Skip to content
Home » Social media writers » Page 125

Social media writers

Rah e nijat by Farah Khan Complete novel

  • by

اٹھا لو بیچاری کی کال ۔۔وہ اس کی طرف دیکھ کر کہہ رہا تھا

میں کیسے بتاؤں زاویار وہ شخص مجھ آپ سے دور لے جا رہا ہے ۔۔۔آمنہ اسے دیکھتے ہوئے اپنے دل میں کہنے لگی

کیا ہوا اٹھاؤ ۔۔؟ زاویار نے پھر کہا آمنہ نے فون اٹھا ہی لیا تھا اسے شاہ ویز کی ہی کال آئی تھی وہ کمرے سے باہر نکل کر اس سے بات کر رہی تھی ۔۔

میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں جلدی آو ۔۔شاہ ویز نے غصے میں اسے کہا یہ سن کر آمنہ کا پورا وجود جیسے لرزانے لگا تھا

پلیز ایسا نا کریں میں بھیک مانگتی ہوں آپ سے چھوڑ دیں میرا پیچھا ۔۔آمنہ اس کی منت کر رہی تھی اور وہ چلانے لگا

تیس منٹ ہیں تمھارے پاس ان تیس منٹ کے اندر اندر اگر تم نا آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا اور اس بار میں تمھارے شوہر کو دنیا سے ہی بھیج دوں گا ۔۔ایک آخری بار اسے دھمکی دیتا وہ کال کاٹ گیا آمنہ وہی کھڑی آنسوں بہانے لگی وہ پھر اللہ سے دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔

نم آنکھوں سے وہ دوبارہ کمرے داخل ہوئی زاویار ابھی تک جاگ رہا تھا آمنہ اس کے سونے کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔وہ بےحد پرشان تھی وہ اسے بتا بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ شاہ ویز نے اسے دھمکی دی تھی۔۔

گڈ نائٹ ۔۔۔زاویار مسکرا کر آمنہ کا ماتھا چومتا لیٹ گیا تھا آمنہ کا دل اتنا تیز دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل آئے گا

تقریباً بیس منٹ کے بعد

آمنہ آہستہ آہستہ بیڈ سے اٹھتی حنین کا ماتھا اس کے دونوں گال چومتی وہ اب زاویار کی سائیڈ آئی تھی ۔۔

وہ زمین پے بیٹھ گئی ۔۔

مجھے معاف کر دینا زاویار میں آپ سے بہت دور جا رہی ہوں مجھے یہ کرنا پڑ رہا ہے ہمارے لیے اس فیملی کے لیے اگر میں نے ایسا نا کیا تو وہ آپ کو مار دیں گے اور میں آپ کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی اپنی آمنہ کو معاف کر دینا پلیز ۔۔وہ دھمی آواز میں کہتی آنسوں بہا رہی تھی ۔آمنہ چاہتی تو اب بھی اسے بتا سکتی تھیں لیکن اسے ڈر تھا کے کہی شاہ ویز زاویار کو مار نا دے۔۔آمنہ کا یہی ڈر اسے زاویار سے دور لے جا رہا تھا۔

Ghayat ul sabar by Sundas Mansoor Complete novel

  • by

دیکھیں میں جانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے بلکہ گناہ ہوا ہے لیکن یقین جانیں میں لیل کو پہلے بھی پسند کرتا تھا اور امی سب جانتی تھیں آپ چاہیں تو اُن سے خود پوچھ لیں لیکن یہ پسندیدگی محبت میں تب بدلی جب میں بد قسمتی سے وہ گناہ کر چکا تھا

عتیق اُٹھ کے زلیخا بیگم کے پاس آ گیا تھا ان کی حیرانی بھانپتے ہی اُن کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے تفصیل سے اپنی بات کہہ دی

عتیق یہ نہ ممکن ہے اس دن بھی اور آج ابھی باہر بھی تم خود سے متعلق ارمغان کی نہ پسندیدگی دیکھ چکے ہو

زلیخا بیگم اپنے دونوں ہاتھ بہُت آہستگی سے عتیق کے ہاتھوں سے چھوڑاتی بولیں

خالہ میں جانتا ہوں آپ خالو سے تو بات کریں ارمغان کو میں خود منا لوں گا اس کے پیر بھی پکڑنے پڑے تب بھی بنا کسی ہچکچاہٹ کے پکڑ لوں گا لیکن پلیز میں لیل کو کھونا نہیں چاہتا

عتیق بہت بے بسی سے زلیخا بیگم سے کہہ رہا تھا کہہ کہاں رہا تھا بلکہ ایک درخواست گزار کی طرح درخواست کر رہا تھا

Youn mil gay raaste by Humail Kazmi Complete novel

  • by

ہم جب اللہ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہیں تو سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ہونے ہمارے لیے فرحت و انبساط کا باعث ہوتا ہے ۔ان کے ساتھ گزرے لمحے زندگی کے صفوں پر ہمیشہ کے لیے سنہری لفظوں میں درج ہوتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک جینے کی وجہ ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ آپ کو زندگی کے اندھیروں سے روشنی کے نور کی طرف لاتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر محض لفظوں سے ادا کرنا ممکن نہیں۔

Ishq e kamil by Toqeer Zahra Complete novel

  • by

یار تمہیں یاد ہے جب اس طرح پہلے میں تمہیں شادی کرنے کے بعد گھر لے کے جا رہا تھا تو تم کتنا غصہ تھی مجھ پر۔۔۔اور آج دیکھو کیسے شرما رہی ہو ۔۔۔جون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

ویسے مجھے لگتا ہے میں اس دنیا میں اکلوتا بندہ ہوں جسکی دو شادیاں ہوئیں اور وہ بھی ایک ہی لڑکی سے۔۔۔

آپ اکلوتے نہیں ہیں۔۔۔۔زہرا آخر کار کچھ بولی ۔۔۔

اچھا تو اور کون ہے ایسا؟؟؟

میں ۔۔۔میرے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا ۔۔۔۔میری بھی دو شادیاں ہوئیں ایک ہی بندے سے۔۔۔۔اور وہ دونوں ہی ہسنے لگے۔۔۔۔۔

Qalab e sakoon (Season 2 of Ishq e noor) by Rida Fatima Complete novel

  • by

“قلبِ سکون” ایک رومانی اور پیچیدہ کہانی ہے، جس میں انس قریشی اور اروبا سکندر کے کردار مرکزی ہیں۔ انس قریشی، نیویارک سے آیا تھا، اور اس کی کزن اروبا سکندر، جو “عشقِ نور” کے کردار ابرام سکندر کی بیٹی ہے، خدا کے قریب تھی۔ ابتدا میں انس کا دل دور تھا، مگر وہ اروبا کی محبت میں مبتلا ہو گیا۔

کہانی میں انس قریشی کی ہدایت، اروبا سکندر کی محبت اور ہارون ابراہیم کی ادھوری محبت بھی شامل ہیں۔ ہارون ابراہیم، جسے دو بار محبت ہوئی اور دونوں بار ناکام رہا، اس کہانی کا ولن بن گیا۔ وہ پہلے اروبا سے نفرت کرتا تھا، مگر پھر اس کا دل اس کی طرف مائل ہو گیا۔

انس، جو ابتدا میں اروبا کو پسند نہیں کرتا تھا اور بس اسے تنگ کرتا تھا، آخر کار اس کے دل کا سکون بن گیا۔ “قلبِ سکون” میں کئی اور کردار بھی شامل ہیں، مگر کہانی کا اصل محور انس اور اروبا کی محبت ہے۔

“قلبِ سکون” کو ردا نے 3 اکتوبر 2024 کو لکھنا شروع کیا تھا، اور اس کا اختتام کب ہو گا، یہ وہ نہیں جانتیں۔ یہ ناول ہمیشہ ان کا پسندیدہ رہے گا۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ اور نہیں، مگر ایک رائٹر کے پاس ہمیشہ تخلیق کردہ خیالات اور کہانیاں ہوتی ہیں۔

Raaz e hayat by Mehak Writes Complete novel

  • by

سوات کی وادیوں میں

بنی اِک داستان

رشتوں کی

بدلے کی

بے قدری کی

جیت اور ہار کی ۔۔۔

کیا تم نے ایسا انسان دیکھا ہے جو جیت کر بھی ہار گیا ہو۔۔۔

کیا تم نے ایسے جزبے محسوس کیے ہے جو بے وفا ہونے کے بعد بھی سچے ہو۔۔۔

کیا تم نے کبھی سونے کی چمک میں آنا کا خول دیکھا ہے۔

کیا تم نے کبھی سفید رنگ میں چھپے رنگوں کو دیکھا ہے ۔۔۔

کسی سیاہ کو سفید کے سنگ دیکھا ہے ۔

کیا تم نے کبھی آنسوئوں کی ناقدری دیکھی ہے۔۔۔

آئے شروع کرتے سفید سے سیاہ اور سیاہ کو سفید میں بدلنے تک کا سفر ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔