Skip to content
Home » Social media writers » Aasia Khan

Aasia Khan

Kisi ka Khawab dekha ho by Aasia Khan Complete novel

  • by

“آج تو بتا دو کہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہو ہاں ؟ پہلے تو مجھے بولنے نہیں دیتی تھی” ۔” آج جب میری,۔۔ میری سماعت تمھیں سننا چاہتی ہےتوتم…. بولتی نہیں ۔” جب پھرجواب نہ دیا گیا توشکوہ تو بنتا تھا ۔چند لمحے وہ خاموش رہا۔

“ا بہت ظالم ہو گئی ہو مگر اتنی … اتنی ظالم نہ بنو ” اورپھر ایک شکایت محبوب کے کھاتے میں لکھ دی گئی ۔

“کہتے ہے کہ جو آنسو آنکھوں سے چہرے پر گرتے ہیں وہ انسان کے اندر کے غموں کو بھی اپنے ساتھ بہا دیتے ہیں، دِل ہلکا کر دیتے ہیں لیکن جو چہرے پر نہیں گرتے وہ دل پر گرتے ہیں اور جو دل پر گرتے ہیں وہ غم کو تازہ کر دیتے ہیں اور جب غم تازہ ہوتا ہے تودِل پہ لگے زخم بھی تازہ ہو جاتے ہیں”

“۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔یہ دنیا والے کیا جانے کہ دل کے زخم کتنے تکلیف دہ ہوتےہیں۔۔۔۔”

اسکے زخم بھی روز نئے سرے سے تازہ ہوتے تھے ۔