Mery Humsafar novel by Saima Shaheen
Mery Humsafar novel by Saima Shaheen یہ کہانی ہے دو خود مختار انسانوں کی خود آگہی کی۔ جن کو ان کی تقدیر ایک ساتھ لے… Read More »Mery Humsafar novel by Saima Shaheen
Mery Humsafar novel by Saima Shaheen یہ کہانی ہے دو خود مختار انسانوں کی خود آگہی کی۔ جن کو ان کی تقدیر ایک ساتھ لے… Read More »Mery Humsafar novel by Saima Shaheen
دائرے میں، “خود سے خود تک” ایک یادگار کام کے طور پر ابھرتا ہے جو کہ کہانی سنانے کی حدود کو عبور کر کے انسانی تجربے کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک ممتاز پاکستانی مصنف کی طرف سے لکھا گیا، یہ عظیم نظم انسانی جذبات، رشتوں اور خود کی دریافت کی جانب پیچیدہ سفر کی ایک ٹیپسٹری کو ایک ساتھ باندھتا ہے، جس کا تجربہ سالار اور امامہ کے کرداروں نے کیا ہے۔
سالار، زندگی کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے جذبے کے ساتھ ایک سوچنے والی روح، خود آگاہی سے خود پسندی تک ایک تبدیلی کی تلاش کا آغاز کرتی ہے۔ اس کا سفر خود شناسی، اندرونی انتشار، اور گہرے انکشافات کے لمحات سے نشان زد ہے جب وہ اپنی نفسیات اور رشتوں کی پیچیدگیوں کو نیویگیٹ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ امامہ ہے، جو ایک پرجوش اور ہمدرد فرد ہے جس کی موجودگی سالار کی داستان میں گہرائی اور وسعت پیدا کرتی ہے۔
“خود سے خودی تک” کے مرکز میں تبدیلی اور ترقی کا ایک لازوال پیغام ہے، جو اس کے عنوان “خود سے خودی تک” کے پُرجوش ترجمے میں شامل ہے۔ سالار اور امامہ کی آپس میں جڑی منزلیں خود شناسی کی عالمگیر جستجو کی آئینہ دار ہیں، کیونکہ وہ اپنے خوف، خواہشات اور خواہشات کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی میں اپنے اصل جوہر اور مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے تعاملات، مکالموں اور مشترکہ تجربات کے ذریعے، ناول انسانی فطرت کی پیچیدگیوں، خود شناسی کی آزمائشوں، اور خود شناسی کی تبدیلی کی طاقت کو بیان کرتا ہے۔
“زندگی بھی کیسے عجیب کھیل کھیلتی ہے۔”یہ جملہ آپ اکثر سنتے رہ گئیتے ہیں۔کیا کھیل کھیلتی ہے زندگی ؟کتنی آسانی سے اپنی کی گئی غلطیوں کا ذمےدار ٹھہرا دیتے ہیں ہم زندگی کو۔قصور اپنا ٫غلطیاں اپنی اور الزام سارا زندگی کے کاندھوں پر ۔زندگی دراصل کھیل نہیں ہے ۔زندگی امتحان ہے۔ایک ایسا امتحان جس میں آپ کوئی بھی چیٹنگ کریں گے تو معاملہ اللّٰہ کی عدالت میں جائے گا اور سزا اور جزا بھی منصفانہ ہوگی۔جس کی جتنی غلطی اس کی اتنی سزا۔ایک غلطی مجھ سے بھی ہوئی تھی ۔زندگی کی سب سے بڑی غلطی۔جس اب میں آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔کیا کروں زندگی نے کھیل ہی ایسا کھیلا میرے ساتھ ۔دیکھا ڈال دی نا اپنی غلطی میں نے بھی زندگی کے کاندھوں پہ ۔
Al hijab novel by Hira Ishaq Episode 2 Al hijab novel by Hira IshaqThis is social romantic Urdu novel based on fiction and some of… Read More »Al hijab novel by Hira Ishaq
“آپ کو ایسا نہیں تھا کرنا چاہیے” طاہرہ عام سے حلیے میں کھڑی آنکھوں میں دبہ دبہ سا غصہ لیے کہہ رہی تھی اس کے عام سے حلیے میں بھی ہیل کی ٹک ٹک لبوں کی لپ اسٹک بالوں کا جوڑا کہیں غائب نہ ہوتا تھا
“میں… نے وہی کیا…. جو مجھے کرنا تھا” بلاج حسین نے رک رک کے اپنی بات مکمل کی
“لیکن یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ ایک بیٹے کو آپ زیادہ حصہ دیں اور دوسرے کو کم”
وہ دبا دبا سا چلائی
“تم بھول رہی ہو ۔۔میں نے ۔۔۔۔۔دونوں کو ۔۔برابر برابر دیا ہے سب” انہیں بولنے میں دشواری ہو رہی تھی
“مجھے پتہ ہے تمہیں مسلہ اس بات سے نہیں ہے ، اصل مسلہ تمہیں ساحرہ کو دیے گے اثاثے پر ہے” انہوں نے بہت کوشش سے ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کرنی چاہی
ساحرہ کے نام پہ طاہرہ کے چہرے پہ ایک سایہ سا آیا اور اگلے ہی لمحے گزر گیا
“ہاں مجھے اسی سے مسلہ ہے آخر اپ کیسے اس کو یہ سب دے سکتے ہیں ، حلانکہ خدمت ساری زندگی میں نے کی اپ کی بجائے آپ یہ سب مجھے یا میرے بیٹوں کو دیں آپ اس کے حوالے کر رہے ہیں” اس نے ہاتھ جھلا جھکا کر چینج کہ کہا اس بات کا خیال کیے بغیر کے اسے اپنے سسر کا خیال رکھنا تھا جو چند دن کے ہی مہمان تھے
یہ ایسی داستان کی کہانی ہے جو
کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہی
سونی ہوگی مگر یہ داستان
کیا اس داستان کی طرح ہوگی کیا
اُسکی طرح اُسکا نصیب ہوگا
یا یہ داستان بلکل مختلف ہوگی
جاننے کیلئے پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں آگئی ہیں ابا اور ساتھ میں ایک دلہن بھی لائی ہے اتنی پیاری اتنی خوبصورت بالکل ڈراموں والی۔”
“کون دلہن۔ابا نے اسے ٹوکا۔
“اماں کہہ رہی تھی تمہاری بھابھی ہے۔”اجو نے وفور مسرت سے اگاہ کیا۔
“میری بھابھی۔”ابا نے اچھنبے سے پوچھا شاید ان کے حواس اب تک پوری طرح بیدار نہیں ہوئے تھے۔
“افوہ ابا آپ کی نہیں ہماری بھابی۔آپ کی تو بہو ہوئی نا بس اب جلدی سے آجائیے بھابھی بہت پیاری ہیں ابا بھائی کے ساتھ جوڑی خوب سج رہی ہے۔”اجو بتا کر پھر ڈرائنگ روم کی طرف بھاگا۔ حیران پریشان ابا اس کے پیچھے تھے۔
“آآئیں عمر کے ابا دیکھیں اللہ نے بیٹھے بٹھائے اپنی رحمت سے نواز دیا ہمیں۔ بہو ہے یہ آپ کی۔”انہوں نے مسرور سے انداز میں آگاہ کیا تھا پھر دلہن سے مخاطب ہوئی۔
“چلو بیٹا اپنے ابا کو سلام کرو۔”اور دلہن نے دھیمی سی اواز میں سلام کر کے فورا اماں کے حکم کی تعمیل کی تھی۔
“دنیا سے نرالے ماں باپ۔”عمر بیزار کن تاثرات چہرے پر سجا کر اپنے کمرے میں آگیا۔
“بہت ہو گئی عمر اپنے چہرے کے زاویے درست کر لیں۔”اماں الٹا اس پر ہی بگڑی پھر عفی کا شانہ پکڑ کر ہلایا تھا۔
“سونے دیں نا صبح ملے گا اپ کی بہو سے۔”وہ بیزاری سے بولا تھا۔
“کیسے سونے دوں پھر بہو کہاں سوئے گی۔”اماں نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا اور وہ تو گویا کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔
“کیا مطلب ہے اپ کا اپنی بہو کو اپنے پاس سلائیں میرا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اس سے۔”
“تیرا دماغ تو نہیں چل گیا عمر۔”اماں نے خفگی سے اسے دیکھا۔
Raz e junoon novel by Wareesha Ehsan Raz e junoon novel by Wareesha Ehsan . This is a social romantic novel by the writer as… Read More »Raz e junoon novel by Wareesha Ehsan
Hidayat novel by Rimsha Hidayat novel by Rimsha. This is a social romantic novel by the writer as she has written many novels. The novel… Read More »Hidayat novel by Rimsha
اس لڑکی پر منحصر ہے جو بہت ہی خوب صورت ہے۔ یہ کہانی ایک معصوم سی لڑکی کی ہے اور اس کے خواب اور خواہشیں بھی اتنی ہی معصوم اور خوبصورت ہیں۔ جس کا نام ماہی ہے اس کے خاندان میں ماں باپ اور دو بڑے بہن بھائی ہے۔ جو کہ جڑواں ہیں۔ بہن کا نام دی نینا ہے اور بھائی کا نام وقار ہے۔ باپ کا نام احمد شاہ ہے اور ماں کا نام عالیہ ہے۔ آج سے 22 سال پہلے احمد شاہ کی شادی عالیہ سے ہوئی جو کہ ان محبت کی شادی تھی احمد شاہ اور عالیہ شاہ دونوں کزن تھے یہ ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ احمد شاہ شادی کے بعد می اپنی بیگم سے سے ویسے ہی محبت کرتے رہے جیسے ہمیشہ کرتے تھے