Skip to content
Home » Social media writers » Aina Noor

Aina Noor

Dar e mohabbat se humkinar nahi by Aina Noor Complete novel

  • by

آپ دونوں ہر جگہ بن بلائے مہمان بن جایا کرو”۔

” اوہ موٹی تم چپ کرو تم سے کوئی بات کر رہا۔ایویں ہر معاملے میں ٹانگ نہ گھسایا کرو۔ بابا ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے ” شاہ ویز بولا۔

“آپ کی ہمت بھی کیسی ہوئی مجھے موٹی کہنے کی، ایس پی کی بیٹی ہوں میں”۔

“اور میں کہاں سے موٹی لگتی ہوں اتنی پتلی تو ہوں میں” عاشی نے غصے سے کہا غصے سے عاشی کی چھوٹی سی ناک پھول گئی تھی۔

“میں بھی انہی کا بیٹا ہوں” شاہ ویز نے اس کی پھولی ناک دباتے ہوئےکہا۔

“اور تم پہلے موٹی ہی ہوتی تھی اب ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہوئی ہو ، تو خود کو زیادہ اوور سمارٹ نہ سمجھو اور اپنا یہ چھوٹا دماغ کم استعمال کیا کرو”۔

عاشی نے غصے سے شاہ ویز کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے وہ اس کی ناک دبا رہا تھا۔

“میں تو پھر ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہو گئی ہوں۔ آپ بھی کچھ کھا پی کر اپنی صحت بناؤ۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے تو مجھے ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی اس ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے، سڑا ہوا مینڈک نہ ہو تو” عاشی نے اس کی صحت پر چوٹ کی۔

“شاہ ویز اب تو تمہیں جم جوائن کر ہی لینی چاہئے” بالاج ہنستے ہوئے بولا۔

شاہ ویز نے بالاج کو غصے سے گھورا جس کا بالاج پر کوئی اثر نہ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭