Skip to content
Home » Social media writers » Misbah Noor

Misbah Noor

Noor e haram by Misbah Noor Complete novel

  • by

“نورِ حرم از مصباح نور – روحانی سفر، محبت اور تقدیر کی دلکش داستان”

“نورِ حرم” ایک ایسی کہانی ہے جو محبت، روحانیت اور تقدیر کے پیچیدہ راستوں کو بیان کرتی ہے۔ مرکزی کردار نورِ حرم ایک ایسی لڑکی ہے جو اپنے رب کے قریب بھی ہے اور کہیں نہ کہیں خود کو دور بھی محسوس کرتی ہے۔ دوسری طرف کہانی میں ایک سخت مزاج اور ضدی شہزادہ موجود ہے، جو اپنی دنیا کا مالک ہے اور کسی کی نہیں سنتا۔

یہ ناول نورِ حرم اور اس شہزادے کے درمیان پیدا ہونے والے جذبات، ان کی آزمائشوں اور تقدیر کے غیر متوقع موڑوں کو بیان کرتا ہے۔ کیا نورِ حرم کا دل اس سخت مزاج شخص کو بدل سکے گا؟ کیا یہ دو مختلف دنیاؤں کے لوگ ایک دوسرے کے نصیب میں لکھے جا چکے ہیں؟

“نورِ حرم” ایک منفرد اور دلکش کہانی ہے جو روحانیت، محبت اور زندگی کے معنی تلاش کرنے والوں کے لیے ایک یادگار مطالعہ ثابت ہوگی۔

************

Mera ishq mere rab tak by Misbah Noor Complete novel download pdf

  • by

سراب بچے اب نقاب اتار دو وہ چلے گئے ہیں ۔ زین نے مسکرا کر کہا۔

آپ تو یہاں موجود ہیں نہ بھائی۔ سراب نے دھیرے سے کہا۔

کیا مطلب ہے تمہارا میں باہر والا ہوں جو مجھ سے بھی ایسے نقاب کرو گی اب۔ زین نے تیز آواز میں کہا۔

اور کیا میرا شوہر ایسا ویسا ہے جو تم ایسے بول رہی ہو باہر والے مردوں کے سامنے تو بڑا جسم کی نمائش کرتی تھی جینس شرٹ اور اسکرٹ پہن کے گھومتی تھی اور آج اپنے ہی بھائی سے پردہ کر رہی ہو واہ سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔۔۔ ارم نے بہت تیز آواز میں بہت تیکھے الفاظ کہہ دیۓ تھے۔

بس بھابھی۔ ابراہیم کی آواز سے جہاں ارم ڈری تھی وہیں پاس کھڑی سراب بھی ڈر گئی تھی۔

ایک لفظ بھی اگر میری بیوی کے بارے میں کہا تو میں بھول جاؤں گا کہ آپ میری بھابھی ہیں۔

میں نے کچھ غلط نہیں کہا بس سچ کہا ہے۔ ارم ابھی بھی تیز آواز میں بول رہی تھی۔

وہ جو بھی پہنتی تھی جو کرتی تھی اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ وہ جو کر رہی ہے بلکل سہی کر رہی ہے یہ سب ا اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جب چاہے جیسے چاہے ہدایت دے سکتے ہیں اور پھر بھائی اس کے محرم تو نہیں ہیں تایا زاد بھائی ہیں نامحرم ہے پردہ جائز ہے آپ کون ہوتی ہیں بیچ میں بولنے اور اب میری بیوی کے پردے کے لیے میں کچھ بھی کر جاؤں گا وہ میری آدھی عبادت ہے اور میں اسکی آدھی عبادت باقی کی آدھی عبادت وہ خود کر رہی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے ۔