Skip to content
Home » Social media writers » Bint e Mehmood

Bint e Mehmood

Aj nain mila ke by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“ابراہیم! تم نے کیا کہا ہے ایسا جو وہ مرنے کے قریب ہو گئی ہے” سدرہ ایک بار پھر اسکے سامنے تھی۔

” اتنا تو میں جانتی ہوں جو ہوا ہے ان چار پانچ منٹوں میں ہوا ہے جب تم میرے پاس سے ہو کر گۓ ہو،مگر اتنی سی دیر میں تم نے ایسا کیا کہہ دیا ہے” وہ اسکی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ وہ ایسے تھا جیسے یہاں موجود ہی نا ہو۔

“ابراہیم وہ مر جاۓ گی تم خود ڈاکٹر ہو مجھے تمہیں بتانے کی ضرورت تو نہیں، اب کی بار بلڈ پریشر اگر بڑھا تو اسکے دماغ کی نس بھی پھٹ سکتی ہے” وہ بڑی مشکل سے اسکے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں لائی تھی۔

“وہ اس قدر stressed اور زندگی سے مایوس کیوں لگ رہی ہے ابراہیم ” ابراہیم نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا سدرہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

گہری سانس لیتے ہوۓ اس نے بولنا شروع کیا تھا ۔

اور وہ راز جو اسکے اور مہرین کے علاوہ کسی کو معلوم نا تھا اور اس کے علاوہ بھی سب کچھ سدرہ کے سامنے کھول کے رکھ دیا تھا،اس سے زیادہ وہ اس راز کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔

اس کی باتیں سنتے ہوۓ سدرہ کے چہرے کے تاثرات لمحہ با لمحہ بدل رہے تھے۔

“تو یہ وجہ تھی تمہاری شادی نا کرنے کی؟” ابراہیم اپنی آب بیتی سنانے کے بعد جوں ہی خاموش ہوا تھا سدرہ نے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔

“دیکھو ابرہیم! اسے چھ ماہ ہوۓ ہیں تمہاری زندگی میں آۓ اور میری اس سے چند ملاقاتیں ہی ہوئی ہیں۔

میں نہیں مان سکتی کہ آئرہ کچھ غلط کر سکتی ہے،بلکہ وہ تو گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی۔

Mere pas raho by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“فروا! یہ کیسے وہ کیسے مان گئی شادی کے لیے” وہ فروا اور زینی کے مشترکہ کمرے میں آیا تھا۔

اس سے پہلے کے فروا کوئی جواب دیتی زینی واشروم سے نکل کر آئی تھی اور حنید سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوتے ہوئی گویا ہوئی تھی۔

“ہاۓ ۔۔حنید صاحب آپ سا مظلوم بھی کوئی ہو گا،جس لڑکی سے پیچھا چھڑوانے کے لیے آپ نے اسکی عزت نفس روند ڈالی وہ لڑکی پھر بھی آپ کے متھے منڈھی جا رہی ہے۔۔۔چچ افسوس”

“آپ بھی سوچتے ہوں گے کیا ڈھیٹ لڑکی ہے” وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔

“زینی ایسی بات نہیں ہے،میں کبھی بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ میری شادی تم سے نا ہو،مگر اس دن کے بعد سے مجھے لگا تھا کہ تم انکار کر دو گی،لیکن تم نے انکار نا کر کے مجھے کتنی خوشی اور زہنی سکون دیا ہے تم نہیں جانتی” وہ بیڈ کے سامنے دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔

فروا ان دونوں کے درمیان خاموش تماشائی تھی۔

“میں کیسے انکار کرتی فروا۔۔؟” اس نے اپنے برابر بیٹھی فروا کی طرف دیکھا تھا۔ “یہ نکاح تھا کوئی منگنی تو نا تھی جو انکار کرنے سے ٹوٹ جاتی،انکار کا تو آپشن ہی نہیں ہے میرے پاس” وہ طنزیہ ہنسی تھی۔

“اور اگر آپ کا بھلا کرتے ہوۓ اس نکاح کو ختم کرنا بھی چاہوں تو کیا جواز دوں،بتائیں؟” اس نے حنید کی طرف دیکھا تھا۔

اور حنید نے نظریں جھکا لی تھیں۔

“اور اگر جواز بتاۓ بغیر نکاح ختم کروں یا ساری بات اپنے اوپر لے لوں تو میری ماں ایک لمحہ نہیں لگاۓ گی مجھے اس گھر سے نکالنے میں،بلکہ آئندہ کبھی میری شکل بھی نا دیکھے گی ۔” اس نے تلخ لہجے میں کہا۔

“تو یہ آپ کی بدقسمتی ہے کہ آپ کو یہ شادی کرنی ہی پڑے گی” اس نے پھر حنید کی طرف دیکھا تھا۔

“زینی! ایسے مت کہو ۔۔۔ تم میری بیوی ہو یہ میری خوش قسمتی ہے،میں نے بچپن سے تمہیں اور صرف تمہیں سوچا ہے اس حوالے سے،میں جانتا ہوں میرا رویہ کبھی بھی حوصلہ افزانہیں تھا وہ میری نیچر ہے۔

مگر ا اس دن میں نے جو بکواس کی i di’nt mean it میرا یقین کرو،وہ بس ایک moment تھا میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا” وہ اسے پھر سے یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔

“پلیزجو ہوا بھول جاؤ، پلیز زینی i am sorry…i really am”اس نے یقین بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

مگر زینی کی نظریں ہر احساس سے خالی تھیں

Humrah by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“ہاں ہالہ، یہ کیا کہہ رہا ہے شاہ نواز؟؟

ایک بات سن لو میری اگر اس نے تمہیں چھوڑ دیاتو میرے پاس آنے کی زحمت بھی مت کرنا” اسکے ہیلو کہنے سے پہلے وہ شروع ہو چکے تھے۔

” بتایا ہے ا س نے مجھے ، اپنی ماں کی طرح نکلی تم بھی اس نے بھی کبھی میرا ساتھ نہیں دیا تھا۔

تم بھی اسی کی طرح شوہر کو خاطر میں نہیں لاتی ہو۔

تمہیں بھی جانے دیتا میں اس دن تمہاری ماں کے ساتھ، جیسے ژالے چلی گئی تھی”وہ آگے اور بھی کچھ کہتے رہے تھے۔

مگر اس کا دماغ ماں اور ژالے میں اٹک گیا تھا۔

اسکی ماں کہاں تھی؟؟

اور ژالے کون تھی؟؟

اس سے پہلے کے وہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتی، علی الصبح اسے طلاق کی رجسٹری موصول ہوئی تھی۔

جس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے وہ گھر چھوڑ دیا تھا۔

چلتے چلتے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی ۔

وہ پاس سے گزرتی ایک بس میں سوار ہو گئی تھی۔

یہ جانے بغیر کے اسکی منزل کیا ہو گی

“کل بازار میں تم نے اسی کو دیکھا تھا نا؟” اس کے پوچھنے کی دیر تھی۔

اور ہالہ کا اپنے آنسوؤں پر اختیار نہ رہا تھا۔

“اوہوں ۔۔۔رونا نہیں جو کہنا ہے آج کہہ دو،وہ کیا چیز ہے جو تمہیں مکمل خوش نہیں ہونے دیتی؟؟

نکال دو آج اس پھانس کو” اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اس نے کہا تھا۔

کچھ توقف کے بعد اس نے بولنا شروع کیا۔

“میں تین سال تک ایک abusive marrige میں تھی۔۔۔” شروع سے لے کر اس دن تک سب کچھ اسنے کھول کر زید کے سامنے رکھ دیا تھا۔

آگے اسکی مرضی چاہے تو اسکے ماضی سمیت اسکو سمیٹ لے،چاہے تو ٹھوکر مار دے۔

“تم جب یہاں آئی تھی تو مجھ سے پردہ کرتی تھی۔کیا تم اپنی عدت پوری کر رہی تھی؟” زید نےپوچھا تھا۔

اور اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“بس مجھے اور کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

تمہارا یہ ایک عمل ہر وضاحت پے بھاری ہے،مجھے تمہاری کہی ہر ایک بات پر یقین ہے ہالے” اس نےمضبوط لہجے میں کہا تھا۔

اورہالے نور تو جیسے آج خود اپنی نظروں میں معتبر ہو گئی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Zindagi shajar aur main by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“ماہا تم کب تک اپنا وقت ضائع کرتی رہو گی” میں نے فون اٹھاتے ہی پوچھا تھا۔

“جب تک آپ مان نہیں جائیں گے”اس کا اطمینان قابل دید تھا۔

“میں کبھی بھی نہیں مانوں گا” میں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

“مجھے یقین ہے آپ مان جائیں گے”اس نے فورا کہا تھا۔

“میں مان بھی جاؤں تب بھی ایسا نہیں کروں گا۔

میں اپنے پیشے اور ادارے پر کسی کی اٹھی انگلی برداشت نہیں کر سکتا” میں نے تھکے ہوۓ انداز میں کہا تھا۔

“آپ ایک بار ہاں بول دیں میں یونیورسٹی جانا چھوڑ دوں گی۔

کلاس میٹس سے نہیں ملوں گی کسی کو پتا ہی نہیں چلے گا’اس نے کہا تھا۔

اس کی بات پر میں کچھ پل کو خاموش ہو گیاتھا۔

“اور اگر تمہارے گھر والے نا مانے تو۔۔۔

کیا تم ان کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی کر لو گی؟” میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس حد تک جا سکتی ہے۔

“ایسا نہیں ہو سکتا کہ بابا میری کوئی بات نا مانیں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔

“اگر ایسا ہو جاۓ تو” میں نے پوچھا تھا۔

“نہیں ہو سکتا”

“فرض کر لو”

“جس چیز کا مجھے معلوم ہے،میں خوامخواه کیوں فرض کروں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔

“اچھا تمہارے بابا تو مان جائیں گے اور اگر تمہاری امی نا مانیں تو”؟پتا نہیں یہ سب میں اس سےکیوں پوچھ رہاتھا ۔

Kari dhoop ke baad by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“معاذ!!لیکن وہ کیوں آیا تھا؟

“پتا نہیں ،اسے آریز چھوڑ کے گیا تھا۔”مہر کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی۔

“تو اس وقت فارس تمہاری کلاس میں تھا” امی نے پوچھا۔

اس نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

“میں نے اسے پورے دو ماہ بعد آج دیکھا وہ میرے ساتھ تھا۔

میرے بالکل قریب ،میرے گھٹنے پر ہاتھ رکھے مجھے پکار رہا تھا۔اور میں ایسی بدنصیب اسے گود میں اٹھا کر پیار بھی نہیں کر سکی”۔ وہ پھر سے سسکنے لگی تھی۔

وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی،اس کی چیخیں یوں لگ رہا تھا عرش ہلا رہی ہیں۔

اتنی تڑپ۔۔۔۔۔

اتنی شدت۔۔۔۔

وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

وہ فیصلہ جو ڈیڑھ سال سے وہ نہیں کر پا رہا تھا،ان چند لمحوں میں اس سے ہو گیا۔

کیا دیوار پارکے لوگوں کو مہر پر رحم آ گیا تھا۔۔؟؟

یا اس کی مامتا پرترس کھایا گیا تھا؟؟

وہ جس طرح خاموشی سے آیا تھا اسی طرح خاموشی سے واپس کو مڑ گیا ۔اور دروازہ اسی طرح مقفل کر دیا جیسے اب سے کچھ دیر پہلے تھا۔

جبکہ دوسری طرف مہر معاذ کو پیار کرتی جاتی تھی اور بھیگی آنکھوں سے ہنستی جاتی تھی۔

Kahani ek ghar ki by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“اور حاضرین محفل یہ بات جان کر آپ کو نہایت حیرانی ہو گی کہ آپ سب کے درمیان ایک لکھاری۔۔۔

یعنی کے رائٹر۔۔۔

یعنی کے ناول نگار موجود ہے۔

ہاں جی۔۔۔”

فائزہ نے بات مکمل کرنے کے بعد حاضرین پر نظر ڈالی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ سب منہ کھولے اسے ہی تک رہے ہیں۔

ارے کیا ہے بھئ سچ کہہ رہی ہوں میں بلکل!پلیٹ سے بیر اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوۓ اس نے کہا

“اچھا تو کون ہے وہ؟”

سب سے پہلے سوال پوچھنے والا اور کون ہو سکتا تھا ابو بکر کے علاوہ، جو خود کو “ایکسٹرا” ہی جینئس سمجھتا تھا اور سکول و کالج کے بعد اب یونیورسٹی میں بھی اساتذہ سے سوال کر کر کے ان کے دماغ کی چولیں ہلانے میں کسر نا چھوڑتا تھا۔

ہاں ہاں بتاؤ نا کون ہے وہ؟ سب یک زبان ہو کر بولے، ماسواۓ انشا کے۔

“وہ ہیں۔۔۔”

نیوز اینکر کے سٹائل میں ہاتھوں کو ہلا ہلا کر (بلاوجہ) اور چہرے پر بھر پور سنسی کے تاثرات سجاتے ہوۓ فائزہ نے دو سیکنڈ کا pause لیا تھا۔۔

“ہماری پیاری راج دلاری انشا اعظم۔۔۔۔”

بات کے اختتام پر تالیاں بجا کر اس نے داد طلب نظروں سے حاضرین محفل کو دیکھا۔

جن سب کی نظروں کا واحد مرکز انشا تھی۔

اور انشا،فائزہ کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوۓاُس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے پچھلی رات باتوں ہی باتوں میں فائزہ کو یہ بات بتائی تھی۔

“لیکن تم کہاں لکھتی ہو انشا؟؟”

“کسی اخبار میں۔۔۔۔؟؟

یا وہ جو خواتین کے شمارے ہوتے ہیں ان میں لکھتی ہو؟؟”