Skip to content
Home » Social media writers » Rimsha Riaz » Page 3

Rimsha Riaz

Pyar ek shart pe by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

کیا ہوا کیوں آگئی کلاس میں تو ٹائم ہے، ؟

تمھیں کیا لگا تم نے تو ویسے بھی ٹائم پاس ہی کرنا ہے نا ایحان اور اس بار مجھ سے کر رہے ہو! مسفرہ تڑخ کہ بولی

کیا کہہ رہی ہو مسفرہ ، وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگا

تم مجھ پہ شرط لگا بیٹھے ایحان کیا میں اتنی سستی اور گری پڑی چیز ہوں ، وہ پھٹ پڑی

تم غلط سمجھ رہی ہو وہ بس مذاق تھا مسفرہ ، مگر میں نے تم سے منگنی کی ہے میں پیار کرتا

منگنی کچا رشتہ ہوتا ہے اور جب تمھارا ٹائم پاس ہو جائے گا تو چھوڑ جاؤ گے ناں ، وہ ہنسی ایک تھپڑ اس کے گال چھو گیا ۔

جان نکال کہ رکھ دوں گا تمھاری اگر ایسا کچھ زہن میں لایا ، اور رہی بات نکاح کی تو ہمارا نکاح اب اسی ہفتے ہو گا آئی سمجھ وہ اس کا بازو پکڑ کہ بولا

مجھے نہیں کرنی

اہاں! سوچنا بھی مت ! ایحان نے گرفت بڑھائئ

بہت برے ہو تم! وہ چھڑاتے ہوئے بولی

اچھا ہو سکتا ہوں ، شرط اگر لگا بھی لی تو کیا ہو گیا کہ آج تک تمھارے ساتھ کچھ برا کیا نہیں نا! وہ اس کو سہلاتے ہوئے بولا ۔

وہ ناں میں سر ہلانے لگی

تو پھر، اس نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی

غصہ ہو مجھ پہ؟

ہمم تھوڑا سا، وہ معصومیت سے بولی

اوکے ٹیک یور ٹائم۔وہ کمفرٹ ٹیبل کر رہا تھا۔

ایحان ! سوری تو بولو!

نہیں یار میری ایگو ہرٹ ہوگی! وہ ہنسا

پر تم شادی کے بعد برتن دھو گے تو سوری تو پھر چھوٹی سے چیز ہے، وہ معصومیت سجائے بولی

وہاٹ! تم مجھ پ

سے برتن دھلاو گی، وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کہ بولا

استری بھی کر سکتے ہو ، سنڈے کو صفائی مل کر کر لیں گے ناں ، وہ پلان بتا رہی تھی

توبہ توبہ ! تمںیں شوہر نہیں نوکر چاہیے مجھے زن مرید نہیں بننا بھیئ

Koh e ana novel by Rimsha Riaz 

  • by

بولو کیوں بلایا ہے ؟ ارسلان سلور شرٹ بلیک پینٹ میں ملبوس ماتھے پہ تیوریاں لیے ہانیہ کے سامنے کھڑا تھا۔

ارے سانیس تو بحال کریں۔ آرام سے بیٹھ جائیں ۔ ہانیہ ڈھٹائی سے بولی ۔

وہ سامنے کی سیٹ پہ براجمان ہوا ۔ چہرے پہ ناگواری کے تاثرات تھے۔

بولو جلدی ٹائم نہیں ہے! وہ گھڑی دیکھتے بولا ۔

ارسلان آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں اپ سے بہت پیار۔۔۔۔

ہانیہ تمھارے دماغ میں یہ بات کب بیٹھے گی ہاں کہ میں نہیں کرتا پیار وار کچھ بھی۔

دیکھو ارسلان ؟ اس نے بے باکی سے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا ارسلان نے جھٹک دیا۔

ہاتھوں کو قابو میں رکھو ہانیہ ۔ مجھ سے دور رہا کرو میں نہیں کرتا پیار ۔

تو کیا اس عنائشہ سے کرتے ہو ہاں ۔ سننا چاہو گے کہ وہ تمھارے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ سنو گے تو سنو پھر۔ اس نے ریکارڈنگ چلا دی۔

وہ اک دن پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ارسلان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔مگر سن کے وہ مسکرایا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے فون لیا ۔

کیوں اپنے آپ پہ ہنس رہے ہو کیا؟ وہ استہزاء سے تکنے لگی۔

ارے نہیں تم پہ۔ تمھیں کیا لگا تمھاری اس حرکت سے تم پہ دل آجاے گا۔ ہاں وہ پاک ہے تم سے بے باک نہیں ، وہ مردوں سے نہیں چپکتی اور مجھے فخر ہے اپنی پسند پہ۔ اور ہاں آئندہ اس کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا ورنہ ۔ اس نے انگلی سے تنبیہ کی۔وہ اک دم سہم گئی ۔

Hasad novel by Rimsha Riaz

  • by

بات کم کرتی ہے چیختی بہت ہے ، بٹ تم کوشش کرنا یہ تمھیں کچھ بتا دے ہماری بھی مدد ہو جایے گی، کالا چشمہ سر پہ ٹکائے وہ اس کے ہم قدم تھی

افکورس لیڈی! میں پوری کوشش کروں گی اوکے! ناؤ لے چلو مجھے اس کے پاس مالا!

ہہمم دوست ہو تم تب ہی لے کر جا رہی ورنہ! اس نے منہ بنایا

اب ایموشنل بلیک میل مت کرو اور چلو ! وہ اسے تقریبا گھسٹتے ہوئے لے کر جانے لگی

٭٭

سب دھوکہ ہے،

جو ہوا کھیل پھیل رہی ہے نحوست ہے،

یہ جو حال ہے میرا حسد ہے

کھا ہی جاتا ہے سپنے بھی

اپنے بھی لے ڈوبتا ہے

گر تم جانو! یہ مرض تمھیں راکھ کر دیتا ہے

کچھ نہیں بچتا تمھارے ہاتھ میں ۔

سلور رنگ کے شلوار قمیص بکھرے الجھے بال ہاتھوں میں ناخنوں کے نشانات ، مردہ چہرہ اس پہ چھائیاں ہونٹ پھٹے ہوئے ماتھے پہ نیل پڑا ہوا وہ بے نیاز زمین پہ لیٹی بڑبڑا رہی تھی اس کے پتلے سے ناک میں لونگ تھے جو اس کسی کی آخری نشانی تھی ۔

پھر سے اگی تم ! دروازے کی چاپ پہ وہ بنا اٹھے بولی