Aakhir kab tak by Hafsa Bint-e-Waqas Complete novel download pdf
میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ انکی مدد کی جائے مگر اس سے پہلے میں تمام مسلمانوں کو بری طرح جھنجھوڑنا چاہتی ہوں کہ وہ اٹھ کیوں نہیں جا تے آخر۔ وہ اپنی خودی کو اینستھیزیا دے کر کیوں روز سلا دیتے ہیں۔ اسکو بیدار کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ میں اللہ پر توکل رکھتی ہوں لیکن صرف توکل سے کچھ نہیں ہوتا۔ پہلے کچھ کرنا پڑتا ہے اور پھر توکل کرنا ہوتا ہے۔ سب مسلمانوں سے درخواست ہے کہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے کچھ کریں۔ قطرہ قطرہ ہی تو سمندر بنتا ہے۔ ایک شخص اٹھے گا تو دس اور اٹھیں گے اور پھر سو اور پھر ہزار۔ اے مسلمانوں قیامت کے دن حضرت محمدﷺ کو کیا منہ دیکھاؤ گے۔ اٹھو اور اٹھو۔ کفار مسلمانوں سے ڈرتے ہیں مگر انکو یہ یقین ہے کہ ہم کبھی نہیں اٹھیں گے۔ اور انکے اس یقین کو ہم ہی مظبوط کر رہے ہیں۔ مسلمانوں وہ ہم پر ہنستے ہیں اور ہم انکو خود پر ہنسنے دیتے ہیں۔ کیا ہمیں شرم نہیں آتی۔ شرم کھاؤ مسلمانوں۔۔۔ شرم کھاؤ۔۔۔ افسوس ہے اپنی تلوار پر جو نیام کی زینت بنی بیٹھی ہے۔
اس کو لکھنے کا مقصد بس ایک ہی ہے۔ جنگ سے زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پہلے زندگی کیسی ہوتی ہے اور اسکے بعد۔ بہت سی باتیں اس میں میں شامل نہیں کرسکی۔ انکی تکلیف کو میں لفظوں بیان نہیں کر سکتی۔ وہ جس دکھ درد بھوک اور افلاس سے گزر رہے ہیں اس سب کے ہم برابر شراکت دار ہیں۔ میں فلسطینیوں بہن بھائیوں سے بے انتہا شرمندہ ہوں۔
