Skip to content
Home » Social media writers » Maryam Qaiser

Maryam Qaiser

Hijab e haya by Maryam Qaiser Complete novel

  • by

اوئےے زینی یہ کیا ہوا ہے سر پہ آریان پریشان ہوتا بولا تھا کچھ نہیں بس زرہ سی چوٹ ہے چل کلاس میں چلے زایان آگے بڑھنے لگا تو آریان نے شرٹ سے کھینچ کر روک لیا پہلے مجھے بتا کیا ہوا ہے یہ اور تجھے یہ زرہ سے چوٹ لگ رہی ہے آریان زایان کا سر پکڑ کے اِدھر اُدھر کر کے دیکھنے لگا

ارےےے آن چھوڑ دے کچھ نہ بھی ہوا تو تب بھی کچھ کر دے گا

اچھا پھر خود ہی بتا دے کیا ہوا کسی سے لڑا ہے تو

یاررر آن کل کچھ لڑکے ایک لڑکی کو تنگ کر رہے تھے تو بس غصہ آگیا

ہاں غصہ آگیا اور تو خود ان سے پٹ کر آگیا آریان نے حیرانی سے زایان کو دیکھتے ہوئے بولا

تجھے کس نے کہا میں پٹا ہوں وہ تو بھاگ نہیں پا رہے تھے مجھ سے جان چھڑا کے تو اینٹ اٹھا کر مار دی مجھے اور بھاگ گئے ڈرپوک کہیں کے زایان نے اپنا کالر ٹھیک کرتے ہوئے اس انداز میں بولا جیسے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔

اچھا چل اب آج میرا موڈ بہت اچھا ہے کلاس میں چلتے ہیں اور زایان کلاس کی طرف بڑھ گیا

اففف زینی آج تجھے اتنی جلدی کیوں ہے کلاس میں جانے کی

بس ویسے ہی وہ۔۔ وہ۔ دو مہینے بعد ایگزیمز ہیں نہ اس لیے کوئی لیکچر نہ مس ہو جائے چل اب زیادو سوال نہ کر