Skip to content
Home » Social media writers » Qurrat Ul Ain

Qurrat Ul Ain

Saneha afsana by Qurrat Ul Ain Ainee

  • by

’’؎ ہر دیہات کھیت پر کھلیان سلامت

کوہسا ر درخشاں، تیرے میدان سلامت

مزدور، معلم، یہ قلمکار ،ہنرور

اے پاک وطن تیر ا ہر عنوان سلامت‘‘

ماریہ نے ہمیشہ کی طرح اپنا پسندیدہ شعر اُونچی آواز میں دہرایا۔اُسے یہ شعر بچپن سے بہت پسند تھا

’’ہاں،ہاں۔ مزدور، معلم، ہنرور ، لکھاری ،سبھی اچھے اور عظیم۔ ایک ہم فوجی بُرے ، جو کبھی تمہارے شعروں میں نہیں آتے۔ میں تو اسی آس میں رہ جاتا ہوں کے شاید میری بہن میری اور پاک افواج کی تعریف کر دے ۔مگر نہیں، دن رات اپنے سکول کی تعریفیں یا کھیتوں کو دُعائیں۔ نہیں دُعا دینی تو صرف فوجیوں کو۔چڑیل،بھتنی۔‘‘علی نے اُونچی آواز میں اُسے کوسا۔

Chasham e tar short novel by Qurrat Ul Ain

  • by

“تم کیا سوچتی ہو۔۔۔۔تم یہ کیس جیت جاؤ گی۔۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گا”کرن اکبر کی اس بات کے جواب میں اسے تنزیہ مسکراہٹ دیتی ہے۔

“یہ کیس میں ہی جیتوں گا۔۔۔۔کشف میری بیٹی ہے اور میرے پاس ہی رہے گی۔۔۔سمجھجی تم”

کرن “اور اگر میں جیت گیٔ تو……؟؟؟” کرن اکبر کی بات ٹوکتے ہوۓ۔

” اور۔۔۔۔اگر۔۔۔۔اگر تم جیت گیٔ تو۔۔۔۔تو۔۔۔دیکھو بی بی اگر تم جیت گیٔ تو میں تمہاری بیٹی کا نام ونشان صفح ہستی سے مٹا دوں گا۔۔اور تم جانتی ہو میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔۔اگر اپنی بیٹی کی زندگی چاہتی ہو۔۔۔تو یہ کیس وآپس لے لو۔۔۔ورنہ ساری زندگی کے لیے تمہیں اپنی بیٹی کی موت کا پچھتاوا رہے گا۔۔۔سوچ لو”کرن اکبر کی یہ دھمکی سنتے ہی اہم سی جاتی ہے کیونکہ وہ اس انا پرست شخص سے اچھی طرح واقف ہوتی ہے۔کرن درد بھری آواز میں

“ٹھیک ہے میں اپنا کیس وآپس لیتی ہوں۔۔۔مگر تمہیں خدا کا واسطہ میری بچی کو کویٔ نقصان مت پہنچانا”

“دیکھو تم ہار گیٔ اور میں جیت گیا” اکبر فخریہ انداز میں قہقہ لگاتے ہوۓ۔

“آج ایک عورت ہار گیٔ مگر ایک ماں جیت گیٔ”کرن درد بھرے لہجے میں یہ کہتے ہوۓ تھوڑے ہی فاصلے پر پڑے بنچ پر بیٹھی کشف اور روبینہ کی طرف بھاگتی ہے اور کشف کو سینے سے لگاتے ہوۓ دھارے مار مار کر رونا شروع کر دیتی ہے۔پھر کشف کے ماتھے پر چومتی ہے اور صرف اور صرف اپنی بیٹی کی زندگی کی خاطر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ کر کمرہ عدالت سے باہر نکلنے لگتی ہے پھر مر کر اپنی معصوم بیٹی کو دیکھتی ہے اور وہاں سے چلی جاتی ہے۔