Aj nain mila ke by Bint e Mehmood Complete novel
“ابراہیم! تم نے کیا کہا ہے ایسا جو وہ مرنے کے قریب ہو گئی ہے” سدرہ ایک بار پھر اسکے سامنے تھی۔
” اتنا تو میں جانتی ہوں جو ہوا ہے ان چار پانچ منٹوں میں ہوا ہے جب تم میرے پاس سے ہو کر گۓ ہو،مگر اتنی سی دیر میں تم نے ایسا کیا کہہ دیا ہے” وہ اسکی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ وہ ایسے تھا جیسے یہاں موجود ہی نا ہو۔
“ابراہیم وہ مر جاۓ گی تم خود ڈاکٹر ہو مجھے تمہیں بتانے کی ضرورت تو نہیں، اب کی بار بلڈ پریشر اگر بڑھا تو اسکے دماغ کی نس بھی پھٹ سکتی ہے” وہ بڑی مشکل سے اسکے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں لائی تھی۔
“وہ اس قدر stressed اور زندگی سے مایوس کیوں لگ رہی ہے ابراہیم ” ابراہیم نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا سدرہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
گہری سانس لیتے ہوۓ اس نے بولنا شروع کیا تھا ۔
اور وہ راز جو اسکے اور مہرین کے علاوہ کسی کو معلوم نا تھا اور اس کے علاوہ بھی سب کچھ سدرہ کے سامنے کھول کے رکھ دیا تھا،اس سے زیادہ وہ اس راز کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔
اس کی باتیں سنتے ہوۓ سدرہ کے چہرے کے تاثرات لمحہ با لمحہ بدل رہے تھے۔
“تو یہ وجہ تھی تمہاری شادی نا کرنے کی؟” ابراہیم اپنی آب بیتی سنانے کے بعد جوں ہی خاموش ہوا تھا سدرہ نے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
“دیکھو ابرہیم! اسے چھ ماہ ہوۓ ہیں تمہاری زندگی میں آۓ اور میری اس سے چند ملاقاتیں ہی ہوئی ہیں۔
میں نہیں مان سکتی کہ آئرہ کچھ غلط کر سکتی ہے،بلکہ وہ تو گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی۔






