Khoobsurat safar by Hania Noor Asad Complete novel
میری زندگی سے مصیبتیں کب ختم ہونگی ماما مجھے کب سکون ملے گا؟ میرے نصیب میں آنسو ہی آنسو لکھ دیے گئے ہیں۔ وہ سویرا بیگم کی گود میں منہ چھپائے بری طرح رو رہی تھی۔ مسلسل تین ماہ سے وہ جاب کے لیے خوار ہو رہی تھی اسے جاب مل کر نہیں دے رہی تھی۔ بس میری بچی ۔۔۔ اللہ پر بھروسہ رکھو مل جائے گی جاب ۔ اور تمہیں کس چیز کی کمی ہے جو تمہیں جاب کرنی ہے؟ سویرا بیگم نے اسکا چہرہ سامنے کیا ۔ ضرورت؟ ماما جان ضروریات زندگی! ساری عمر میں زمل ارسلان ہی رہوں گی؟ کبھی بدل نہیں سکتی ؟ میرا کوئی کرئیر کوئی فیوچر نہیں ہے؟ وہ بہتی آنکھوں سے سویرا بیگم کو دیکھ رہی تھی۔ میری جان صبر کرو ان شاءاللہ جلد تمہیں جاب ملے گی ۔ انہوں نے اسکے آنسو صاف کیے۔وہ دوبارہ انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔ کاش میں کسی امیر شخص کی بیٹی ہوتی۔ اس نے سسکتے ہوئے کہا اور سویرا کا دل لرز اٹھا۔ کچھ دیر بعد زمل سو گئی ۔ سویرا نے اسکا سر تکیے پر رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میری جان تم ایک امیر انسان کی ہی بد نصیب اولاد ہو ۔ سویرا نے اس پر کمفرٹ برابر کرتے ہوئے دل میں کہا تھا۔
