Skip to content
Home » Social media writers » Mahnoor Rasheed

Mahnoor Rasheed

Adhoora man by Mahnoor Rasheed Complete novel

  • by

عمریں گزر جاتی ہیں مگر من ادھورے رہتے ہیں۔

” غم ہلاک کر نے آجاتا ہے، اگر کبھی خوشیاں آبھی جائیں روشنی کے باوجود بھی اندھیرے ختم نہیں ہوتے ۔چند روزوصال کے بدلے صدیوں کا ہجر مل جاتا ہے ۔ تب چہرے نامکمل ہی رہتے ہیں۔ پھر خوشیاں بھی چہرے کے مسخ حصے کو واپس نہیں لا سکتیں ۔سب ادھورا رہ جاتا ہے۔ “وہ ویران آنکھیں پینٹنگ پر جمائے اس کی خدوخال بیان کر رہی تھی۔ جبکہ وہ پس پردہ ہر غم کا محرم تھا ۔

’’شاندار لڑکی۔ بائی دا وے۔ اس پینٹنگ کا ٹائٹل کیا ہے؟” اس لڑکی کا تجسس بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔ مرحا نے پلٹ کر برف نظر ریحان پر ڈالی۔ وہ اب بھی نظر زیر کیے کٹہرے میں کھڑا تھا ۔

اب وہ لڑکی مرحا سے باتوں میں مصروف تھی۔ وہ اس سے پینٹنگ سے متعلق گفتگو کر رہی تھی۔ اس تصویر میں وہ لڑکی کتنی ادھوری اور کتنی نامکمل لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے سے کتنی مایوسی اور دکھ جھلک رہا تھا۔ کتنی نامکمل تھی وہ تصویر۔ مگر اس کے اس آدھے چہرے سے سب مکمل طور پر عیاں تھا۔اس نے غور سے دیکھا تھا، تو تصویر کے نیچے چند الفاظ نے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔

’’پتھروں تلے پسا کانچ سا من ‘‘وہ چونک کر اسے دیکھ رہا تھا۔