Skip to content
Home » Social media writers » Gul Sania

Gul Sania

Yaqeen ka safar by Gul Sania Complete novel

  • by

باجی آپ کی شادی ہوگئی یا رشتہ وغیرہ، وہ ناں دراصل میرا بھائی ہے، اس کے لیے ہم رشتہ دیکھ رہے ہیں تو ناں مجھے آپ میرے بھائی کے لیے بہت بہت پسند آئی ہیں۔ ( عالیہ نے اک سانس میں سب بول دیا جیسے کہ نور اس کے سامنے سے غائب ہی نہ ہوجائے )

نور :” نور حیرت کے مارے عالیہ کو اور اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ( اللہ جی یہ کیا آفت آئی ہے تھوڑی سی ہائے ہیلو کیا کر لی یہ تو گلے پڑ گئی اب میں کیا کروں؟ ) نور دل ہی دل میں بڑبڑائی ۔”

عالیہ: باجی کیا ہوا کہاں کھو گئیں آپ؟

نور: “ہاں، ہاں، نہیں، نہیں، میرا مطلب ہے کچھ بھی تو نہیں ہوا “

عالیہ: “باجی آپ نے بتایا نہیں “؟

نور : وہ نہ اصل میں میری شادی ہوگئی ہے ( نور کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا بولے جو زبان پر آیا بنا سوچے سمجھے بس بولتی گئی) ، ہاں ہوگئی ہے نور نے روتا ہوا منہ بنا کر بتایا ” میرا اک بچہ بھی ہے ۔ ( اللہ جی سوری آئی نو میں نے بہت بڑا جھوٹ بولا ہے ) نور دل ہی دل میں بولی۔

عالیہ:” ٹیڑھا منہ بنا کر نور کو گھورے جا رہی تھی ،نور جو ویلوٹ کے بلیک فراک اور ساتھ ہی میچنگ پاجامہ اور ساتھ سکن حجاب اور بڑی بلیک شال میں نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی بے داغ چہرہ، لمبی گھنی پلکیں نیچرل گلابی ہونٹ۔ اسے دیکھنے میں ہی کہیں سے لگ ہی نہیں رہا کہ یہ خوبصورت لڑکی شادی شدہ اور اک بچے کی ماں ہے “

لیکن باجی آپ کو دیکھ کر لگتا تو نہیں ہے؟

نور : بس میں نے اپنا خیال بہت رکھتی ہوں اس لیے نہیں لگتا سب ہی ایسے بولتے ہیں ہاہاہا ، ( اللہ جی پھر سے سوری لیکن میں کیا کروں؟ )

اچھا عالیہ آپ بیٹھیں میں واش روم سے ہو کر آئی( نور کو یہی بہانا ملا ادھر سے بھاگنے کا )