائی مجھے یہ شادی نہیں کرنی

کیوں تم کیا کسی کو پسند کرتی ہو بتاؤ بتاؤ

آئزہ کے ہلتے سر کو دیکھ کر برزم نے سوال کیا تو آئزہ فوراً بولی جس پر حوریہ

ایکسائٹڈ سی ہوتی بولی

ہممم اگر ایسی کوئی بات ہے تو بتا دو میں بڑے بابا سے بات کر لونگا

نہیں بھائی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

آپ سب کو چھوڑ کر ابھی نہیں جانا

حوریہ کی بات سنتے برزم بھی مسکراتے بولا تو آئزہ نے فوراً جواب دیا جس

پر سب نے مسکراتے اسے دیکھا اس سے پہلے کے کوئی کچھ بولتا آئزہ فوراً

برزم کے سینے سے لگتی رونے لگی اور سب کو پریشان کر گئی

آئزہ یار کچھ نہیں ہوا ابھی تو ویسے بھی انگیجمینٹ ہو رہی ہے تو اس میں

رونے کی ضرورت نہیں ہے شادی ہم تمہاری مرضی سے کر لیں گے

جب تم کہو گی ہم بڑے بابا سے بات کر لیتے ہیں

سچ میں بات کرو گے نا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

Dosti ki ek lehr novel by Anusha Kiran Season 1

  • by

“یہ کیا ہو رہا ہے”

معیز نے پاس کھڑے ایک لڑکے سے پوچھا۔

“کسی لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ بائیک والے نے ہٹ کیا تھا اور فوراً بھاگ بھی گیا۔”

اس لڑکے نے بتایا۔

“ہمیں چل کے دیکھنا چاہیے”

ماہم ثناء اور معیز سے بولی۔

وہ تینوں آگے بڑھے تھے۔ ہجوم کے بیچ راستہ بناتے جب وہ آگے بڑھے تو شاہ کو وہاں دیکھ انہیں حیرت ہوئی تھی لیکن شاہ کے ساتھ انوشے کو دیکھ ان کا دل کٹ گیا تھا۔ شاہ نے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔ وہ خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سفید شرٹ خون سے لال ہو چکی تھی۔

“یہ…یہ کیسے شا…شاہ یہ”

ثناء شاہ کے ساتھ بیٹھتی انوشے کا چہرہ تھپتھپانے لگی تھی۔ معیز بھاگا ہوا پارکنگ کی طرف گیا تھا۔ گاڑی روڈ پر لاتے وہ شاہ کی طرف بڑھا تھا۔ آذان اور حماد بھی ماہم کے کال کرنے پر وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے بامشکل شاہ کو سنبھالا تھا۔

شاہ نے انوشے کو گاڑی میں ڈالا تھا۔ معیز ڈرائورنگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ ثناء بھی ان کے ساتھ تھی جبکہ پچھلی سیٹ پر شاہ نے بیٹھتے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

ہاسپٹل پہنچتے شاہ نے انوشے کو سٹریچر پر لٹایا تھا۔ انوشے کا چہرہ زرد اور ہونٹ سفید پڑ گئے تھے۔ سٹریچر اندر لے جاتے ہوئے بھی شاہ نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ آخر کار وہ اسے لے گئے جبکہ شاہ اپنا ہاتھ دیکھتا رہ گیا۔

“ادھر بیٹھ… تو دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا…کچھ نہیں ہوتا اسے وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی”

معیز شاہ کو سائیڈ پر لگے بینچز کی طرف لے جاتے بولا۔

“مع… معیز و..ہ… اسے کچھ ہوا تو میں…”

اس سے سہی طرح بولا نہیں جارہا تھا

“کچھ نہیں ہوگا… کچھ نہیں ہوگا…..

“she’ll be alright

معیز اس کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے بولا۔

کچھ دیر بعد ان کے باقی دوست بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔

“یہ لے پانی پی”

سہیل بوتل شاہ کی طرف بڑھاتے بولا تو شاہ نے نفی میں سر ہلایا

“میں کیسے کچھ کھا پی لوں جبکہ مجھے پتا ہے کہ وہ اندر تکلیف میں ہے۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوتی تب تک کچھ بھی نہیں چاہیے۔ مجھے یہاں تکلیف ہو رہی ہے “

شاہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے بولا

“ہمیں بھی تکلیف ہو رہی ہے تجھے ایسے دیکھ کر پلیز اسے نہ کر پانی تو پی لے نا۔ اپنی نہیں تو ہماری خاطر ہی سہی”

حسین کے بولنے پر شاہ نے اس کے ہاتھ سے بوتل تھام لی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے بامشکل دو گھونٹ اپنے اندر انڈیلے ۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

وہ شیشے سے اندر جھانک رہی تھی آنکھوں سے نکلتے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ آذان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ مڑی۔

“She’ll be fine”

وہ اسے تسلی دی بولا لیکن وہ جو اپنے اوپر ضبط کیے ہوئے تھی اب ہچکیوں سے رونے لگی۔

“شش …ٹھیک ہو جائے گی وہ۔ ایسے مت رو دعا کرو اس کے لیے”

Amanat season 2 by Sidra Kmal Complete novel download pdf

  • by

میں میں تمہارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں لیکن تمہیں پہلے وعدہ کرنا ہوگا

کیسا وعدہ ہانیہ ؟؟

یہی کے تم میرے بچوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاٶ گے۔۔۔

ہاہاہا

چلو منظور ہے ہانیہ

جیسے ہی ہانیہ حمزہ کے پاس پہنچتی ہے حمزہ غصے سے ہانیہ کو سر کے بالوں سے پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے

یہ تمہاری بھول ہے ہانیہ

کہ میں ان دونوں کو ایسے ہی چھوڑ دونگا۔۔۔۔یہ یہ دونوں مجھ اُس ایان کی یاد دلاتے ہیں

وہ ان دونوں میں زندہ ہے ہانیہ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب جب انہیں دیکھتا ہوں

ہانیہ نہایت سمجھداری سے کام لیتے ہوۓ حمزہ کی جیب سے بندوق نکال لیتی ہے

اور پھر حمزہ کے پیٹ پر زور سے کونی مار کر حمزہ کو خود سے دور کردیتی ہے۔

حمزہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور وہ حیرانی سے ہانیہ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو بلکل نڈر بندوق تھامے کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیا لگا حمزہ کے میں تمہاری بات مان گٸ ہوں ؟؟؟

میں تاحیات صرف اور صرف ایان کی ہی ہوں۔

جھوٹ اسی لیے بولا تاکہ اپنے بچوں کی حفاظت کرسکوں سمجھے ؟

حمزہ ہانیہ کی طرف بڑھتا ہوا کہتا ہے۔

ہانیہ اسے مجھے واپس دے دو یہ کوٸ کھلونا نہیں ہے۔

خبردار جو میرے قریب آۓ حمزہ

لیکن جب حمزہ نہیں رُکتا تو ہانیہ حمزہ کے پاٶں پر فاٸر کردیتی ہے۔۔۔

یہ دیکھ کر حمزہ کا ساتھی ہانیہ کو مارنے کے لیے فوراً اپنی بندوق نکالتا ہے لیکن حمزہ جلدی سے چاقو نکال کر اپنے ساتھی کے ہاتھ پر مارتا ہے۔

جس سے اُسکا ہاتھ کافی زخمی ہوجاتا ہے اور وہ اپنا توازن کھو دینے کی وجہ سے نیچے گرجاتا ہے۔

ہانیہ دیکھو اب بس بہت ہوگیا خود کو میرے حوالے کردو۔

ہانیہ حمزہ کے دوسرے پاٶں پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ میرے بچوں کو انکے والد کے ساۓ سے محروم کرنے کے لیے ہے۔۔۔

حمزہ درد کی شددت سے نیچے بیٹھ جاتا ہے

ہانیہ بس بہت ہوگیا مذاق یہ مجھ دو ادھر

میری دھڑکن کو اتنی بے رحمی سے قتل کرنا کیا مذاق تھا ؟

ہانیہ غصے میں حمزہ کے بازو پر فاٸر کرتی ہے۔

یہ ایک ماں کو اُسکی اکلوتی اولاد سے دور کرنے، ایک بیوی کو شوہر سے جدا کرنے ، اس ملک کے ایک جانباز سپاہی کا قتل کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔

ہانیہ ایسا مت کرو پلیز رک جاٶ

یہاں تمہیں بچانے والا کوٸ نہیں ہے

ہانیہ حمزہ کے دوسرے بازو پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ ہر اُس شخص کی طرف سے جن کو تمہاری وجہ سے تکلیف ہوٸ

حمزہ کے دونوں بازو اور ٹانگیں بری طرح زخمی ہوتی ہیں۔

بہت تڑپ رہا ہوتا ہے۔

تم میرے تڑپانا چاہتے تھے حمزہ زرا خود کودیکھو

میں اگر چاہوں تو تمہیں اسی وقت مار سکتی ہوں لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرونگی

تم قانون کے مجرم ہو مجھے کسی کی جان لینے کا کوٸ حق نہیں۔

ہانیہ جانے لگتی ہے تو حمزہ اپنی جیب سے دوسری بندوق نکالتا ہے اور کہتا ہے۔۔

اگر تمہارے ساتھ جی نہیں سکتا تو مرنا ہی سہی

Gum hain hum tery pyar main by Abdulahad Butt Complete Season 1

  • by

” کون ہو تم اور کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر ؟ ”
سادان اس شخص کی طنزیاتی آواز سنتا ہوا ایک لمحے میں ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔ اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا تو سامنے کھڑا شخص طنزیہ مسکرایا اور اس کی آواز صاف طور پر سادان درانی کے کانوں تک پہنچی تھی۔۔۔۔!
” میں کون ہوں ؟ دیکھنا چاہتے ہو تم ؟ ”
ایک آواز اس کے کانوں میں آئی تو سادان نے حیرانگی سے اس پرچھائی کی طرف دیکھا جو اندھیرے میں نظر آ رہی تھی!!!
وہ ایک لمحے میں ہی سادان کے بالکل سامنے آیا لیکن اندھیرا اس قدر چھایا ہوا تھا کہ سادان اب بھی اس شخص کا چہرہ دیکھ نہیں سکا تھا۔۔۔۔
” بوم !!! ”
اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے سادان کے تو جیسے ہوش ہی اڑ سے گئے تھے۔۔۔۔! اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ سامنے کھڑا شخص وہ ہو گا۔۔۔ جب کہ مقابل کی طرف ایک شوخ آواز اسے سننے کو ملی تھی۔۔۔۔
” و۔۔ج۔۔د۔۔ان ت۔۔م ؟ ” ( وجدان تم )
سادان نے حیرت انگیز انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے حیرانگی سے بھرپور لہجے میں کہا۔۔۔ اس کےکچھ الفاظ تو اس کے گلے میں ہی اٹک گئے تھے۔۔۔۔
جب ہی ڈان یعنی کہ وجدان درانی ایک قہقہ لگا گیا۔۔۔۔
” نو نو نو !!! وجدان نہیں ہوں میں یہاں پر ! یہاں پر تو میں ڈان ہوں۔۔۔۔ وجدان تو میں درانی ہاؤس میں یوں تمھیں شائید معلوم نہیں ہے”
وجدان کے اس روپ کو دیکھتے ہوئے ادان کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔۔۔ جیسے اسے اپنی آنکھوں اور کانوں سے سنی ہوئی باتوں پر یقین ہی نا آ رہا ہو !!!
” م۔۔طل۔۔۔ب ؟ ” ( مطلب )
وہ حیرانگی سے سوال کر گیا۔۔۔۔

Basil novel by Mahnoor Shahid Season 1

کچھ بتایا اس نے یا ابھی بھی زبان نہیں کھولی ؟ایک نظر وہ حسن پر ڈالتے ہوئے بولا

نہیں میجر ،اس نے کچھ نہیں بتایا ۔اس کے مطابق یہ نہیں جانتا یہ کس کے کہنے پر کام کر رہا تھا

انٹرسٹنگ !سعد مائنی خیز مسکراہٹ لیے بولا ۔۔اس دوران سات کے دونوں گالوں میں کچھ حد تک ڈمپلز نمایاں ہوئے ،وہ چلتے ہوئے سامنے موجود ٹیبل پر سے ایک فائل اٹھا کر واپس حسن کے سامنے کھڑا ہو گیا

جانتے ہو حسن اس میں کیا ہے وہ اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔حسن نے ایک نظر فائل پر دوڑائی اور سر نفی میں ہلایا

اس میں تمہارے انجام دیے گئے تمام گناہ درج ذیل ہیں اس میں تمہارے کالے کارناموں کی ایک طویل لسٹ موجود ہے جو تم ماضی سے لے کر اب تک سر انجام دیتے ائے ہو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں پھانسی ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ مرنے سے پہلے کوئی تو فائدہ پہنچاتے جاؤ اپنے ملک کو ۔۔

کس ملک کی بات کر رہے ہو میجر جس ملک میں ہم جیسے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہو ،جہاں کی گورنمنٹ خود اپنی عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں یا پھر وہ ملک جس میں انسان اگر جھوٹ کے خلاف اواز اٹھائے تو اسے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے ،جس ملک میں انسان رہتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اس ملک کے فائدے کی بات کر رہے ہو تم ؟؟

حسن مانا کے گورنمنٹ کچھ نہیں کر رہی لیکن ہمیں دیکھو ہم لوگ یہاں سرحدوں پر کیوں تعیینات کیے گئے ہیں تاکہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں ہم اپنے ملک کی عزت اور سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے ہر ایک فرد کے دل میں بھی اگر اتنا حوصلہ آ جائے نہ تو یقین مانو یہاں کی گورنمنٹ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔لیکن اس سے پہلے ہمیں خود پر اور ایک دوسرے پر یقین کرنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا ۔

حسن نے کہکا لگایا ،کیا کہا میجر تم نے۔ یقین ؟؟

چلو میجر یہ بتاؤ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس وقت تمہارے ساتھ اور تمہارے علاوہ جتنے بھی فوجی یاں جنرل یہاں کام کر رہے ہیں کیا وہ سب حق کے راستے پر ہیں، کیا ان کی سوچ بھی تمہاری سوچ کی طرح ملتی ہے بولو ؟

Berry brownie by Zunaira Bano Complete Novel Season 1

کچھ fantasy سا۔ جادوئی۔ سب سے الگ۔۔۔
ہاں ایسا سا ہی ایک ناول ہے۔ ایک جادوئی انوکھی کہانی۔ وہ disney کی موویز جیسی۔۔۔
لڑکا لڑکی کے رومینس، مذہب، پیار وغیرہ سے ہٹ کر۔
کچھ کردار جن کے نام مشکل ہوں گے۔ آپ کہیں کہ زنیرہ ہمیں تو ان کے نام کی یاد نہیں ہو رہے۔
لیکن بھئی یہ کہانی آپ کے لیے ہی تو لکھی ہے۔
شاید ابتدا میں سمجھنے میں مشکل ہو۔
لیکن میں نے اسے آسان ترین بھاشا میں لکھا ہے۔ خوب مزہ آۓ گا۔ ہاں مانا پیار وغیرہ اس کا تھیم نہیں لیکن پیار تو ہر جگہ آجاتا کے ناں۔
یہ کچھ لوگ ہوں گے جو سمندری سفر پر نکلے ہیں اور ان کے سفر میں نیا کچھ ہو گا؟
ایڈونچر کہتے ہیں ناں اسے۔۔۔ جادو اور جادو سے بھرے لوگ۔۔