Pyar ek shart pe by Rimsha Riaz Complete novel
کیا ہوا کیوں آگئی کلاس میں تو ٹائم ہے، ؟
تمھیں کیا لگا تم نے تو ویسے بھی ٹائم پاس ہی کرنا ہے نا ایحان اور اس بار مجھ سے کر رہے ہو! مسفرہ تڑخ کہ بولی
کیا کہہ رہی ہو مسفرہ ، وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگا
تم مجھ پہ شرط لگا بیٹھے ایحان کیا میں اتنی سستی اور گری پڑی چیز ہوں ، وہ پھٹ پڑی
تم غلط سمجھ رہی ہو وہ بس مذاق تھا مسفرہ ، مگر میں نے تم سے منگنی کی ہے میں پیار کرتا
منگنی کچا رشتہ ہوتا ہے اور جب تمھارا ٹائم پاس ہو جائے گا تو چھوڑ جاؤ گے ناں ، وہ ہنسی ایک تھپڑ اس کے گال چھو گیا ۔
جان نکال کہ رکھ دوں گا تمھاری اگر ایسا کچھ زہن میں لایا ، اور رہی بات نکاح کی تو ہمارا نکاح اب اسی ہفتے ہو گا آئی سمجھ وہ اس کا بازو پکڑ کہ بولا
مجھے نہیں کرنی
اہاں! سوچنا بھی مت ! ایحان نے گرفت بڑھائئ
بہت برے ہو تم! وہ چھڑاتے ہوئے بولی
اچھا ہو سکتا ہوں ، شرط اگر لگا بھی لی تو کیا ہو گیا کہ آج تک تمھارے ساتھ کچھ برا کیا نہیں نا! وہ اس کو سہلاتے ہوئے بولا ۔
وہ ناں میں سر ہلانے لگی
تو پھر، اس نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی
غصہ ہو مجھ پہ؟
ہمم تھوڑا سا، وہ معصومیت سے بولی
اوکے ٹیک یور ٹائم۔وہ کمفرٹ ٹیبل کر رہا تھا۔
ایحان ! سوری تو بولو!
نہیں یار میری ایگو ہرٹ ہوگی! وہ ہنسا
پر تم شادی کے بعد برتن دھو گے تو سوری تو پھر چھوٹی سے چیز ہے، وہ معصومیت سجائے بولی
وہاٹ! تم مجھ پ
سے برتن دھلاو گی، وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کہ بولا
استری بھی کر سکتے ہو ، سنڈے کو صفائی مل کر کر لیں گے ناں ، وہ پلان بتا رہی تھی
توبہ توبہ ! تمںیں شوہر نہیں نوکر چاہیے مجھے زن مرید نہیں بننا بھیئ



